خیر القرون سے عصر حاضر تک کے جمہور علماء فقہاء اور محدثین کرام قرآن کریم اور سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں سونے چاندی کے استعمالی و غیر استعمالی تمام زیورات پر وجوب زکوة کے قائل ھیں کیونکہ قرآن و سنت کے عمومی احکام میں سونے چاندی پر بغیر کسی استعمالی یا غیر استعمالی شرط کے زکوة واجب ھونے کا ذکر آیا ھے اور عدم ادائیگی پر شدید وعیدیں وارد ھوئی ھیں
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ھے
وَالَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟ۙ
اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔[
یہ بات سمجھنی ضروری ھے کہ زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح مالِ تجارت پر ضروری ہے، زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح نقدی ، سونا اور چاندی وغیرہ مرد کے پاس ہو اُس پر زکوة ضروری ہے، اسی طرح خاتون کے پاس جو قابل زکوة اموال ہوں اُن پر بھی زكوة ضروری ہے، اسی طرح اگر کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں اور وہ زیورات ساڑھے باون تولہ چاندی ہو۔ یا ساڑھے سات تولے سونا ہو۔ یا کچھ سونا ہے اور کچھ چاندی کے زیور ہیں، دونوں کی قیمت کو ملائیں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو۔ یا کسی کے پاس سونا ہے اور کچھ پیسے ہیں، اب سونے کو بیچیں، وہ پیسے، اور جو پیسے موجود ہیں، ان دونوں کو جمع کریں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، تو ایسی عورت پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ چاھے وہ زیورات استعمال میں ھوں یا نہ ھوں
ایسی کون سی خاتون دنیا میں ہو گی کہ جس کے پاس صرف زیور ہو، باقی ایک روپیہ بھی نہ ہو، ایک درہم نہ ہو، ایک دینار نہ ہو، ایک ڈالر نہ ہو، ایک پاؤنڈ نہ ہو، کوئی اس کے پاس اور کرنسی میں پیسے موجود نہ ہوں۔ کوئی ایسی عورت نہیں ملے گی۔ اس لیے خواتین اس مسئلے کو بطور خاص سمجھیں کہ استعمالی اور غیر استعمالی زیور پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اگر زکوٰۃ ادا کر سکتی ہیں تو زیور رکھیں، اور اگر زکوٰۃ نہیں ادا کر سکتیں تو زیور فروخت کر دیں، اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیں، کسی کام میں استعمال کے اندر لے آئیں، خوامخواہ جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔
ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ، سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ، میں یہ روایت موجود ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت فرماتے ہیں کہ ایک صحابیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی، ’’ومعہا ابنۃ لہا‘‘۔ اور وہ بیٹی ’’وفی ید ابنتہا مسکتان غلیظتان من ذہب‘‘ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو بھاری کنگن تھے۔ سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا، ’’اتعطین زکوٰۃ ہذا؟‘‘ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس نے کہا ’’لا‘‘، اللہ کے رسول! میں تو ادا نہیں کرتی۔ فرمایا، ’’ایسرک ان یسورک اللہ بہما یوم القیامۃ سوارین من نار؟‘‘ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ ان دو کنگنوں کے بدلے میں اس بیٹی کو جہنم کی آگ کے دو کنگن پہنا دیے جائیں۔ اس عورت نے فورًا ان کو نکالا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ’’فخلعتہما الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ اور کہا، اللہ کے رسول! یہ اللہ کے راستے میں صدقہ ہے، قبول فرما لیجیے۔
تو غور فرمائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے استعمالی زیور پر کس قدر سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس قدر سخت تنبیہ فرمائیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم استعمالی زیور پر زکوٰۃ کی بات فرمائیں، تو پھر بھلا دوسرا کوئی کون ہوتا ھے جو اپنی طرف سے زکوة نہ دینے کی گنجائش پیدا کرنے والا ؟
یہ بات بھی ذہن نشین فرما لیں، مرد کے لیے سونے کی کوئی بھی چیز پہننا حرام ہے۔ چاندی کی زیادہ سے زیادہ ساڑھے چار ماشہ تک کی اجازت تو ہے لیکن مستحب یا بہتر یہ بھی نہیں ھے ۔ اگر مرد کے پاس بھی سونے کی انگوٹھی یا کوئی اور سونے کا زیور موجود ہو جیسا کہ بعض مردوں کو بھی یہ حرام شوق ہوتا ہے، وہ کنگن پہنتے ہیں۔ بعض مردوں کو شوق ہوتا ہے، انگوٹھیاں پہنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ تاھم اس مرد پر بھی اس زیور پر زکوٰۃ فرض ہو گی۔ عورت تو پہنتی ہے، اس کو اچھا لگتا ہے، زیب و زینت اس کی شان کے لائق ہے، لیکن مرد اگر زیور پہننے کا جرم کرتا ہو، وہ فعلِ حرام کا جرم اپنی جگہ ھے لیکن یہ بات ذہن نشین فرما لیں کہ اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا ھر صورت ضروری ہو گا۔
خلاصئہ کلام یہ کہ کہ استعمالی اور غیر استعمالی زیورات پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا لازم اور ضروری ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی بھی کوتاہی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ وگرنہ مرنے میں تو کسی کو بھی کوئی شک نہیں ھے تو مرنے کے بعد آخرت میں اس کی جواب دھی ھو گی