روزہ رکھنے کے لیے دل میں یہ ارادہ ہونا ضروری ھے کہ میں فلاں ( فرض ، واجب اور نفل وغیرہ ) روزے کی نیت کرتا ھوں
نیت کے بنیادی احکام
دل کا ارادہ
- روزہ رکھنے کے لیے دل میں یہ ارادہ ہونا کافی ہے کہ میں کل کا روزہ رکھ رہا ھوں.
- زبان سے کہنا
- زبان سے نیت کے الفاظ (مثلاً "نویت ان صوم غد...") وغیرہ کہنا مستحب تو ہے، فرض یا واجب نہیں۔
- فرض روزے کی نیت کا وقت
- فرض روزے (رمضان المبارک) کے لیے رات سے لے کر صبح صادق (فجر کا وقت شروع ہونے) تک نیت کرنا درست اور افضل ہے۔ رمضان کے فرض روزے میں زوال سے پہلے پہلے بھی نیت کرنے کی گنجائش ہوتی ہے بشرطیکہ صبح صادق کے بعد سے کوئی ایسی چیز نہ کی ہو جو روزے کو توڑنے والی ہو۔
قضا روزے کی نیت کا حکم
- وقت کی شرط: رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کے لیے رات ہی سے یا صبحِ صادق (فجر کا وقت شروع ہونے) سے پہلے پہلے نیت کرنا شرط ہے۔
- اگر صبحِ صادق ہو جائے اور آپ نے قضا کی نیت نہ کی ہو، تو اس دن قضا کا روزہ نہیں رکھا جا سکتا۔ (اگر کچھ کھایا پیا نہ ہو تو صرف نفل روزہ کی نیت ہو سکتی ہے)۔
- خاص تعیین: نیت میں یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ آپ کس مخصوص فرض روزے کی قضا کر رہے ہیں۔
نذر (منت) کے روزے کی نیت
نذر کے روزوں کی دو اقسام ہیں اور دونوں کے وقت الگ ہیں:
- نذرِ معین (مقرر منت): اگر آپ نے دن مقرر کیا ہو (مثلاً: "جمعرات کو روزہ رکھوں گا")، تو اس کی نیت رات سے بھی ہو سکتی ہے اور اگلے دن نصف النہار (دوپہر شرعی) سے پہلے تک بھی کی جا سکتی ہے۔
- نذرِ غیر معین (مطلق منت): اگر دن مقرر نہ ہو (مثلاً: "میرا کام ہوا تو ایک روزہ رکھوں گا")، تو اس کی نیت بھی قضا روزے کی طرح صبحِ صادق سے پہلے پہلے کرنا لازم ہے۔ صبح کے بعد نیت کرنے سے نذر پوری نہیں ہوگی۔
نفلی روزے کی نیت کا حکم
- وقت کی سہولت: نفلی روزے کی نیت رات کو بھی کی جا سکتی ہے اور اگلے دن نصف النہار (زوال / دوپہر شرعی سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے) تک بھی کی جا سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ صبحِ صادق سے لے نیت کرنے کے وقت تک آپ نے کچھ کھایا پیا نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسا کام کیا ہو جس سے روزہ ٹوٹتا ہے۔