مال کے اعتبار سے فرضیتِ زکوة کی چھ شرائط ھیں جو مندرجہ ذیل ھیں
مال مکمل ملکیت میں ھو
صاحبِ نصاب کی کسی چیز کی مکمل ملکیت تب ثابت ھوتی ھے جب وہ اس کا مالک ھو اور اس پر اس کا قبضہ بھی ھو لہذا ایسا مال جس پر بطورِ آمانت قبضہ ھو اس پر زکوة نہیں ھے ۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا اور پھر برسوں بعد وہ جگہ یاد آئی اور مال مل گیا، تو جب تک مال نہ ملا تھا اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وہ اس عرصہ میں نصاب کا مالک تو تھا مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے طور پر مالک نہ تھا۔ اسی طرح وہ مال جو عورت کو بطورِ حق مہر ملے لیکن عورت نے اس ہر قبضہ نہ کیا ھو اس پر بھی زکوة نہیں ھے
مال نصاب کے بقدر ھو
شریعت کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق مال ھو گا تو زکوة واجب ھو گی اگر نصاب سے کم مال ھو تو مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
مال حاجاتِ اصلیہ سے زائد ھو
حاجاتِ اصلیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو زندگی بسر کرنے میں بعض بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے رہنے کیلئے مکان، پہننے کیلئے بلحاظ موسم کپڑے، سواری کے لئے گاڑی ، گھریلو اشیائے ضرورت جیسے فرنیچر ، برتن، الات صنعت و حرفت یعنی روزگار کے لئے خریدے ھوئے اوزار ، مطالعہ کے لئے کتابیں ، حفاظت کی غرض سے خریدا ھوا آسلحہ وغیرہ۔ اگرچہ یہ سب سامان زکوٰۃ کے مقررہ نصاب سے زائد مالیت کا ہی ہو مگر اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب مال و سامان حاجاتِ اصلیہ میں آتا ہے۔
مال دَین (قرض ) سے خالی ھو
مثلاً کسی کے پاس مقررہ نصاب کے برابر مال تو ہے مگر وہ اتنے مال کا مقروض بھی ہے تو اس کا مال قرض سے خالی نہیں ہے لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ البتہ اگر قرض مائنس کرکے بھی مال نصاب کے بقدر باقی بچتا ھو تو ہھر زكوة دینا ھو گی
مال نامی ھو یعنی بڑھنے والا ھو
نامی سے مراد وہ مال ھے جو بڑھنے والا ہو خواہ حقیقتاً بڑھنے والا مال ہو جیسے مال تجارت اور چرائی پر چھوڑے ہوئے جانور یا حکماً بڑھنے والا مال ہو جیسے سونا چاندی۔ یہ ایسا مال ہے جس کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس کے بدلے دیگر اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا سونا چاندی جس حال میں بھی ہو خواہ زیورات اور برتنوں کی شکل میں ہو یا زمین میں دفن ہو ہر حال میں یہ مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال ہے اور ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر مال بڑھنے والا نہ ھو اگر چہ ضرورت سے زائد ھو اس پر زکوة فرض نہیں ھو گی
مال نامی چار ھیں
۱- سونا (خواہ جسی بھی شکل میں ھو مثلا زیورات، ڈلی، بسکٹ، سکے وغیرہ
۲- چاندی (خواہ جسی بھی شکل میں ھو مثلا زیورات، ڈلی، بسکٹ، سکے وغیرہ
۳- نقدی رقم
۴- مالِ تجارت
حولانِ حول یعنی مال پر قمری سال گزر چکا ھو
نصاب کا مال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی بلکہ ایک سال تک وہ نصاب مِلک میں باقی رہے تو سال پورا ہونے کے بعد اس پرزکوٰۃ نکالی جائے گی۔
مال پر سال گزرنے کا یہ مطلب نہیں ھے کہ ھر ھر روپے یا مال پر سال گزرے بلکہ جس تاریخ کو اپ کے ہاس پیسہ یا نصاب موجود ھو وہ تاریخ قمری مہینے کے حساب سے طے کرلیں اگر تاریخ یاد نہ ھو تو اندازے سے قمری تاریخ طے کر لیں اور آئندہ سال جب وہ تاریخ آئے تو جتنا مال اس وقت موجود ھو اس کا حساب کرکے زکوة دے دیں۔ مال خواہ سال کے کسی بھی حصہ میں آپ کے پاس آیا ھو
مثلا آپ کی زكوة نکالنے کی تاریخ دس رمضان المبارک ھے اب دس رمضان المبارک والے دن جتنا بھی مال آپ کے پاس موجود ھو گا ، اس پر زکوة فرض ھو گی