نماز کے واجبات


نماز کے چودہ واجبات ھیں جیسا کہ  مفتئ اعظم ہند مفتی محمد  کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے  اپنی کتاب "تعلیم الاسلام"  میں ان کا ذکر کیا ھے ۔ نمازی کا ان واجبات کو جاننا بہت ضروری ھے۔  نماز کے واجبات کا حکم یہ ھے کہ ان میں سے اگر کوئی واجب  بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو کر لینے سے نماز درست ہوجاتی ہے اور اگر  قصداً  ( جان بوجھ کر ) کوئی واجب چھوڑ دیا جائے تو سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ھوتی بلکہ نماز فاسد ھو جاتی ھے اور اس نماز کا اعادہ کرنا  واجب ہوتا ہے کیونکہ  سجدۂ سہو سے بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔   بھولے سے چھوٹنے کی صورت میں  اگر سجدۂ سہو کرنا بھی بھول جائے تو اس نماز کا وقت کے اندر اندر اعادہ کرنا واجب ہوگا۔ 


واجباتِ نماز 

  1. فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں کو قراءت کے لیے مقرر کرنا۔
  2. فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا۔
  3. فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب اور سنت اور نفل نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا بڑی ایک آیت یا چھوٹی تین آیتیں پڑھنا۔
  4. سورۂ فاتحہ کو سورت سے پہلے پڑھنا۔
  5. قراءت اور رکوع میں اور سجدوں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا۔
  6. قومہ کرنا یعنی رکوع سے اُٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا۔
  7. جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان میں سیدھا بیٹھ جانا۔
  8. تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجدہ وغیرہ کو اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا۔
  9. قعدۂ اولیٰ یعنی تین اور چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھنا۔
  10. دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا۔
  11. امام کو نمازِ فجر، مغرب، عشاء جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان شریف کے وتروں میں آواز سے قراءت کرنا، اور ظہر، عصر وغیرہ نمازوں میں آہستہ پڑھنا۔
  12. لفظِ سلام کے ساتھ نماز سے علیحدہ ہونا۔
  13. نمازِ وتر میں قنوت کے لیے تکبیر کہنا اور دعائے قنوت پڑھنا۔
  14. دونوں عیدوں کی نماز میں چھ  زائد تکبیریں کہنا۔

اللہ پاک ھمیں خشوع و خضوع کے ساتھ  نمازیں ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین

Share:

نماز کے فرائض

 نماز میں چند چیزیں ایسی ھیں جنہیں فرائضِ نماز کہا جاتا  ھے ان میں اگر ایک فرض بھی رہ گیا تو نماز فاسد ھو جاتی ھے اور سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ھوتی ۔ ان فرائض کی تعداد تیرہ ھے ان میں سات فرائض ایسے ھیں جن کا  نماز سے پہلے موجود ہونا ضروری ہے ،اور ان کو نماز کے خارجی فرائض ، یا شرائط نماز کہا جاتا ہے جودرج ذیل ہیں :


شرائطِ نماز

بدن کا پاک ہونا

کپڑوں کا پاک ہونا

ستر کا چھپانا

نماز کی جگہ کا پاک ہونا

نماز کا وقت ہونا

قبلہ کی طرف رخ کرنا

نماز کی نیت کرنا


 چھ فرائض  ایسے ہیں جو نماز کے اندر فرض ہیں ۔ انہیں ارکانِ نماز کہتے ھیں 


ارکانِ نماز

(1)تکبیر تحریمہ

(2)قیام یعنی کھڑا ہونا،اگر آدمی کھڑے ہونے پر قادر ہو تو بغیر کھڑے ہوئے نماز صحیح نہیں ہوتی ، فرض اور واجب نمازوں میں قیام فرض ہے۔

(3) قراءۃ (تلاوت کرنا)

(4)رکوع

(5)سجود ،یعنی سجدہ کرنا ،ہر رکعت میں دومرتبہ فرض ہے۔

(6) قعدہ اخیرہ مقدار ِ تشہد، یعنی تشہد پڑھنے کے بقدر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھنا۔




Share:

نماز اوابین کی فضیلت ، وقت اور رکعات

اوّابین عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی "اللہ کی طرف بار بار رجوع کرنے والے" یا "بہت توبہ کرنے والے" ہیں。یہ لفظ "اوّاب" کی جمع ہے。

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعات (نفل) ادا کرے اور ان کے درمیان کوئی بری (دنیاوی) بات نہ کرے تو یہ بارہ سال کی عبادت کے برابر شمار ہوں گی.

(جامع ترمذی:435)


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعت نماز ادا کی اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔

(جامع ترمذی:435)


مغرب کے فرض اور سنتوں کے بعد جو نوافل پڑھے جاتے ہیں، انہیں ’’صلاۃ الاوابین‘‘ کہتے ہیں، ان کی کم از کم تعداد چھ اور زیادہ سے زیادہ بیس ہے.


مفتی بہ قول کے مطابق یہ چھ رکعات مغرب کے بعد کی دو رکعات سنتِ مؤکدہ کے علاوہ ہیں. 

البتہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ سنتِ مؤکدہ کو ملا کر چھ رکعات ادا کرنے سے بھی یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی.


بعض صحیح احادیث میں چاشت کی نماز کو جو  سورج چڑھنے کے بعد یعنی جب سورج میں تمازت آجائے  اس وقت،  پڑھنے  کو  بھی "اوابین کی نماز" کہا گیا ہے، اور احادیث میں چاشت کے بہت فضائل  وارد ہوئے ہیں، مثلًا ایک حدیث میں ہے جو چاشت کے وقت بارہ رکعت ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے سونے کا محل عطا فرمائیں گے،

Share:

سجدۂ سہو کے مسائل (حنفی مسلک کی تشریحات کی روشنی میں )

 سجدۂ سہو 

   “ سہو “ کا معنی  ھے بھولنا ،  نماز میں بھول کی وجہ سے جو کمی پیدا ہو جاتی ہے،اس کمی کو دور کرنے کے لئے شریعتِ مطہرہ نے سجدۂ سہو کرنے کی آجازت دی ھے اس مقصد کے لئے آخری قعدہ میں دو سجدے کئے جاتے ہیں،اس کو"سجدہ سہو" کہا جاتا ہے۔ سجدۂ سہو کر لینے سے نماز مکمل ھو جاتی ھے 


نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے  اسباب

نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے کیا اسباب ھوتے ہیں؟  یہ ھر نمازی کے لئے جاننا بہت  ضروری ھے کیونکہ ان میں سے جب بھی کوئی سبب پایا جاتا ھے  تو سجدہ سہو واجب ہوجاتا ھے اور سجدۂ سہو  نہ کرنے کی صورت میں نماز نہیں ھوتی بلکہ نماز دوبارہ پڑھنا ضروری  ھو جاتا ھے

نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے درج ذیل اسباب ہیں، ان میں سے جب بھی کوئی سبب پایا جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوجائے گا۔ یعنی  نماز میں بھول کر درج ذیل غلطیاں کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔

[۱] ترک واجب ۔[۲] تقدیم واجب ۔[۳]تاخیر واجب ۔[۴]تبدیل واجب ۔[۵]تکرار واجب [۶] تقدیم فرض۔ [۷] تاخیر فرض۔[۸] تکرار فرض۔


:[۱] ترکِ واجب : 

اس کا مطلب یہ ہےکہ نماز کے واجبات میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ واجب  کسی شخص سے بھول کر رہ جائیں . مثلا  فرض کی پہلی یا دوسری  رکعت میں سورت فاتحہ رہ گئی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۲] تقدیمِ واجب: 

اس کا مطلب ہےکہ کسی واجب کو اس کے اصلی وقت سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ مثلا فرض نماز کی پہلی یا دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے کوئی سورت پڑھ لی ، تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۳]تاخیرِ واجب: 

اس کا مطلب ہے کہ کسی واجب کو اس کےاصلی مقام کے بعد ادا کرنا۔ مثلا کسی شخص نے سورۃ فاتحہ کو رکوع میں پڑھ لیا حالانکہ اس کا مقامِ اصلی قیام تھا،تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۴]تبدیلِ واجب: 

اس کا مطلب ہےکہ کسی ایک واجب کو دوسرے واجب سے تبدیل کرنا۔ مثلا امام نے جہری نماز میں سری قرآت کر دی یا سری نماز میں جہرا قرآت کر دی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۵] تکرارِ واجب؛

اس کا مطلب ہے کہ کسی واجب کو ایک سے زیادہ مرتبہ ادا کرنا۔ مثلا پہلے قعدہ میں ایک مرتبہ کی بجائے دو مرتبہ "التحیات" پڑھ لی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۶] تقدیمِ فرض: 

اس کا مطلب ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی مقام سے پہلے اداکرنا۔ مثلارکوع چھوڑ کر سجدہ کیا پھر سجدہ سے واپس آکر رکوع کردیا اور دوبارہ سجدہ کیا تو آخر میں سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۷]تاخیر فرض: 

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی مقام سے موخر کرنا۔مثلا ایک ہی سجدہ کیا پھر سلام سے پہلے یاد آیا تو دوسرا سجدہ کر دیا تو اب سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۸]تکرار فرض: 

اس کا مطلب یہ ہےکہ کسی فرض کو اس کی مقررہ حد سے زیادہ مرتبہ ادا کرنا۔ مثلا بھول کر دو رکوع کر دیے یا بھول کر تین سجدے کر دیے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔


سجدہ سہو کرنے کا مکمل طریقہ

سجدہ سہو  کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد (درود شریف اور دعا پڑھے بغیر) صرف دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرلیے جائیں، اور ہر سجدے میں حسبِ معمول  "سبحان ربي الأعلى" کہے اور سجدے کے بعد  بیٹھ  کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا جائے۔ سجدہ سھو کرنے کے اس کے علاوہ اور بھی طریقے ھیں۔  تاھم نصوص کی روشنی میں فقہاءِ احناف نے اسی طریقے کو ترجیح دی ہے، لہٰذا فقہ حنفی کے مطابق اسی پر عمل کیا جائے۔


سجدۂ سہو کے بعض مسائل

اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں بھول کر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ چکا ہو، اور پھر اسے یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ سہو لازم ہے، تو اسی وقت دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد وہ سہو کے دو سجدے کرکے دوبارہ التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے تو سجدہ سہو ادا ہوجائے گا۔

سجدہ سہو  واجب ہونے کے بعد ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کو ادا کرنا ضروری ہوتا ہے،  اگر  نماز میں سجدہ سہو واجب ہوجائے اور اس کو نہیں کیا تو ایسی نماز کا وقت کے اندر اعادہ واجب ہوتا ہے

اگر کسی شخص کو یہ گمان تھا کہ اس پر سجدہ سہو واجب ھو گیا ہے اور اس نے سجدہ سہو کرلیا بعد میں اُسے پتہ چلا کہ اس پر سجدہ سہو نہیں تھا تو اس کی نماز بلاکراہت صحیح ہوگئی ھے، اعادہ کی ضرورت نہیں

 فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے ۔ سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی لہٰذا نماز دوبارہ پڑھے اور سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ ، آمین، تکبیرات انتقال اور تسبیحات رکوع و سجود کے ترک سے بھی سجدۂ سہو نہیں ھے بلکہ نماز ہو گئی مگر اعادہ مستحب ہے ۔سہوا ً ترک کیا ہو یا قصداً۔

کسی واجب کو جان بوجھ کر ترک کر دیا تو سجدہ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوگی بلکہ اُس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔اسی طرح اگر بھول کر کسی واجب کو چھوڑ دیا اور سجدہ سہو نہیں کیا تب بھی نماز کا دو بارہ پڑھنا واجب ہوگا۔ ایک نماز میں کئی واجب بھول سے چھوٹ جائیں تو اس صورت میں بھی سہو کے دو سجدے ہی کافی ہیں۔

چار رکعت والی فرض یا وتر میں قعدۂ اولیٰ بھول کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو رہا تھا کہ یاد آگیا تو  حکم یہ ہے کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو۔لوٹ آئے اور سجدۂ سہو  نہیں اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو نہ لوٹے اور آخر میں سجدۂ سہو  کرے اور اگر سیدھا کھڑا ہو کر لوٹا تو پھر سجدۂ سہو  کرے ، نماز ہو جائے گی۔ مگر گناہگار ہوگا۔ لہٰذا حکم ہے کہ اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو واپس نہیں آئے۔

اگر سنت اور نفل کا قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو کیونکہ سنت اور نفل کا ہر قعدہ ،قعدۂ اخیرہ ہے یعنی فرض ہے،اس لئے اگر قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرلے۔

اگر قعدۂ اخیرہ میں التحیات پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اُس رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہو تو واپس لوٹ آئے اور دوبارہ التحیات پڑھے بغیر سجدہ سہو کرے، پھر التحیات درود شریف  وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔

قعدۂ اولیٰ میں بھول کر درود شریف بھی پڑھ دیا تو اگر "اللھم صل علی محمد" یا اللھم صل علی سیدنا" تک یا اس سے زیادہ پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے اور اگر اس سے کم پڑھا تو سجدہ سہو نہیں ھے مگر یہ حکم صرف فرض، وتر اور ظہر وجمعہ کی پہلی چار رکعت والی سنتوں کے لئے ہے،باقی دوسرے سنتوں اور نفل نمازوں کے ہر قعدہ میں درود شریف بھی پڑھنے کا حکم ہے۔

 جس پر سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر سجدہ سہو نہیں کیا اور نماز ختم کرنے کی نیت سے سلام پھیر دیا تو سلام پھیرنے کے فورا بعد یا د آگیااور ابھی تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جو نماز کے منافی ہو تو سجدہ سہو کرے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے نماز ہو جائے گی،لیکن اگر سلام پھیر نے کے بعد کوئی بات کر لی  یا کھڑا ہوگیا پھر یاد آیا تو اب پھر سے نماز پڑھے۔

سجدہ سہو واجب نہیں تھا اور کر لیا تو تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں ایسا کیا تو نماز ہو گئی اور اگر امام نے ایسا کیا تو امام اور وہ مقتدی جو پہلی رکعت سے آخر تک امام کے ساتھ پڑھ رھے تھے  ان سب کی نماز ہوگئی،البتہ  مسبوق کی نماز میں اختلاف ہے ، فساد اورعدم فساد دونوں قول منقول ہیں ۔ ایسی صورت میں مسبوق کا  احتیاطا  نماز کا اعادہ کرنا بہتر ہے تاھم  اعادہ نہ کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔  امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں مسبوق کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ سجدہ سہو کا سلام نہ پھیرے، البتہ سجدے اور تشہد میں امام کی متابعت کرے۔

نماز میں شک ہونے کی صورت میں کہ سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟ تو واضح رھے کہ  شک کی سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے لیکن  غلبۂ ظن میں نہیں مگر جبکہ سوچنے میں ایک رکن کا وقفہ ہوگیا تو سجدۂ سہو واجب ہو گیا۔

اگر مفرد یا امام چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھا تھا اور اس کے بعد  پانچویں رکعت کے لیے غلطی سے کھڑا ہوگیا تو  اس کے لیے یہ حکم ہے کہ  جب تک  وہ پانچویں رکعت کا سجدہ  نہ کرلے  قعدہ  کی طرف  واپس لوٹ آئے  اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے، اور اگر  پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا ہو تو اب اس کے  ساتھ چھٹی رکعت بھی ملادے اور آخر میں سجدہ سہو کرلینے سے نماز ہوجائے گی، چار رکعت فرض اور دو نفل ہوجائے گی۔

اور اگر مفرد یا  امام نے  چوتھی رکعت پر قعدہ  نہیں کیا تھا اور اس کے بعد پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے واپس قعدہ میں آجائے، اور سجدہ سہو کرکے نماز  مکمل کرلے، اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو اب  فرض نماز باطل ہوگئی،  اب اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔

اللہ پاک ھمیں عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین 


Share:

صور پھونکا جانا اور قیامت کا قائم ہونا

تمام علاماتِ کبری کے واقع ہوجانے کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ  بہت مزے سے زندگی گزار رھے ھوں گے کہ ایک دن جب  جمعہ کا دن ہوگا، لوگ معمول کے مطابق اپنے اپنے کاموں میں لگے ھوئے ہوں گے کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے گی، دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، اس کو سمیٹ نہ سکیں گے اور نہ ہی خرید و فروخت کرسکیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنی اُونٹنی کا دُودھ لے کر جا رھا ھو گا اور اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنے پانی والے حوض کی مرمت کر رہا ہوگا اور اس سے پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص نے نوالہ منہ کی طرف اُٹھایا ہوگا اسے منہ میں ڈال نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ قیامت حضرت اسرافیل علیہ السلام  کے صور پھونکنے سے برپا ہوگی جس کی آواز پہلے ہلکی اور پھر اس قدر ہیبت ناک ہوگی کہ اس سے سب جاندار مرجائیں گے، زمین و آسمان پھٹ جائیں گے، ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر فنا ہوجائے گی، چالیس سال بعد دوبارہ حضرت اسرافیل علیہ السلام  صور پھونکیں گے جس سے سب زندہ ہوکر میدانِ محشر میں جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔

قیامت کے آغاز کے بارے میں اسلامی عقیدے کے مطابق، صور پھونکنے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا حکم دے گا، تو حضرت اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دیا جائے گا۔

صور پھونکنا اسلامی عقیدے کے مطابق صور میں پھونکنا (النفخ في الصور) ایک عظیم الشان واقعہ ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے اور یہ قیامت کے ہولناک مناظر میں سے ایک ہے۔ یہ عمل دو مرتبہ انجام پائے گا:


پہلا نفخہ (پہلا صور پھونکا جانا)

اس پہلے صور کے پھونکنے سے تمام موجودات پر خوف طاری ہوگا اور زمین و آسمان کی تمام مخلوقات  ہلاک ہو جائیں گی، سوائے ان کے جنہیں اللہ بچانا چاہے۔ یعنی اس کے نتیجے میں آسمانوں اور زمین میں جو بھی موجود ہوگا، وہ بے ہوش ہو جائے گا یا مر جائے گا، سوائے ان کے جنھیں اللہ چاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ: آسمان پھٹ جائے گا ، ستارے بکھر جائیں گے ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ، سمندر بھڑک اٹھیں گے ، زمین زلزلہ سے لرز اٹھے گی ، قبریں اُلٹ دی جائیں گی ، زمین اور آسمان اپنی موجودہ حالت میں باقی نہیں رہیں گے بلکہ انھیں نئی شکل دی جائے گی۔ 


دوسرا نفخہ (دوسرا صور پھونکا جانا): 

پہلے صور کے بعد ایک مدت کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا، جس سے مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کے بعد بعث و نشور یعنی تمام مردوں کا دوبارہ زندہ کیا جانا اور محشر کی طرف روانگی ہوگی۔ اسلامی روایت کے مطابق فرشتہ اسرافیل علیہ السلام  اس صور پھونکنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔

قرآن مجید میں صور پھونکنے کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے، ان میں سے ایک واضح مقام سورۃ الزمر کی آیت 68 ہے:

وَنُفِـخَ فِى الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّـٰهُ ۖ ثُـمَّ نُفِـخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُـمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ (68) 

اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائے گا جو کوئی آسمانوں اور جو کوئی زمین میں ہے مگر جسے اللہ چاہے، پھر وہ دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔

اسلامی عقائد اور قرآنی تعلیمات کے مطابق صُور ایک عظیم الشان سینگ ہے۔احادیث کی روشنی میں اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جب صور کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "یہ ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا حضرت اسرافیل علیہ السلام کو یہ عظیم ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس میں پھونک ماریں  یہ قیامت سے جڑا ایک ہولناک اور عظیم واقعہ ہے۔ جب اس میں پھونک ماری جائے گی، تو اس کی خوفناک آواز سے زمین و آسمان کی ہر چیز کانپ اٹھے گی اور سب فنا ہو جائیں گے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا گیا  کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي]

اور حدیث مبارکہ  میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پھر ہم کیا پڑھیں؟  تو آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ تم کہو «‏‏‏‏حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ‏‏‏‏۔ }  [سنن ترمذي:]

اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔

غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک خواب  کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ھم صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ ایکُ آیت مبارکہ میں ہے ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور اسی بات کو ایک دوسری جگہ قرآن پاک  میں بیان کیا گیا  ہے کہ

قَالَ كَمْ لَبِثْتُـمْ فِى الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَO

فرمائے گا تم زمین پر گنتی کے کتنے برس رہے۔

قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْاَلِ الْعَآدِّيْنَO

کہیں گے ایک دن یا اس سے بھی کم رہے ہیں پس آپ گنتی کرنے والوں سے پوچھ لیں۔

قَالَ اِنْ لَّبِثْتُـمْ اِلَّا قَلِيْلًا ۖ لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَO

فرمائے گا تم اس میں تھوڑا ہی رہے ہو، کاش کہ تم سمجھ لیتے۔

(المؤمنون)

اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب یہ ھو گا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔

بہرحال اس کے بعد یوم آخرت  یعنی یومِ حساب کا سلسلہ شروع ھو جائے گا ۔ میزان قائم ھو گا .  ھر ایک کی عدالتِ الہی میں حاضری ھو گی اور حساب کتاب ھو گا ۔ ھر ایک کی نیکیوں اور  برائیوں کو تولا جائے گا ۔ جو لوگ  کامیاب ھوں گے وہ  پل صراط سے گزر کر عیش وعشرت کی جگہ جنت میں  چلے جائیں گے اور جھنمی لوگ ( یعنی کفار ، مشرکین اور منافقین وغیرہ ) عذاب کی جگہ جہنم  میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ کچھ مسلمان بھی اپنے گناھوں کی وجہ سے جھنم میں چلے جائیں گے لیکن وہ اپنی  سزا بھگتنے کے بعد یا کسی کی شفاعت سے جنت میں آجائیں گے تاھم کفار ، مشرکین اور منافقین وغیرہ ھمیشہ ھمیشہ جھنم  میں رھیں گے

Share:

عدن سے نکلنے والی آگ ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 علاماتِ کبری کی آخری نشانی

قربِ قیامت میں یمن سے ایک بہت بڑی آگ نکلے گی ۔ عدن سے نکلنے والی آگ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے احادیث مبارکہ  کے مطابق، یمن کے شہر عدن کی گہرائیوں سے ایک عظیم الشان آگ نمودار ہوگی جو لوگوں کو ہانک کر حشر کے میدان کی طرف (ملکِ شام) لے جائے گی۔ اس آگ کی نمایاں تفصیلات اسلامی روایات میں یوں ملتی ہیں کہ  یہ آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ چلے گی۔ دن کو آرام (قیلولہ) کرنے کی جگہ پر یہ بھی رکے گی اور رات کو قیام کرنے کی جگہ پر بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی ۔ یہ آگ دنیاوی نظام کے اختتام اور آخرت کی ابتدا کا گویا ایک مقدمہ ھو گا ۔ یہ وہ آگ ہے جو عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو ھانک کر محشر کی طرف لے جائے گی؛ یعنی لوگوں کو مجبور کرے گی کہ وہ بلادِ شام کی طرف، جو ارضِ محشر ہے، روانہ ہوں۔ یہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سب سے آخری نشانی ھو گی گویا  یہ دنیا کے اختتام اور آخرت کی ابتدا کا اعلان  ھو گا 

یہ واضح رھے کہ یہ آگ لوگوں کو جلانے کے لیے نہیں ہوگی، بلکہ جہاں لوگ ٹھہریں گے یہ آگ بھی وھاں رک جائے گی اور جب وہ چلیں گے تو یہ بھی ان کے پیچھے چلے گی۔  یہ آگ لوگوں کے عذاب کے لئے نہیں، بلکہ صرف لوگوں کو ارضِ محشر تک پہنچانے کے لیے ہوگی۔

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں: "نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ہم قیامت کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو: دھواں ، دجال ، دابۃ الارض ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، عیسیٰ ابن مریم کا نزول ، یاجوج ماجوج اور تین خسوف: ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ عدن کی طرف سے نکلے گی جو لوگوں کو ان کے محشر کی طرف ہانک دے گی۔"

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما بیان کرتے ہیں: "نبی  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قیامت سے پہلے حضرموت کے سمندر یا حضرموت سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو جمع کر کے لے جائے گی۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ ہمیں کس جگہ جانے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمایا: شام کی طرف۔

نبی  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "ایک آگ اہلِ مشرق پر مسلط کی جائے گی جو انھیں مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی۔ وہ ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، دن میں ان کے ساتھ قیام کرے گی جہاں وہ قیام کریں گے، جو چیز ان سے گر جائے گی وہ اسے اٹھا لے گی اور انھیں ایسے ہانکے گی جیسے ٹوٹا ہوا اونٹ ہانکا جاتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "لوگ تین طرح پر جمع کیے جائیں گے: کچھ لوگ خوش دلی اور شوق سے، کچھ لوگ خوف اور دباؤ سے، دو آدمی ایک اونٹ پر، تین ایک اونٹ پر، چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی، وہ جہاں قیام کریں گے آگ بھی قیام کرے گی، جہاں رات گزاریں گے آگ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی، جہاں صبح کریں گے آگ بھی صبح کرے گی اور جہاں شام کریں گے آگ بھی ان کے ساتھ شام کرے گی۔

حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں: "مجھے صادق و مصدوق نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتایا کہ لوگ تین گروہوں میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروہ جو کھاتا پیتا، لباس پہنے اور سواری پر ہوگا؛ دوسرا گروہ جو پیدل چلے گا اور دوڑے گا؛ اور تیسرا گروہ جسے فرشتے گھسیٹ کر ان کے چہروں کے بل آگ کی طرف لے جائیں گے۔ ہم نے کہا: اے ابو زر! ان میں سے پہلے دو گروہوں کو تو ہم نے سمجھ لیا، لیکن جو لوگ پیدل چلیں گے اور دوڑیں گے ان کا حال کیا ہوگا؟ ابو زر نے کہا: اللہ تعالیٰ زمین کے جانوروں پر آفت نازل کرے گا یہاں تک کہ سواری کے لیے کوئی جانور باقی نہ رہے۔

سر زمین حجاز سے  654 ہجری میں ایک آگ نکلی تھی جس کا آغاز ایک زلزلے سے ہوا تھا۔ اس آگ کے شعلے بلند ہوئے تھے اور پھر وہ خود بخود ختم ہوگئی تھی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہی آگ تھی جو حشر کے لیے لوگوں کو ہانک لے جائے گی لیکن یہ بات درست نہیں ھے کیونکہ حدیث سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ حشر کی آگ ہے بلکہ یہ ایک الگ سے آگ تھی جس کا ذکر بھی روایات میں آیا ھے ۔ رھی یمن سے نکلنے والی آگ تو  اس آگ  سے مراد قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے جو قرب قیامت میں نمودار ھو گی اور یہ آگ لوگوں کو ہانک کر محشر کی طرف لےجائے گی، اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی جیسا کہ دوسری احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نےفرمایا: ”لوگوں کو آگ ھانک کر لے جائے گی اور وہ دن رات ان کے ساتھ رہے گی۔ “  (صحیح البخاري )

روایات کے مطابق  قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے آخری علامت  یمن سے آگ کا نکلنا ہے، اس وقت دنیا میں حالات کچھ اس طرح ھوں گے کہ  قیامت کا صور پھونکے جانے سے پہلے زمین پر بت پرستی اور کفر پھیل جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے شام میں جمع ہونے کے اسباب پیدا ہوں گے، شام میں حالات اچھے ہوں گے، لوگ وہاں کا رخ کریں گے، پھر یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ارضِ محشر یعنی شام کی طرف ہانکے گی، جب سب لوگ ملک شام میں پہنچ جائیں گے تو یہ آگ غائب ہوجائے گی، اس کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ مزے سے زندگی بسر کر رہے ہوں گے، کچھ عرصہ اسی حالت میں گزرے گا کہ اچانک صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی


Share:

حبشہ کے کافروں کا بیت اللہ شریف کو گرانا ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


قیامت کی علاماتِ کبری  میں سے ایک بڑی نشانی خانہ کعبہ کا حبشیوں کے ھاتھوں  منہدم  ھونا ھے جو بالکل قیامت کے قریب ھو گا۔ اس وقت حبشہ کے کافروں کا غلبہ ھو گا ۔ ان کے بڑے سردار کا نام  “ جھجاہ “ ھو گا”۔ روئے زمین پر ان ھی کی سلطنت  ھو گی۔  ظلم و فساد عام ھو گا ۔ بے شرمی اور بے حیائی کھلم کھلا ھو گی ۔ لوگ جانوروں کی طرح سڑکوں پر زنا کریں گے ۔ حبشی لوگ خانہ کعبہ کو شہید کر دیں گے

کعبۃُ اللہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں سے ایک عظیمُ الشَّان نشانی ہے ۔ جب تک یہ قائم ہے دنیا باقی ہے جب اس کو گرا دیا جائے گا تو دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی اور قیامت بَرپا ہو جائے گی ۔ قربِ قیامت میں  میں ایک کالا حبشی شخص خانہ کعبہ کو منہدم کرے گا جس کا نام “ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ “  (دو چھوٹی پنڈلیوں والا) ہوگا ۔ اس کا یہ نام اس کی پنڈلیوں کے چھوٹے اور باریک ہونے کی وجہ سے ہوگا ۔ وہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو گرا دے گا ، اس کے غلاف کو اتار دے گا اور اس کے زیورات کو لوٹ لے گا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا۔“ [صحيح البخاری 

جو  اکڑتا ہوا چلے یا چلتے میں اس کے دونوں پنجے تو نزدیک رہیں اور دونوں ایڑیوں میں فاصلہ رہے۔اسے عربی میں افحج کہا جاتا ھے  وہ حبشی مردود جو قیامت کے قریب  خانہ کعبہ کو ڈھائے گا ایک روایت کے مطابق وہ اسی شکل کا ہوگا۔ دوسری روایت میں ہے اس کی آنکھیں نیلی، ناک پھیلی ہوئی ہوگی، پیٹ بڑا ہوگا۔ اس کے ساتھ اور لوگ بھی ہوں گے وہ کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھاڑ ڈالیں گے اور پانی میں لے جاکر پھینک دیں گے۔ یہ قیامت کے بالکل نزدیک ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اہل حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو سوائے “ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ “ حبشی کے کوئی اور نہیں نکالے گا ۔

(سنن أبي داود)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ھے کہ نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا گویا میری نظروں کے سامنے وہ پتلی ٹانگوں والا سیاہ آدمی ہے جو خانہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو اکھاڑ پھینکے گا۔ ( صحیح بخاری)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے روایت کرتے ہیں، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ”جب تک حبشی تم سے تعرض نہ کریں تم بھی ان سے تعرض نہ کرو، کیونکہ کعبہ کا خزانہ باریک پنڈلیوں والا حبشی ہی نکالے گا۔

(رواہ ابوداؤد۔ )

Share: