روزہ اسلام کا ایک اھم رکن ھے اور اس کی فضیلت قرآن و سنت میں بہت زیادہ بیان کی گئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ھے
یٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo
(البقرة، 2: 183)
’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘
فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ ط وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا ﷲ عَلٰی مَا هَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo
(البقرة، 2: 185)
’’پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لیے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘
رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی بہت سی آحادیث مبارکہ میں روزے کی فضیلتیں بیان فرمائی ھیں چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ھے
عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: قَالَ ﷲ: کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهٗ إِلَّا الصِّیَامَ، فَإِنَّهٗ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهٖ، وَالصِّیَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا کَانَ یَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَـلَا یَرْفُثْ وَلَا یَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهٗ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهٗ فَلْیَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ، لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْیَبُ عِنْدَ ﷲِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ یَفْرَحُهُمَا: إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهٗ فَرِحَ بِصَوْمِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.
أخرجه البخاري في الصحیح،
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اُسی کے لیے ہے سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور اُس کی جزاء میں ہی دیتا ہوں۔ روزہ ڈھال ہے اور جس روز تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو نہ فحش باتیں کرے اور نہ جھگڑے۔ اگر اُسے کوئی گالی دے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضے میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے اُسے فرحت ہوتی ہے۔ جب افطار کرے تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کے(عظیم اجر کے) باعث خوش ہو گا ۔
آحادیث مبارکہ میں بہت سے مقامات پر روزے کی بہت سی فضیلتیں بیان کی گئی ھیں جو بندہ کو اس عظیم عبادت کی ترغیب دیتی ھیں :-
1. روزے کا خاص اجر اور نسبتِ الٰہی
- حدیثِ قدسی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "آدم کے بیٹے کا ہر عمل اس کے لیے ہے, مگر روزہ، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔
- بے حساب ثواب: اس عمل کو اللہ نے خاص اپنی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ اس میں ریاکاری کا شائبہ کم ہوتا ہے، اس لیے اس کا اجر بے حد و حساب اور بغیر کسی ناپ تول کے ملے گا۔
- فرمانِ نبوی ﷺ: "جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (صحیح بخاری و مسلم
3. روزہ دار کے لیے دو خوشیاں
- نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ شادمان ہوتا ہے: ایک خوشی اسے افطار کے وقت ہوتی ہے (جب وہ دن بھر کی بھوک پیاس کے بعد افطار کرتا ہے) اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی (جب وہ روزے کا اجر دیکھے گا)
- حضرت عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنهما سے مروی ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن شفاعت (سفارش) کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اسے دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشِ نفس سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔
- حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک (کستوری) کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر اور پاکیزہ ہے۔
- روزے کا منکر کافر ھے اور بلا عذر شرعی اسے ترک کرنے والا فاسق ھے
- اللہ پاک عمل کی توفیق عنایت فرمائے
- آمین یا رب العالمین