تمام علاماتِ کبری کے واقع ہوجانے کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ بہت مزے سے زندگی گزار رھے ھوں گے کہ ایک دن جب جمعہ کا دن ہوگا، لوگ معمول کے مطابق اپنے اپنے کاموں میں لگے ھوئے ہوں گے کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے گی، دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، اس کو سمیٹ نہ سکیں گے اور نہ ہی خرید و فروخت کرسکیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنی اُونٹنی کا دُودھ لے کر جا رھا ھو گا اور اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنے پانی والے حوض کی مرمت کر رہا ہوگا اور اس سے پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص نے نوالہ منہ کی طرف اُٹھایا ہوگا اسے منہ میں ڈال نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ قیامت حضرت اسرافیل علیہ السلام کے صور پھونکنے سے برپا ہوگی جس کی آواز پہلے ہلکی اور پھر اس قدر ہیبت ناک ہوگی کہ اس سے سب جاندار مرجائیں گے، زمین و آسمان پھٹ جائیں گے، ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر فنا ہوجائے گی، چالیس سال بعد دوبارہ حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے جس سے سب زندہ ہوکر میدانِ محشر میں جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔
قیامت کے آغاز کے بارے میں اسلامی عقیدے کے مطابق، صور پھونکنے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا حکم دے گا، تو حضرت اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دیا جائے گا۔
صور پھونکنا اسلامی عقیدے کے مطابق صور میں پھونکنا (النفخ في الصور) ایک عظیم الشان واقعہ ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے اور یہ قیامت کے ہولناک مناظر میں سے ایک ہے۔ یہ عمل دو مرتبہ انجام پائے گا:
پہلا نفخہ (پہلا صور پھونکا جانا)
اس پہلے صور کے پھونکنے سے تمام موجودات پر خوف طاری ہوگا اور زمین و آسمان کی تمام مخلوقات ہلاک ہو جائیں گی، سوائے ان کے جنہیں اللہ بچانا چاہے۔ یعنی اس کے نتیجے میں آسمانوں اور زمین میں جو بھی موجود ہوگا، وہ بے ہوش ہو جائے گا یا مر جائے گا، سوائے ان کے جنھیں اللہ چاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ: آسمان پھٹ جائے گا ، ستارے بکھر جائیں گے ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ، سمندر بھڑک اٹھیں گے ، زمین زلزلہ سے لرز اٹھے گی ، قبریں اُلٹ دی جائیں گی ، زمین اور آسمان اپنی موجودہ حالت میں باقی نہیں رہیں گے بلکہ انھیں نئی شکل دی جائے گی۔
دوسرا نفخہ (دوسرا صور پھونکا جانا):
پہلے صور کے بعد ایک مدت کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا، جس سے مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کے بعد بعث و نشور یعنی تمام مردوں کا دوبارہ زندہ کیا جانا اور محشر کی طرف روانگی ہوگی۔ اسلامی روایت کے مطابق فرشتہ اسرافیل علیہ السلام اس صور پھونکنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔
قرآن مجید میں صور پھونکنے کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے، ان میں سے ایک واضح مقام سورۃ الزمر کی آیت 68 ہے:
وَنُفِـخَ فِى الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّـٰهُ ۖ ثُـمَّ نُفِـخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُـمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ (68)
اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائے گا جو کوئی آسمانوں اور جو کوئی زمین میں ہے مگر جسے اللہ چاہے، پھر وہ دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔
اسلامی عقائد اور قرآنی تعلیمات کے مطابق صُور ایک عظیم الشان سینگ ہے۔احادیث کی روشنی میں اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جب صور کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "یہ ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا حضرت اسرافیل علیہ السلام کو یہ عظیم ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس میں پھونک ماریں یہ قیامت سے جڑا ایک ہولناک اور عظیم واقعہ ہے۔ جب اس میں پھونک ماری جائے گی، تو اس کی خوفناک آواز سے زمین و آسمان کی ہر چیز کانپ اٹھے گی اور سب فنا ہو جائیں گے۔
ایک اور حدیث مبارکہ میں ھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا گیا کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي]
اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پھر ہم کیا پڑھیں؟ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ تم کہو «حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ۔ } [سنن ترمذي:]
اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔
غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک خواب کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ھم صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ ایکُ آیت مبارکہ میں ہے ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور اسی بات کو ایک دوسری جگہ قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ
قَالَ كَمْ لَبِثْتُـمْ فِى الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَO
فرمائے گا تم زمین پر گنتی کے کتنے برس رہے۔
قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْاَلِ الْعَآدِّيْنَO
کہیں گے ایک دن یا اس سے بھی کم رہے ہیں پس آپ گنتی کرنے والوں سے پوچھ لیں۔
قَالَ اِنْ لَّبِثْتُـمْ اِلَّا قَلِيْلًا ۖ لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَO
فرمائے گا تم اس میں تھوڑا ہی رہے ہو، کاش کہ تم سمجھ لیتے۔
(المؤمنون)
اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب یہ ھو گا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔
بہرحال اس کے بعد یوم آخرت یعنی یومِ حساب کا سلسلہ شروع ھو جائے گا ۔ میزان قائم ھو گا . ھر ایک کی عدالتِ الہی میں حاضری ھو گی اور حساب کتاب ھو گا ۔ ھر ایک کی نیکیوں اور برائیوں کو تولا جائے گا ۔ جو لوگ کامیاب ھوں گے وہ پل صراط سے گزر کر عیش وعشرت کی جگہ جنت میں چلے جائیں گے اور جھنمی لوگ ( یعنی کفار ، مشرکین اور منافقین وغیرہ ) عذاب کی جگہ جہنم میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ کچھ مسلمان بھی اپنے گناھوں کی وجہ سے جھنم میں چلے جائیں گے لیکن وہ اپنی سزا بھگتنے کے بعد یا کسی کی شفاعت سے جنت میں آجائیں گے تاھم کفار ، مشرکین اور منافقین وغیرہ ھمیشہ ھمیشہ جھنم میں رھیں گے