دخان عربی لغت میں اُس بخار یا بھاپ کو کہا جاتا ہے جو آگ سے اٹھے جسے ھمارے ھاں دھواں کا نام دیا جاتا ھے۔ ۔ اسلامی دینی نصوص میں "دخان" کو اُن واقعات میں ذکر کیا گیا ہے جو دنیا کے خاتمے سے قبل ظاہر ہوں گے اور جنھیں "قیامت کی علامات کبری " کہا جاتا ہے۔ ان بڑی علامات میں سے ایک علامت وہ عظیم دھواں ہے جو آسمان سے ظاہر ہوگا اور ساری کائنات پر چھا جائے گا۔ لوگ اس دھوئیں سے خوف و ہراس میں مبتلا ہو جائیں گے اور گمان کریں گے کہ یہ دردناک عذاب ہے۔ یہ ایک بہت بڑا اور عام دھواں ہوگا جو حق کو چھوڑنے اور گناہوں کی کثرت کے سبب ظاہر ہوگا، یہاں تک کہ ساری زمین کو ڈھانپ لے گا اور دنیا ایسی ہو جائے گی جیسے کوئی مکان جس میں آگ جلائی گئی ہو
بہرحال یہ ایک بہت بڑا دھواں آسمان سے ظاہر ہوگا جو پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور عام لوگوں میں خوف اور گھبراہٹ پھیلائے گا۔ یہ انسانوں میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بنے گا، کیونکہ لوگ اسے ایک عظیم عذاب سمجھیں گے اور اس کو آخری وقت کی شروعات جانیں گے۔ یہ عذاب لوگوں کے گناہوں اور نافرمانیوں کا نتیجہ ہوگا، کیونکہ اس وقت لوگوں میں نیکیاں کم اور گناہ زیادہ ہوں گے، اور انسان حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ دھواں آسمان کو ڈھانپ لے گا اور تیزی سے پھیل کر زمین کو اس طرح گھیر لے گا جیسے آگ سے جلنے والا گھر، لیکن یہ دھواں کسی آگ کے نتیجے میں نہیں ہوگا۔
دھواں کا ذکر قرآن کریم میں سورہ الدخان کی آیت نمبر 10 میں ہوا ہے:
بسم الله الرحمن الرحيم
﴿ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ﴾ (الدخان: 10)
علمائے اسلام دھواں کی ظہور کی علامات کا مطالعہ کرتے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ ان کے زمانے میں ظاہر نہیں ہوا، لہذا یہ آئندہ نسلوں میں ظاہر ہوگا۔
ایک حدیث میں ہے کہ چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، دخان، دجال، دابۃ الارض، مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا، عام فتنہ اور ہر شخص سے متعلق خاص فتنہ۔بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ۔(مسلم:2947)
حضرت حذیفہنے ایک دفعہ نبی کریمﷺسے دُخان کے بارے میں دریافت کیا ، آپﷺنے سورہ دُخان کی آیات تلاوت کرکے ارشاد فرمایا:وہ اک دھواں ہوگا جو مشرق و مغرب کے درمیان کو بھر دے گا، چالیس دن رات تک یہ ٹہرا رہے گا، مومن کو اِس سے صرف زکام سا محسوس ہوگا جبکہ کافراس میں نشہ کی کیفیت کی مانند مدہوش ہوگااور یہ دھواں اُ س کے کانوں اور نتھنوں سے نکل رہا ہوگا ۔يَمْلأ ما بَينَ المَشْرقِ والمَغْرِب يَمْكُثُ أرْبَعِينَ يَوْما وَلَيْلَةً أمَّا المُؤْمِنُ فَيُصِيبُهُ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكامِ. وأمَّا الكَافِرُ فَيَكُونُ بِمَنزلَةِ السَّكْرانِ يَخْرُجُ مِنْ مَنْخِريْهِ وأُذُنَيْهِ ودُبُرِهِ۔(تفسیر ابن جریر طبری :22/18)
حضرت ابومالک اشعری سے مرفوعاً منقول ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا :بے شک تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا ہے :دھوئیں سے جو ہر مومن کو زکام کی طرح لگے گا اور کافر کے جسم میں داخل ہوگا جس سے کافر پھول جائے گایہاں تک کہ وہ دھواں کافر کے جسم کے ہر منفذ (سوراخ )سے نکلے گا ۔ دوسری چیز دابّۃ الارض کا نکلنا اور تیسری چیز دجال ہے ۔إنَّ رَبَّكُمْ أنْذَرَكُمْ ثَلاثا: الدُّخانُ يَأْخُذ المُؤْمِنَ كالزَّكْمَةِ، ويَأْخُذُ الكَافِرَ فَيَنْتَفِخَ حتى يَخْرُجَ مِنْ كُلّ مَسْمَعٍ مِنْهُ، والثَّانِيَة الدَّابَّةُ، والثَّالِثَة الدَّجَّالُ۔(تفسیر ابن جریر طبری :22/18)
دخان کے مصداق میں اختلاف :
اِس کے مصداق میں اختلاف ہے کہ اِس سے کیا مراد ہے،اِس میں تین قول ہیں :
اِس سے مراد قیامت کی علامت ہے ، یعنی وہ دھواں جو قربِ قیامت میں رونما ہوگا ، تفصیل اوپر گزرچکی ہے ۔
اِس سے مراد نبی کریمﷺکی بددعاء کا اثر ہے جو قحط کی شکل میں قریش مکہ کو پیش آیا تھا ، جب اُن پر قحط پڑا تو وہ مصیبت میں مبتلاء ہوئے ، کھانے پینے کی ہر چیز ختم ہوگئی یہاں تک کہ وہ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے ، بھوک کے عالَم میں اُن کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ اُن کو ہر طرف فضا میں آسمان میں دھواں ہی دھواں محسوس ہوتا تھا ۔
اِس سے مراد وہ گرد و غبار ہے جو فتح مکہ کے دن مکہ مکرّمہ کے آسمان پر چھا گیا تھا ۔(معارف القرآن عثمانی :7/760)