صور پھونکا جانا اور قیامت کا قائم ہونا 

ان تمام علامات کے واقع ہوجانے کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ  بہت مزے سے زندگی گزار رھے ھوں ھے کہ ایک دن جب  جمعہ کا دن ہوگا، لوگ معمول کے مطابق اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوں گے کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے گی، دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، اس کو سمیٹ نہ سکیں گے اور نہ ہی خرید و فروخت کرسکیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنی اُونٹنی کا دُودھ لے کر جائے گا اور اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنے پانی والے حوض کی مرمت کر رہا ہوگا اور اس سے پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص نے نوالہ منہ کی طرف اُٹھایا ہوگا اسے منہ میں ڈال نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ قیامت حضرت اسرافیل علیہ السلام  کے صور پھونکنے سے برپا ہوگی جس کی آواز پہلے ہلکی اور پھر اس قدر ہیبت ناک ہوگی کہ اس سے سب جاندار مرجائیں گے، زمین و آسمان پھٹ جائیں گے، ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر فنا ہوجائے گی، چالیس سال بعد دوبارہ حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے جس سے سب زندہ ہوکر میدانِ محشر میں جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔

قیامت کے آغاز کے بارے میں اسلامی عقیدے کے مطابق، صور پھونکنے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا حکم دے گا، تو حضرت اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دیا جائے گا۔


صور پھونکنے کے دو مراحل ہیں:


1. *پہلا صور*: اس پہلے صور کے پھونکنے سے تمام موجودات پر خوف طاری ہوگا اور زمین و آسمان کی تمام مخلوق ہلاک ہو جائے گی، سوائے ان کے جنہیں اللہ بچانا چاہے۔

2. *دوسرا صور*: پہلے صور کے بعد ایک مدت کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا، جس سے مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور میدان حشر میں جمع ہوں گے۔


یہ عقیدہ اسلامی روایات اور قرآن کی آیات (مثلاً صورہ الزمر: 68) سے ماخوذ ہے۔

Share:

عدن سے نکلنے والی آگ ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 علاماتِ کبری کی آخری نشانی

قربِ قیامت میں یمن سے ایک بہت بڑی آگ نکلے گی ۔ عدن سے نکلنے والی آگ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے احادیث مبارکہ  کے مطابق، یمن کے شہر عدن کی گہرائیوں سے ایک عظیم الشان آگ نمودار ہوگی جو لوگوں کو ہانک کر حشر کے میدان کی طرف (ملکِ شام) لے جائے گی۔ اس آگ کی نمایاں تفصیلات اسلامی روایات میں یوں ملتی ہیں کہ  یہ آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ چلے گی۔ دن کو آرام (قیلولہ) کرنے کی جگہ پر یہ بھی رکے گی اور رات کو قیام کرنے کی جگہ پر بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی ۔ یہ آگ دنیاوی نظام کے اختتام اور آخرت کی ابتدا کا گویا ایک اعلان ھو گا ۔ یہ وہ آگ ہے جو عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو ھانک کر محشر کی طرف لے جائے گی؛ یعنی لوگوں کو مجبور کرے گی کہ وہ بلادِ شام کی طرف، جو ارضِ محشر ہے، روانہ ہوں۔ یہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سب سے آخری نشانی ھو گی گویا  یہ دنیا کے اختتام اور آخرت کی ابتدا کا اعلان  ھو گا 

یہ واضح رھے کہ یہ آگ لوگوں کو جلانے کے لیے نہیں ہوگی، بلکہ جہاں لوگ ٹھہریں گے یہ بھی رک جائے گی اور جب وہ چلیں گے تو یہ بھی ان کے پیچھے چلے گی۔ گویا یہ آگ عذاب کے لئے نہیں، بلکہ صرف لوگوں کو ارضِ محشر تک پہنچانے کے لیے ہوگی۔

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں: "نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ہم قیامت کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو: دھواں ، دجال ، دابۃ الارض ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، عیسیٰ ابن مریم کا نزول ، یاجوج ماجوج اور تین خسوف: ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ عدن کی طرف سے نکلے گی جو لوگوں کو ان کے محشر کی طرف ہانک دے گی۔"

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما بیان کرتے ہیں: "نبی  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قیامت سے پہلے حضرموت کے سمندر یا حضرموت سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو جمع کر کے لے جائے گی۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ ہمیں کس جگہ جانے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمایا: شام کی طرف۔

نبی  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "ایک آگ اہلِ مشرق پر مسلط کی جائے گی جو انھیں مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی۔ وہ ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، دن میں ان کے ساتھ قیام کرے گی جہاں وہ قیام کریں گے، جو چیز ان سے گر جائے گی وہ اسے اٹھا لے گی اور انھیں ایسے ہانکے گی جیسے ٹوٹا ہوا اونٹ ہانکا جاتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "لوگ تین طرح پر جمع کیے جائیں گے: کچھ لوگ خوش دلی اور شوق سے، کچھ لوگ خوف اور دباؤ سے، دو آدمی ایک اونٹ پر، تین ایک اونٹ پر، چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی، وہ جہاں قیام کریں گے آگ بھی قیام کرے گی، جہاں رات گزاریں گے آگ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی، جہاں صبح کریں گے آگ بھی صبح کرے گی اور جہاں شام کریں گے آگ بھی ان کے ساتھ شام کرے گی۔

حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں: "مجھے صادق و مصدوق نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتایا کہ لوگ تین گروہوں میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروہ جو کھاتا پیتا، لباس پہنے اور سواری پر ہوگا؛ دوسرا گروہ جو پیدل چلے گا اور دوڑے گا؛ اور تیسرا گروہ جسے فرشتے گھسیٹ کر ان کے چہروں کے بل آگ کی طرف لے جائیں گے۔ ہم نے کہا: اے ابو زر! ان میں سے پہلے دو گروہوں کو تو ہم نے سمجھ لیا، لیکن جو لوگ پیدل چلیں گے اور دوڑیں گے ان کا حال کیا ہوگا؟ ابو زر نے کہا: اللہ تعالیٰ زمین کے جانوروں پر آفت نازل کرے گا یہاں تک کہ سواری کے لیے کوئی جانور باقی نہ رہے۔

سر زمین حجاز سے  654 ہجری میں ایک آگ نکلی تھی جس کا آغاز ایک زلزلے سے ہوا تھا۔ اس آگ کے شعلے بلند ہوئے تھے اور پھر وہ خود بخود ختم ہوگئی تھی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہی آگ تھی جو حشر کے لیے لوگوں کو ہانک لے جائے گی لیکن یہ بات درست نہیں ھے کیونکہ حدیث سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ حشر کی آگ ہے بلکہ یہ ایک الگ سے آگ تھی جس کا ذکر بھی روایات میں آیا ھے ۔ رھی یمن سے نکلنے والی آگ تو  اس آگ  سے مراد قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے جو قرب قیامت میں نمودار ھو گی اور یہ آگ لوگوں کو ہانک کر محشر کی طرف لےجائے گی، اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی جیسا کہ دوسری احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نےفرمایا: ”لوگوں کو آگ ھانک کر لے جائے گی اور وہ دن رات ان کے ساتھ رہے گی۔ “  (صحیح البخاري )

روایات کے مطابق  قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے آخری علامت  یمن سے آگ کا نکلنا ہے، اس وقت دنیا میں حالات کچھ اس طرح ھوں گے کہ  قیامت کا صور پھونکے جانے سے پہلے زمین پر بت پرستی اور کفر پھیل جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے شام میں جمع ہونے کے اسباب پیدا ہوں گے، شام میں حالات اچھے ہوں گے، لوگ وہاں کا رخ کریں گے، پھر یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ارضِ محشر یعنی شام کی طرف ہانکے گی، جب سب لوگ ملک شام میں پہنچ جائیں گے تو یہ آگ غائب ہوجائے گی، اس کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ مزے سے زندگی بسر کر رہے ہوں گے، کچھ عرصہ اسی حالت میں گزرے گا کہ اچانک صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی


Share:

حبشہ کے کافروں کا بیت اللہ شریف کو گرانا ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


قیامت کی علاماتِ کبری  میں سے ایک بڑی نشانی خانہ کعبہ کا حبشیوں کے ھاتھوں  منہدم  ھونا ھے جو بالکل قیامت کے قریب ھو گا۔ اس وقت حبشہ کے کافروں کا غلبہ ھو گا ۔ ان کے بڑے سردار کا نام  “ جھجاہ “ ھو گا”۔ روئے زمین پر ان ھی کی سلطنت  ھو گی۔  ظلم و فساد عام ھو گا ۔ بے شرمی اور بے حیائی کھلم کھلا ھو گی ۔ لوگ جانوروں کی طرح سڑکوں پر زنا کریں گے ۔ حبشی لوگ خانہ کعبہ کو شہید کر دیں گے

کعبۃُ اللہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں سے ایک عظیمُ الشَّان نشانی ہے ۔ جب تک یہ قائم ہے دنیا باقی ہے جب اس کو گرا دیا جائے گا تو دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی اور قیامت بَرپا ہو جائے گی ۔ قربِ قیامت میں  میں ایک کالا حبشی شخص خانہ کعبہ کو منہدم کرے گا جس کا نام “ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ “  (دو چھوٹی پنڈلیوں والا) ہوگا ۔ اس کا یہ نام اس کی پنڈلیوں کے چھوٹے اور باریک ہونے کی وجہ سے ہوگا ۔ وہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو گرا دے گا ، اس کے غلاف کو اتار دے گا اور اس کے زیورات کو لوٹ لے گا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا۔“ [صحيح البخاری 

جو  اکڑتا ہوا چلے یا چلتے میں اس کے دونوں پنجے تو نزدیک رہیں اور دونوں ایڑیوں میں فاصلہ رہے۔اسے عربی میں افحج کہا جاتا ھے  وہ حبشی مردود جو قیامت کے قریب  خانہ کعبہ کو ڈھائے گا ایک روایت کے مطابق وہ اسی شکل کا ہوگا۔ دوسری روایت میں ہے اس کی آنکھیں نیلی، ناک پھیلی ہوئی ہوگی، پیٹ بڑا ہوگا۔ اس کے ساتھ اور لوگ بھی ہوں گے وہ کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھاڑ ڈالیں گے اور پانی میں لے جاکر پھینک دیں گے۔ یہ قیامت کے بالکل نزدیک ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اہل حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو سوائے “ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ “ حبشی کے کوئی اور نہیں نکالے گا ۔

(سنن أبي داود)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ھے کہ نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا گویا میری نظروں کے سامنے وہ پتلی ٹانگوں والا سیاہ آدمی ہے جو خانہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو اکھاڑ پھینکے گا۔ ( صحیح بخاری)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے روایت کرتے ہیں، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ”جب تک حبشی تم سے تعرض نہ کریں تم بھی ان سے تعرض نہ کرو، کیونکہ کعبہ کا خزانہ باریک پنڈلیوں والا حبشی ہی نکالے گا۔

(رواہ ابوداؤد۔ )

Share:

ٹھنڈی ہوا کا چلنا اور تمام مسلمانوں کا وفات پاجانا ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 “دابة الارض  “ والے واقعہ کے کچھ ہی روز بعد جنوب کی طرف سے ( ملک شام کی طرف  سے ) ایک ٹھنڈی اور نہایت فرحت بخش خوشبو دار ہوا چلے گی، جو ھر ھر مسلمان کو لگے گی جس سے تمام مسلمانوں کی بغل میں کچھ نکل آئے گا، جس سے وہ سب مرجائیں گے، حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان کسی غار میں چھپا ہوا ہوگا اس کو بھی یہ ہوا پہنچے گی اور وہ وہیں مرجائے گا، لیکن کسی کافر کو اس ھوا  کا کوئی اثر نہیں ھوگا  البتہ اگر  کسی کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی ایمان ھو گا تو اس کی بھی موت واقع ہو جائے گی۔اس کے بعد مشرکین اور کافر ھی  باقی رہ جائیں گے  اور پھر  قیامت بھی  انہی پر قائم ہوگی۔ اس ھوا کے بعد  رُوئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہوگا، سب کافر ہوں گے اور شرار الناس یعنی بُرے لوگ باقی رہ جائیں گے۔ 

حدیث مبارکہ میں ھے 

۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد  فرمایا کہ قیامت بدترین لوگوں پر واقع ہوگی، اس وقت مومن اور نیکوکار لوگ  موجود نہیں ہوں گے۔(صحیح مسلم )

یہ ہوا کستوری جیسی خوشبودار اور ریشم کی طرح نرم و لطیف ہوگی۔جو لوگ دنیا میں باقی رہ جائیں گے وہ بدترین اور زانی شرابی انسان ہوں گے، جن کے درمیان گناہ اور بے حیائی عام ہو جائے گی۔ انہی کافروں اور برے لوگوں پر قیامت قائم ہوگی ۔ مسلمانوں کے جانے کے بعد دنیا کا نظام مکمل طور پر بدل جائے گا، کعبہ کو ڈھا دیا جائے گا، اور قرآن پاک دلوں اور اوراق سے اٹھا لیا جائے گا۔

Share:

دخان (دھواں نکلنا) ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

دخان 

دخان عربی لغت میں اُس بخار یا بھاپ کو کہا جاتا ہے جو آگ سے اٹھے جسے ھمارے ھاں دھواں کا نام دیا جاتا ھے۔ ۔ دھواں (Smoke) بھورا یا سیاہی مائل گیسوں اور کاربن کے معلق ذرات کا آمیزہ جو خصوصاً لکڑی، کوئلے یا دوسرے نامیاتی مادوں کے جلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی دینی نصوص میں "دخان" کو اُن واقعات میں ذکر کیا گیا ہے جو دنیا کے خاتمے سے قبل ظاہر ہوں گے اور جنھیں "قیامت کی علامات کبری " کہا جاتا ہے۔ ان بڑی علامات میں سے ایک علامت وہ عظیم دھواں ہے جو آسمان سے ظاہر ہوگا اور ساری کائنات پر چھا جائے گا۔ لوگ اس دھوئیں سے خوف و ہراس میں مبتلا ہو جائیں گے اور گمان کریں گے کہ یہ دردناک عذاب ہے۔ یہ ایک بہت بڑا اور عام دھواں ہوگا جو حق کو چھوڑنے اور گناہوں کی کثرت کے سبب ظاہر ہوگا، یہاں تک کہ ساری زمین کو ڈھانپ لے گا اور دنیا ایسی ہو جائے گی جیسے کوئی مکان جس میں آگ جلائی گئی ہو

بہرحال یہ ایک بہت بڑا دھواں آسمان سے ظاہر ہوگا جو پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور عام لوگوں میں خوف اور گھبراہٹ پھیلائے گا۔ یہ انسانوں میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بنے گا، کیونکہ لوگ اسے ایک عظیم عذاب سمجھیں گے اور اس کو آخری وقت کی شروعات جانیں گے۔ یہ عذاب لوگوں کے گناہوں اور نافرمانیوں کا نتیجہ ہوگا، کیونکہ اس وقت لوگوں میں نیکیاں کم اور گناہ زیادہ ہوں گے، اور انسان حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ دھواں آسمان کو ڈھانپ لے گا اور تیزی سے پھیل کر زمین کو اس طرح گھیر لے گا جیسے آگ سے جلنے والا گھر، لیکن یہ دھواں کسی آگ کے نتیجے میں نہیں ہوگا۔

دھواں کا ذکر قرآن کریم میں سورہ الدخان کی آیت نمبر 10 میں ہوا ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم

﴿ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ﴾ (الدخان: 10)

علمائے اسلام دھواں کی ظہور کی علامات کا مطالعہ کرتے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ ان کے زمانے میں ظاہر نہیں ہوا، لہذا یہ آئندہ نسلوں میں ظاہر ہوگا۔

ایک حدیث میں ہے کہ چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، دخان، دجال، دابۃ الارض، مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا، عام فتنہ اور ہر شخص سے متعلق خاص فتنہ۔بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ۔(مسلم:2947)

حضرت حذیفہ﷜نے ایک دفعہ نبی کریمﷺسے دُخان کے بارے میں دریافت کیا ، آپﷺنے سورہ دُخان کی آیات تلاوت کرکے ارشاد فرمایا:وہ اک دھواں ہوگا جو مشرق و مغرب کے درمیان کو بھر دے گا، چالیس دن  رات تک یہ ٹہرا رہے گا، مومن کو اِس سے صرف زکام سا محسوس ہوگا جبکہ کافراس میں نشہ کی کیفیت کی مانند مدہوش ہوگااور یہ دھواں  اُ س کے کانوں اور نتھنوں سے نکل رہا ہوگا ۔يَمْلأ ما بَينَ المَشْرقِ والمَغْرِب يَمْكُثُ أرْبَعِينَ يَوْما وَلَيْلَةً أمَّا المُؤْمِنُ فَيُصِيبُهُ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكامِ. وأمَّا الكَافِرُ فَيَكُونُ بِمَنزلَةِ السَّكْرانِ يَخْرُجُ مِنْ مَنْخِريْهِ وأُذُنَيْهِ ودُبُرِهِ۔(تفسیر ابن جریر طبری :22/18)

حضرت ابومالک اشعری ﷜سے مرفوعاً منقول ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا :بے شک تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا ہے :دھوئیں سے جو ہر مومن کو زکام کی طرح لگے گا اور کافر کے جسم میں داخل ہوگا جس سے کافر پھول جائے گایہاں تک کہ وہ دھواں کافر کے جسم کے ہر منفذ (سوراخ )سے نکلے گا ۔ دوسری چیز دابّۃ  الارض کا نکلنا اور تیسری چیز دجال ہے ۔إنَّ رَبَّكُمْ أنْذَرَكُمْ ثَلاثا: الدُّخانُ يَأْخُذ المُؤْمِنَ كالزَّكْمَةِ، ويَأْخُذُ الكَافِرَ فَيَنْتَفِخَ حتى يَخْرُجَ مِنْ كُلّ مَسْمَعٍ مِنْهُ، والثَّانِيَة الدَّابَّةُ، والثَّالِثَة الدَّجَّالُ۔(تفسیر ابن جریر طبری :22/18)

دخان کے مصداق میں اختلاف :

اِس کے مصداق میں اختلاف ہے کہ اِس سے کیا مراد ہے،اِس میں تین قول ہیں :

اِس سے مراد قیامت کی علامت ہے ، یعنی وہ دھواں جو قربِ قیامت میں رونما ہوگا ، تفصیل  اوپر گزرچکی ہے ۔

اِس سے مراد نبی کریمﷺکی بددعاء کا اثر ہے جو قحط کی شکل میں قریش مکہ کو پیش آیا تھا ، جب اُن پر قحط پڑا تو وہ مصیبت میں مبتلاء ہوئے ، کھانے پینے کی ہر چیز ختم ہوگئی یہاں تک کہ وہ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے ، بھوک کے عالَم میں اُن کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ اُن کو ہر طرف فضا میں آسمان میں دھواں ہی دھواں محسوس ہوتا تھا ۔

اِس سے مراد  وہ گرد و غبار ہے جو فتح  مکہ کے دن مکہ مکرّمہ کے آسمان پر چھا گیا تھا ۔(معارف القرآن عثمانی :7/760)

Share:

صفا پہاڑی سے عجیب الخلقت جانور کا نکلنا - قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

دَآبَّةً  الْاَرْضِ

قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت "دابة الارض" کا صفا پہاڑی سے نکلنا ہے، اس کا ذکر قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔ مغرب سے سورج طلوع ہونے کے واقعے کے کچھ ہی روز بعد مکہ مکرمہ میں واقع پہاڑ صفا پھٹے گا اور اس سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے فصیح زبان میں باتیں کرے گا، اور بڑی تیزی کے ساتھ ساری زمین کا دورہ کرے  گا اس کے پاس  حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی اور  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا ہوگا، ایمان والوں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصا سے ایک نورانی لکیر کھینچ دے گا، جس سے ان کا سارا چہرہ روشن ہوجائے گا، اور کافروں کی ناک یا گردن پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگادے گا، جس سے اس کا سارا چہرہ کالا ہوجائے گا، لوگوں کے مجمع میں ایمان والوں کو کہے گا: یہ ایمان دار ہے، اور کافر کے بارے میں کہے گا کہ: یہ کافر ہے، اس کے بعد وہ غائب ہوجائے گا۔چنانچہ اس بارے میں قران پاک میں اللہ پاک کا فرمان ھے

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ (82)

اور جب قیامت کا وعدہ پورا کرنے کا وقت قریب الوقوع ہو جائے گا تو اس وقت ہم لوگوں کی عبرت کے لئے زمین سے ایک عجیب و غریب جانور نکالیں گے جو لوگوں سے باتیں کرے گا ( یہ جانور ہم زمین سے اس لئے نکالیں گے ) کہ لوگ ہماری نشانیوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔ (سورہ النمل)

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:”تین باتیں جب ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ الا یہ کہ وہ پہلے ایمان لا چکا ہو اور نیک اعمال کرتا رہا ہو۔ ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرے دجال کا نکلنا اور تیسرے دابۃ الارض" کا خروج“

 [مسلم۔ کتاب الایمان] 

حضرت  ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: " دابة الارض " نکلے گا تو اس کے پاس حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی مہر اور  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا ہو گا۔ پھر وہ (عصائے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے) مومن کے منہ پر ایک لکیر کھینچ دے گا جس سے وہ چمک اٹھے گا اور کافر کی ناک پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی انگوٹھی سے مہر لگا دے گا۔ یہاں تک اگر کچھ  لوگ ایک خوان پر جمع ہوں گے تو وہ ان کے پاس جا کر یہ کہے گا کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔ (یعنی مومن اور کافر ممتاز ہو جائیں گے) 

[ترمذي۔ ابواب التفسير] 

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہم پر برآمد ہوئے جبکہ ہم گفتگو میں مشغول تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے پوچھا: ”کیا باتیں کر رہے تھے؟“ ہم نے عرض کیا: قیامت کا ذکر کررھے تھے: آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی۔ جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ نشانیاں بتلائیں۔ دھواں، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا، نزول حضرت عیسی  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، یاجوج ماجوج کا خروج۔ تین مقامات پر زمین کا خسف مشرق میں، مغرب میں، جزیرہ عرب میں۔ اور ان نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو لوگوں کو یمن سے نکال کر ہانکتی ہوئی ان کے محشر (سر زمین شام) کی طرف لے جائے گی“ [مسلم]

اس جانور کو  جسے ’’دَآبَّةُ الْاَرْض‘‘ کہتے ہیں کے بارے میں  صرف اتنا ھی جان لینا کافی ہے کہ یہ عجیب و غریب شکل کا جانور ہوگا ۔ کوہ ِصفا سے برآمد ہو کر دنیا کے  تمام شہروں  میں  بہت  تیزی سے چکر لگائے  گا ۔ فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشان لگائے گا ،ایمانداروں  کی پیشانی پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصاسے نورانی خط کھینچے گا اورکافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگائے گا۔ اس طرح پوری دنیا میں ایمان والوں کی الگ اور کافروں کی الگ شناخت ھو جائے گی 

Share:

سورج کا مغرب سے طلوع ہونا - قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ایک بڑی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور اسے عظیم نشانی کہا گیا کیونکہ ان دس نشانیوں میں سے اس نشانی کا ظاہر ہونا توبہ کے دروازے کا بند ہونا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر موجود ہے۔

سورج کا مغرب سے طُلوع ہونے کے بعد  توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اب کسی کی توبہ قُبول نہ ہو گی جو کافرہے وہ کافر ہی رہے گا اورجو مسلمان ہے وہ مسلمان ہی رہے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ھے 

هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ 

کیا وہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا رب آئے یا تمہارے رب کی کوئی نشانی آئے، جس دن تمہارے رب کی کوئی خاص نشانی آ جائے گی تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی، (الانعام)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو گا۔ (پھر اس کے بعد) جب وہ طلوع ہو گا تو لوگ اسے دیکھتے ہی ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا مرحلہ ہو گا جب کسی نفس کے لیے اس کا ایمان قبول کر لینا سود مند نہ ہو گا۔ کیونکہ اس سے پہلے نہ تو اس نے ایمان قبول کیا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے (کسی) اچھائی کو حاصل کیا تھا۔“ (صحيح بخاري)

حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مغرب کی سمت سے آفتاب طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (مسلم)​

معلوم ہو کہ جب مذکورہ قیامت کی نشانی ظاہر ہو جائےگی  تو پھر کسی شخص کی توبہ قبول نہ ہو گی اور آج اللہ پاک کی رحمت وسیع  ہے ، معافی مل سکتی ہے، لہذا ہمیں چاہیئے کہ اس وقت کے منتظر نہ رہیں کہ جب معافی نہیں ملے گی، موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جلد از جلد توبہ کر کے اپنے تمام گناہوں کی اللہ پاک سے بخشش کروا لیں۔ یہ توبہ قبولً  ہونے کی حد ہے کہ مغرب کی سمت سے آفتاب نکلنے سے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا لہٰذا اس وقت تک جو بھی توبہ کرے گا اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی لیکن اس کے بعد کی جانے والی توبہ قبول نہیں ہوگی ۔ 

اسی طرح ھر انسان کے لئے اس وقت توبہ کا دروازہ بند ھوجاتا ھے جب وہ اس دنیا سے جا رھا ھوتا ھے اور حالتِ غرغرہ میں ھوتا ھے تو گویا توبہ قبول ہونے کی ایک حد شخصی بھی  ہوتی ہے جس کا تعلق ہر فرد سے ہوتا ہے انسان اپنی زندگی میں جب بھی سچی توبہ کرتا ھے اللہ پاک اس توبہ کو قبول فرماتے ھیں اور یہ  توبہ کی قبولیت کا وقت حالت غرغرہ (نزع) سے پہلے پہلے تک کا وقت ھوتا ہے یعنی جو شخص حالت غرغرہ سے پہلے پہلے توبہ کر لے گا اس کی توبہ قبول ہوگی۔ حالت غرغرہ کب شروع ھو جائے اس کا کسی بھی بندہ کو کوئی علم نہیں اور حالت غرغرہ میں کی جانے والی توبہ ھرگز قبول نہیں ہوگی

 ذوالحجہ کے مہینے میں دسویں ذوالحجہ کے بعد اچانک ایک رات بہت لمبی ہوگی کہ مسافروں کے دل گھبراکر بے قرار ہوجائیں گے، بچے سو سو کر اُکتا جائیں گے، جانور باہر کھیتوں میں جانے کے لئے چلانے لگیں گے، تمام لوگ ڈر اور گھبراہٹ سے بے قرار ہوجائیں گے، جب تین راتوں کے برابر وہ رات ہوچکے گی تو سورج ہلکی سی روشنی کے ساتھ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور سورج کی حالت ایسی ہوگی جیسے اس کو گہن لگا ہوتا ہے، اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور کسی کا ایمان یا گناہوں سے توبہ قبول نہ ہوگی، سورج آہستہ آہستہ اُونچا ہوتا جائے گا، جب اتنا اُونچا ہوجائے گا جتنا دوپہر سے کچھ پہلے ہوتا ہے تو واپس مغرب کی طرف غروب ہونا شروع ہوجائے گا اور معمول کے مطابق غروب ہوجائے گا، پھر حسب معمول طلوع و غروب ہوتا رہے گا۔

سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی کیفیت کے متعلق سیدنا ابوذر رضی الله عنہ سے مروی ایک حدیث ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ صحابه كرام رضى الله عنهم اجمعين نے عرض كيا: الله اور اس کا رسول صلی الله علیہ والہ وسلم خوب جانتے ہیں. تو آپ صلی الله علیہ والہ وسلم  نے فرمایا: ”یہ چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر عرش کے تلے آتا ہے وہاں سجدہ میں گرتا ہے (اس سجدہ کا مفہوم الله تعالیٰ ہی جانتا ہے) پھر اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو حکم ہوتا ہے اونچا ہو جا اور جا جہاں سے آیا ہے، وہ لوٹ آتا ہے اور اپنے نکلنے کی جگہ سے نکلتا ہے۔ پھر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش تلے آتا ہے اور سجدہ کرتا ہے پھر اسی حال میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے اونچا ہو جا اور لوٹ جا جہاں سے آیا ہے۔ وہ نکلتا ہے اپنے نکلنے کی جگہ سے پھر چلتا ہے اسی طرح ایک بار اسی طرح چلے گا اور لوگوں کو کوئی فرق اس کی چال میں معلوم نہ ہو گا یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر آئے گا عرش کے تلے اس وقت اس سے کہا جائے گا اونچا ہو جا اور نکل جا پچھّم کی طرف سے جدھر تو ڈوبتا ہے وہ نکلے گا پچھّم کی طرف سے۔“ پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو یہ کب ہو گا (یعنی آفتاب کا پچھّم کی طرف سے نکلنا) یہ اس وقت ہو گا جب کسی کو ایمان لانا فائدہ نہ دے گا، جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو اس نے نیک کام نہ کئے ہوں اپنے ایمان میں۔“ [صحيح مسلم، كتاب الايمان، رقم: 399 ]

Share: