صفا پہاڑی سے عجیب الخلقت جانور کا نکلنا 

قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت دابة الارض کا زمین سے نکلنا ہے، اس کا ذکر قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔ مغرب سے سورج طلوع ہونے کے واقعے کے کچھ ہی روز بعد مکہ مکرمہ میں واقع پہاڑ صفا پھٹے گا اور اس سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا، اور بڑی تیزی کے ساتھ ساری زمین میں پھر جائے گا، اس کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہوگا، ایمان والوں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ کے عصا سے ایک نورانی لکیر کھینچ دے گا، جس سے ان کا سارا چہرہ روشن ہوجائے گا، اور کافروں کی ناک یا گردن پر حضرت سلیمان کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگادے گا، جس سے اس کا سارا چہرہ میلا ہوجائے گا، لوگوں کے مجمع میں ایمان والوں کو کہے گا: یہ ایمان دار ہے، اور کافر کے بارے میں کہے گا کہ: یہ کافر ہے، اس کے بعد وہ غائب ہوجائے گا۔

چنانچہ قران پاک میں اللہ پاک کا فرمان ھے

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ (82)

اور جب ان پر با ت آپڑے گی توہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گااس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔

حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تین باتیں جب ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ الا یہ کہ وہ پہلے ایمان لا چکا ہو اور نیک اعمال کرتا رہا ہو۔ ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرے دجال کا نکلنا اور تیسرے دابۃ الارض کا خروج“

 [مسلم۔ کتاب الایمان] 


2۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دابة الارض نکلے گا تو اس کے پاس سلیمان کی مہر اور موسیٰ کا عصا ہو گا۔ پھر وہ (عصائے موسیٰ سے) مومن کے منہ پر لکیر کھینچ دے گا جس سے وہ چمک اٹھے گا اور کافر کی ناک پر (سلیمان کی انگوٹھی سے) مہر لگا دے گا۔ یہاں تک کہ سب لوگ ایک خوان پر جمع ہوں گے تو وہ یہ کہے گا کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔ (یعنی مومن اور کافر ممتاز ہو جائیں گے) [ترمذي۔ ابواب التفسير] 


3۔ حضرت حذیفہ بن اسید غفاریؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر برآمد ہوئے جبکہ ہم گفتگو میں مشغول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا باتیں کر رہے تھے؟“ ہم نے عرض کیا: قیامت کا ذکر کرتے تھے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی۔ جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نشانیاں بتلائیں۔ دھواں، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا، نزول عیسیٰ ابن مریم، یاجوج ماجوج کا خروج۔ تین مقامات پر زمین کا خسف مشرق میں، مغرب میں، جزیرہ عرب میں۔ اور ان نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو لوگوں کو یمن سے نکال کر ہانکتی ہوئی ان کے محشر (سر زمین شام) کی طرف لے جائے گی“ [مسلم]

Share:

سورج کا مغرب سے طلوع ہونا - قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ایک بڑی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور اسے عظیم نشانی کہا گیا کیونکہ ان دس نشانیوں میں سے اس نشانی کا ظاہر ہونا توبہ کے دروازے کا بند ہونا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر موجود ہے۔

سورج کا مغرب سے طُلوع ہونے کے بعد  توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اب کسی کی توبہ قُبول نہ ہو گی جو کافرہے وہ کافر ہی رہے گا اورجو مسلمان ہے وہ مسلمان ہی رہے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ھے 

هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ 

کیا وہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا رب آئے یا تمہارے رب کی کوئی نشانی آئے، جس دن تمہارے رب کی کوئی خاص نشانی آ جائے گی تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی، (الانعام)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو گا۔ (پھر اس کے بعد) جب وہ طلوع ہو گا تو لوگ اسے دیکھتے ہی ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا مرحلہ ہو گا جب کسی نفس کے لیے اس کا ایمان قبول کر لینا سود مند نہ ہو گا۔ کیونکہ اس سے پہلے نہ تو اس نے ایمان قبول کیا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے (کسی) اچھائی کو حاصل کیا تھا۔“ (صحيح بخاري)

حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مغرب کی سمت سے آفتاب طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (مسلم)​

معلوم ہو کہ جب مذکورہ قیامت کی نشانی ظاہر ہو جائےگی  تو پھر کسی شخص کی توبہ قبول نہ ہو گی اور آج اللہ پاک کی رحمت وسیع  ہے ، معافی مل سکتی ہے، لہذا ہمیں چاہیئے کہ اس وقت کے منتظر نہ رہیں کہ جب معافی نہیں ملے گی، موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جلد از جلد توبہ کر کے اپنے تمام گناہوں کی اللہ پاک سے بخشش کروا لیں۔ یہ توبہ قبولً  ہونے کی حد ہے کہ مغرب کی سمت سے آفتاب نکلنے سے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا لہٰذا اس وقت تک جو بھی توبہ کرے گا اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی لیکن اس کے بعد کی جانے والی توبہ قبول نہیں ہوگی ۔ 

اسی طرح ھر انسان کے لئے اس وقت توبہ کا دروازہ بند ھوجاتا ھے جب وہ اس دنیا سے جا رھا ھوتا ھے اور حالتِ غرغرہ میں ھوتا ھے تو گویا توبہ قبول ہونے کی ایک حد شخصی بھی  ہوتی ہے جس کا تعلق ہر فرد سے ہوتا ہے انسان اپنی زندگی میں جب بھی سچی توبہ کرتا ھے اللہ پاک اس توبہ کو قبول فرماتے ھیں اور یہ  توبہ کی قبولیت کا وقت حالت غرغرہ (نزع) سے پہلے پہلے تک کا وقت ھوتا ہے یعنی جو شخص حالت غرغرہ سے پہلے پہلے توبہ کر لے گا اس کی توبہ قبول ہوگی۔ حالت غرغرہ کب شروع ھو جائے اس کا کسی بھی بندہ کو کوئی علم نہیں اور حالت غرغرہ میں کی جانے والی توبہ ھرگز قبول نہیں ہوگی

 ذوالحجہ کے مہینے میں دسویں ذوالحجہ کے بعد اچانک ایک رات بہت لمبی ہوگی کہ مسافروں کے دل گھبراکر بے قرار ہوجائیں گے، بچے سو سو کر اُکتا جائیں گے، جانور باہر کھیتوں میں جانے کے لئے چلانے لگیں گے، تمام لوگ ڈر اور گھبراہٹ سے بے قرار ہوجائیں گے، جب تین راتوں کے برابر وہ رات ہوچکے گی تو سورج ہلکی سی روشنی کے ساتھ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور سورج کی حالت ایسی ہوگی جیسے اس کو گہن لگا ہوتا ہے، اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور کسی کا ایمان یا گناہوں سے توبہ قبول نہ ہوگی، سورج آہستہ آہستہ اُونچا ہوتا جائے گا، جب اتنا اُونچا ہوجائے گا جتنا دوپہر سے کچھ پہلے ہوتا ہے تو واپس مغرب کی طرف غروب ہونا شروع ہوجائے گا اور معمول کے مطابق غروب ہوجائے گا، پھر حسب معمول طلوع و غروب ہوتا رہے گا۔

سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی کیفیت کے متعلق سیدنا ابوذر رضی الله عنہ سے مروی ایک حدیث ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ صحابه كرام رضى الله عنهم اجمعين نے عرض كيا: الله اور اس کا رسول صلی الله علیہ والہ وسلم خوب جانتے ہیں. تو آپ صلی الله علیہ والہ وسلم  نے فرمایا: ”یہ چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر عرش کے تلے آتا ہے وہاں سجدہ میں گرتا ہے (اس سجدہ کا مفہوم الله تعالیٰ ہی جانتا ہے) پھر اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو حکم ہوتا ہے اونچا ہو جا اور جا جہاں سے آیا ہے، وہ لوٹ آتا ہے اور اپنے نکلنے کی جگہ سے نکلتا ہے۔ پھر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش تلے آتا ہے اور سجدہ کرتا ہے پھر اسی حال میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے اونچا ہو جا اور لوٹ جا جہاں سے آیا ہے۔ وہ نکلتا ہے اپنے نکلنے کی جگہ سے پھر چلتا ہے اسی طرح ایک بار اسی طرح چلے گا اور لوگوں کو کوئی فرق اس کی چال میں معلوم نہ ہو گا یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر آئے گا عرش کے تلے اس وقت اس سے کہا جائے گا اونچا ہو جا اور نکل جا پچھّم کی طرف سے جدھر تو ڈوبتا ہے وہ نکلے گا پچھّم کی طرف سے۔“ پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو یہ کب ہو گا (یعنی آفتاب کا پچھّم کی طرف سے نکلنا) یہ اس وقت ہو گا جب کسی کو ایمان لانا فائدہ نہ دے گا، جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو اس نے نیک کام نہ کئے ہوں اپنے ایمان میں۔“ [صحيح مسلم، كتاب الايمان، رقم: 399 ]

Share:

خروج یاجوج ماجوج - قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

 یاجوج ماجوج 

قیامت کی علاماتِ کبری میں چوتھی  علامت  یاجوج ماجوج کا خروج ھے ۔ امام مہدی علیہ الرضوان   کے انتقال کے بعد تمام انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کے ہاتھ میں ہوں گے اور نہایت سکون و آرام سے زندگی بسر ہو رہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام   پر وحی نازل فرمائیں گے کہ میں ایک ایسی قوم نکالنے والا ہوں جس کے ساتھ کسی کو مقابلے کی طاقت نہیں ہے، آپ میرے بندوں کو کوہِ طور پر لے جائیں، اس قوم سے یاجوج ماجوج کی قوم مراد ہے۔ یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے، یہ قوم یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے، شمال کی طرف بحر منجمد سے آگے یہ قوم آباد ہے، ان کی طرف جانے والا راستہ پہاڑوں کے درمیان ہے، جس کو حضرت ذوالقرنین نے تانبا پگھلاکر لوہے کے تختے جوڑ کر بند کردیا تھا، بڑی طاقت ور قوم ہے دو پہاڑوں کے درمیان نہایت مستحکم آہنی دیوار کے پیچھے بند ہے، قیامت کے قریب وہ دیوار ٹوٹ کر گر پڑے گی اور یہ قوم باہر نکل آئے گی اور ہر طرف پھیل جائے گی اور فساد برپا کرے گی۔ یاجوج ماجوج آہنی دیوار ٹوٹنے کے بعد ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے، جب ان کی پہلی جماعت بحیرہٴ طبریہ پر سے گزرے گی تو اس کا سارا پانی پی جائے گی، جب دوسری جماعت گزریے گی تو وہ کہے گی: ” شاید یہاں کبھی پانی تھا“ 

جھیل طبریہ اسرائیل کے شہر طبریہ میں واقع ہے۔ یہ اسرائیل میں سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ہے جو 21 کلومیٹر لمبی ، 13 کلومیٹر چوڑی اور 43 میٹر گہری ہے ۔ یہ وہی جھیل ہے جسے آج اسرائیل اپنے لئے معتبر سمجھ رہا ہے وہی یاجوج ماجوج کی منزل ہوگی جس کا ذکر قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے فرما دیا تھا ،

یاجوج ماجوج کا ذکر سابقہ الہامی کتابوں میں بھی موجود ہے کہ اس مخلوق کو حضرت ذوالقرنین نے دیوار تعمیر کرکے انسانی دنیا کے دوسری جانب قید کردیا تھا لیکن قیامت سے پہلے یاجوج ماجوج اس دیوار سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور جہاں سے گزریں  گیں انسانی بستیوں کو تباہ و برباد کرتے چلے جائیں گے ۔ پھر وہ حملہ کرتے کرتے جھیل طبریہ  پر پہنچیں  گے جس کا ذکر کتابوں میں موجود ہے کہ وہ اس جھیل کا سارا پانی پی جائیں  گے اور اس کے پیچھے آنے والے یاجوج ماجوج گروہ کو اس میں ایک بھی پانی کا قطرہ نہیں ملے گا اور ایسا محسوس ہوگا جیسے یہاں کبھی کوئی جھیل ہی نہیں تھی 

محقیقین کے مطابق قرآن مجید کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ذو القرنین نے دو پہاڑوں کے درمیان سفر کیا ۔ اس پہاڑی سلسلے میں ایک جگہ بہت ہی بلند ترین پہاڑ ہیں جن کے درمیان وہ واحد راستہ ہے جہاں سے آیا جایا جاسکتا ہے مگر یہ راستہ مکمل برف سے ڈھکا ہوا ہے اس کے اندر لوہا اور دھات موجود ہے۔

تاریخ کے مطابق قومِ یاجوج ماجوج خانہ بدوش اور وحشی قبائل پر مشتمل تھی۔ ان کی تعداد بہت تیزی کیساتھ بڑھی ۔ یہ حضرت ذو القرنین کے ز مانے تک مختلف قبائل ، قوموں اور آبادیوں میں پھیل چکے تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ تب سے اب تک یاجوج ماجوج اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح دیوار کو گراکر باقی دنیا سے جاملیں۔ یہ روز دیوار کو توڑتے ہیں ، جب تھوڑا سا حصہ رہ جاتا ہے اور سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا سردار واپسی کا حکم دیتا ہے کہ باقی کا کام کل کریں گے مگر اگلے روز دیوار کہیں زیادہ مضبوط ہوچکی ہوتی ہے۔

جب یاجوج ماجوج کے خروج کا وقت آپہنچے گا تو وہ تمام دن دیوار میں سوراخ کریں گے اور ہر روز کی طرح ان کا سردار شام کو واپسی کا حکم دے گا اور کہے گا باقی کام کل کریں گے ان شاء اللّٰہ  ۔ اس سے پہلے کبھی انہوں نے یہ ان شاء اللہ کے الفاظ استعمال نہ کیے ھوں گے  ۔ ان الفاظ کی برکت سے دوسرے روز دیوار کو ویسا ہی پائیں گے جیسا چھوڑ کر گئے تھے۔ انتہائی پر جوش ہوکر دیوار گرا دیں گے اور زمین پر پھیلتے چلے جائیں گے۔ جہاں سے گزریں گے تباہی پھیلائیں گے 

جھیل طبریہ کا ذکر توریت وانجیل میں بھی آیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام  نے بڑا حصہ اسی جھیل کے ساحل پر گزارا ۔ یہاں سے قتل وغارت کرتے ہوئے یاجوج ماجوج بیت المقدس تک پہنچیں گے اور اعلان کریں گے کہ زمین پر ہمارا قبضہ ہوچکا ،اب ہم آسمانوں پر بھی قبضہ کریں گے اور آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے جو خون آلود واپس آئیں گے۔ کوئی ان کا مقابلہ نہ کر پائے گا حضرت عیسی علیہ السلام  اللّٰہ کے حکم سے مسلمانوں کو لے کر کوہ طور پر پناہ لیں گے اور عام لوگ محفوظ مقامات پر بند ہوکر اپنی جانیں بچائیں گے۔

یاجوج ماجوج کی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام  اور مسلمان بڑی تکلیف میں ہوں گے، کھانے کی قلّت کا یہ عالم ہوگا کہ بیل کا سر سو دینار سے بھی قیمتی اور بہتر سمجھا جائے گا، حضرت عیسی علیہ السلام  یاجوج ماجوج کے لئے بددُعا کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک بیماری پیدا کردیں گے جس سے سارے مرجائیں گے، اور زمین بدبودار تعفن سے بھر جائے گی، حضرت عیسی علیہ السلام  کی دُعا سے اللہ تعالیٰ بڑی بڑی گردنوں والے پرندے بھیجیں گے جو ان کو اُٹھاکر جہاں اللہ تعالیٰ چاہیں گے پھینک دیں گے، پھر موسلا دھار بارش ہوگی جو ہر جگہ ہوگی کوئی مکان یا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہوگا جہاں پر یہ بارش نہ پہنچے، وہ بارش پوری زمین دھوکر صاف و شفاف کردے گی اور بدبو ختم ہوجائے گی۔

بخاری شریف کی ایک حدیثِ مبارکہ میں ھے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت  کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ  وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرا دیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا۔ صحابہ کرام کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ  وسلم ! پھر ہم میں سے وہ (خوش نصیب) شخص کون ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ  وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو، ایک ہزار( میں  999  )  یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی (معمولی تعداد) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے۔ 

[صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6530]

Share:

نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام - قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

 نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 

قیامت کی علاماتِ کبری میں تیسری علامت حضرت عیسی علیہ السلام کا آسمانوں سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے، نزولِ  حضرت عیسی علیہ السلام  کا عقیدہ قرآن کریم، احادیثِ متواترہ اور اجماع اُمت سے ثابت ہے، اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا ھر مسلمان پر فرض ہے، اور مسلمان ہونے کے لئے اس پر یقین ھونا ضروری ہے، اس عقیدے کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ آسمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ جب حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  مدینہ منورہ سے ہوکر دمشق پہنچ چکے ہوں گے اور دجال بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے دھتکارا ہوا دمشق کے قریب پہنچ گیا ہوگا، امام مہدی علیہ الرضوان  اور یہودیوں کے درمیان جنگیں زوروں پر ہوں گی کہ ایک دن فجر (  بعض کتابوں کے مطابق جن میں بہشتی زیور بھی شامل ھے عصر ) کی نماز کا وقت ہوگا، اَذانِ  ہوچکی ہوگی، لوگ نماز کی تیاری میں مشغول ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اُترتے ہوئے نظر آئیں گے، سر نیچے کریں گے تو پانی کے قطرے گریں گے، سر اُونچا کریں گے تو چمک دار موتیوں کی طرح دانے گریں گے، دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی جانب کے سفید رنگ کے مینار پر نزول فرمائیں گے، وہاں سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اُتریں گے، 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ  (متوفی 241ھ) نے نزولِ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق  مسند احمد بن حنبل میں کسی قدر طویل اور مفصّل روایت کو نقل کیا ہے جس میں نزولِ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کے متعلق تفصیل سے علامات ملتی ہیں جس سے اُن کو اُن کی آمد کے وقت پہچاننا باآسانی ممکن ہو سکے گا۔ مسند احمد بن حنبل میں نقل کردہ روایت کے مطابق بوقت نزولِ حضرت  عیسی علیہ السلام کا حلیہ یوں ہوگا: ’’میانہ قد، سرخ و سفید رنگت والے ہوں گے، اُن کے بدن پر سرخی مائل دو چادریں ہوں گی اور وہ اِس حال میں نازل ہوں گے کہ گویا ابھی غسل کرکے آ رہے ہیں (یعنی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا)۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام عدل و انصاف قائم کریں گے، عیسائیوں کی صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو ختم کردیں گے، یہودیوں اور دجال کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ یہودی ختم ہوجائیں گے، ان کے سانس میں یہ تاثیر ھو گی کہ جس کافر کو ان کا سانس پہنچے گا وہ وہیں مرجائے گا، ”بابِ لُدّ“ پر دجال کو قتل کریں گے، ان کی زمانے میں زمین  اپنی برکات اگل دے گی ۔ مال کی اتنی فراوانی ہوجائے گی کہ کوئی اسے قبول  کرنے والا نہیں ھو گا۔ حضرت اِمام مہدی علیہ الرضوان   کی وفات کے بعد تمام انتظام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سنبھالیں گے، دجال کو قتل کرنے کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام مسلمانوں کے احوال کی اصلاح فرمائیں گے، ان کے زمانے میں یاجوج ماجوج  نکلیں  گے  حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو  کوہِ طور پر لے جائیں  گے اور یاجوج ماجوج کے لئے بد دعا کریں گے، اللہ تعالی کے حکم سے تمام یاجوج ماجوج ختم ھو جائیں گے ۔ اس دوران حضرت عیسی علیہ السلام  نکاح بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی، چالیس یا پینتالیس یا انچاس برس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام  کی وفات ہوگی، مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوگا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضہٴ مبارک میں دفن ہوں گے،

واضح رہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے متعلق درست اور اسلامی عقیدہ یہی ہے کہ وہ اللہ تعالی کے بندے اس کے نبی اور رسول ہیں اور  اللہ تعالٰی نے ان کو یہود و نصاری کی سازش اور مکر وفریب سے محفوظ رکھ کر انہیں آسمانوں کی طرف اُٹھا لیا ہے اور وہ آسمانوں پر حیات ہیں اور قیامت سے پہلے دوبارہ اللہ کے حکم سے دنیا میں تشریف لائیں گے اور دینِ محمدی کی پیروی کریں گے یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی رفع الی السماء اور  حیات سے متعلق  قرآن کریم کی کئی آیات مبارکہ اور بہت ساری  احادیث مبارکہ اس ہر شاھد   ہیں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، جس کی تصدیق قرآن و حدیث دونوں سے ہوتی ہے۔ اس پر ایمان لانا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ یہ عقیدہ نہ صرف ایمان کی پختگی کا ذریعہ ہے بلکہ ہمیں یہ یاد بھی دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور قیامت ضرور برپا ہوگی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ایمان پر مضبوط رہیں، گناہوں سے بچیں، اور آخرت کی تیاری میں کوشاں رہیں۔ نزولِ مسیح کا مقصد یہی ہے کہ حق غالب آئے، باطل مٹ جائے، اور عدل و انصاف کا قیام ہو۔

Share:

خروجِ دجّال ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

 خروجِ دجال 

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے دوسری بڑی علامت خروجِ دجال ہے، احادیث مبارکہ میں دجال کا ذکر بڑی وضاحت سے آیا ہے، ہر نبی دجال کے فتنے سے اپنی اُمت کو ڈراتا رہا ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کی نشانیاں بھی بیان فرمائی ہیں، دجال کا ثبوت احادیث متواترہ اور اِجماعِ اُمت سے ہے۔ دجال کا لغوی معنی ہے: مکار، جھوٹا، حق اور باطل کو خلط ملط کرنے والا، اس معنی کے اعتبار سے ہر اس شخص کو جس میں یہ اوصاف ہوں دجال کہا جاسکتا ہے۔ یہاں دجال سے ایک خاص کافر مراد ہے، جس کا ذکر احادیث میں تواتر کے ساتھ موجود ہے، جو یہودی ہوگا، خدائی کا دعویٰ کرے گا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک․ف․ر یعنی کافر لکھا ہوا ہوگا، دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، دائیں آنکھ کی جگہ انگور کی طرح کا اُبھرا ہوا دانہ ہوگا، زمین پر اس کا قیام چالیس دن ہوگا، لیکن ان چالیس دنوں میں سے پہلا دن سال کے برابر، دوسرا دن مہینے کے برابر اور تیسرا دن ہفتے کے برابر ہوگا، باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، بندوں کے امتحان کے لئے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے مختلف خرقِ عادت اُمور اور شعبدے ظاہر فرمائیں گے، وہ لوگوں کو قتل کرکے زندہ کرے گا، وہ آسمان کو حکم کرے گا آسمان بارش برسائے گا، زمین کو حکم کرے گا زمین غلہ اُگائے گی، ایک ویرانے سے گزرے گا اور اسے کہے گا: اپنے خزانے نکال! وہ اپنے خزانے باہر نکالے گی، پھر وہ خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چلیں گے، آخر میں ایک شخص کو قتل کرے گا، پھر زندہ کرے گا، اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا تو نہیں کرسکے گا، دجال پوری زمین کا چکر لگائے گا، کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال نہیں جائے گا، سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، کہ ان دو شہروں میں فرشتوں کے پہرے کی وجہ سے وہ داخل نہیں ہوسکے گا، دجال کا فتنہ تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان جب قسطنطنیہ کو فتح فرماکر شام تشریف لائیں گے، دمشق میں مقیم ہوں گے کہ شام اور عراق کے درمیان میں سے دجال نکلے گا، پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا، یہاں سے اصفہان پہنچے گا، اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کے ساتھ ہوجائیں گے، پھر خدائی کا دعویٰ شروع کردے گا اور اپنے لشکر کے ساتھ زمین میں فساد مچاتا پھرے گا، بہت سے ملکوں سے ہوتا ہوا یمن تک پہنچے گا، بہت سے گمراہ لوگ اس کے ساتھ ہوجائیں گے، یہاں سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوگا، مکہ مکرمہ کے قریب آکر ٹھہرے گا، مکہ مکرمہ کے گرد فرشتوں کا حفاظتی پہرہ ہوگا، جس وجہ سے وہ مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہوسکے گا، پھر مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگا یہاں بھی فرشتوں کا حفاظتی پہرہ ہوگا، دجال مدینہ منورہ میں بھی داخل نہ ہوسکے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے کمزور ایمان والے گھبراکر مدینہ منورہ سے باہر نکل جائیں گے اور دجال کے فتنے میں پھنس جائیں گے۔ مدینہ منورہ میں ایک اللہ والے دجال سے مناظرہ کریں گے، دجال انہیں قتل کردے گا، پھر زندہ کرے گا، وہ کہیں گے اب تو تیرے دجال ہونے کا پکا یقین ہوگیا ہے، دجال انہیں دوبارہ قتل کرنا چاہے گا مگر نہیں کرسکے گا۔ یہاں سے دجال شام کے لئے روانہ ہوگا، دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، یہاں حضرت امام مہدی  علیہ الرضوان   پہلے سے موجود ہوں گے کہ اچانک آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام  اُتریں گے، حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  تمام انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے کرنا چاہیں گے وہ امام مہدی علیہ الرضوان  سے فرمائیں گے منتظم آپ ہی ہیں، میرا کام دجال کو قتل کرنا ہے، اگلی صبح حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ دجال کے لشکر کی طرف پیش قدمی فرمائیں گے، گھوڑے پر سوار ہوں گے، نیزہ ان کے ہاتھ میں ہوگا، دجال کے لشکر پر حملہ کردیں گے، بہت گھمسان کی لڑائی ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سانس میں بحکم ربی یہ تاثیر ہوگی کہ جہاں تک ان کی نگاہ جائے گی وہیں تک سانس پہنچے گا اور جس کافر کو آپ کے سانس کی ہوا لگے گی وہ اسی وقت مرجائے گا، دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسے پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ھے ۔ دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام   کو دیکھتے ھے بھاگنا شروع کردے گا، آپ اس کا پیچھا کریں گے  اور ”بابِ لُدّ“ پر پہنچ کر دجال کو قتل کردیں گے

Share:

حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

 اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کے آنے کا قطعی وقت صرف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے، لیکن احادیثِ نبوی ﷺ میں اس کی بے شمار نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ ان نشانیوں کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: 

علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں) 

 علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں) : 

یہ وہ نشانیاں ہیں جو رسول کریم ﷺ کی ولادت سے ظاہر ہو رہی ہیں اور امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور تک رونما ہوں گی۔ ان میں درج ذیل  نشانیاں شامل ہیں:

دین اور علمِ دین کا اٹھ جانا اور جہالت کا عام ہونا۔ نااہل لوگوں کو اہم عہدے سونپے جانا۔ قتل و غارت گری کی کثرت۔ زنا، جوا اور شراب نوشی کا کھلے عام رواج۔ عورتوں کی تعداد کا مردوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جانا۔ مال کی فراوانی، سود کا عام ہونا اور وقت میں برکت کا نہ رہنا۔اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں لوگوں کا مقابلہ کرنا۔ والدین کی نافرمانی اور اولاد کا اپنے ماں باپ کے ساتھ نوکروں جیسا برتاؤ کرنا  وغیرہ


علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں) ؛ 

یہ وہ دس بڑی اور غیر معمولی نشانیاں ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  کا ظہور سے شروع ھوں گی اور ایک تسلسل کے ساتھ  ظاہر ہوں گی اور ان کے بعد فوراً قیامت واقع ہو جائے گی۔

حضرت امام مہدی  علیہ الرضوان کا ظہور

قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سب سے پہلی علامت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان  کا ظہور ہے، احادیث مبارکہ میں حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان ، حضرت سیّدہ فاطمة الزھراء رضی اللہ عنہا کی اولاد میں  سے ہوں گے، ان کا  اسم گرامی محمد، والد گرامی کا نام عبداللہ ہوگا،  ان کا تعلق قبیلۂ قریش سے ھو گا ۔ رسول کریم   ﷺ سے بہت مشابہت رکھتے ھوں گے ، پیشانی کھلی اور ناک بلند ہوگی، زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے، پہلے ان کی حکومت عرب میں ہوگی پھر ساری دنیا میں پھیل جائے گی، سات سال حکومت کریں گے۔ مہدی لغتِ عربی  میں ہدایت یافتہ کو کہتے ہیں، ہر صحیح الاعتقاد اور باعمل عالم دین کو مہدی کہا جاسکتا ہے، بلکہ ہر راسخ العقیدہ نیک مسلمان کو بھی مہدی کہا جاسکتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی ہادی اور مہدی ہونے کی دُعا دی تھی اس سے بھی یہی لغوی معنی مراد ہے لیکن  یہاں مہدی سے مراد عظیم شخصیت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ 

 امام مہدی علیہ الرضوان مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے، آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہوجائیں گے، مسلسل جنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی، ہر جگہ کفار کے مظالم بڑھ جائیں گے، عرب میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہے گی، خبیر کے قریب تک عیسائی پہنچ جائیں گے، اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مدینہ منورہ پہنچ جائیں گے، اس وقت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان مدینہ منورہ میں ہوں گے، لوگوں کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوگا کہ اب امام مہدی علیہ الرضوان کو تلاش کرنا چاہئے، ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان کو امام بنالینا چاہئے، اس زمانے کے علماء کرام ، نیک لوگ، اولیاء اللہ اور اَبدال سب ہی امام مہدی علیہ الرضوان کی تلاش میں ہوں گے، بعض جھوٹے مہدی بھی پیدا ہوجائیں گے، امام مہدی علیہ الرضوان اس ڈر سے کہ لوگ انہیں حاکم اور امام نہ بنالیں، مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ آجائیں گے، اور بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے ہوں گے کہ حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان علماء کی ایک جماعت انہیں پہچان لے گی اور لوگ ان سے حاکم اور امام ہونے کی بیعت کرلیں گے، اسی بیعت کے دوران ایک آواز آسمان سے آئے گی جس کو تمام لوگ جو وہاں موجود ہوں گے سنیں گے، وہ آواز یہ ہوگی: ”یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور حاکم بنائے ہوئے امام مہدی علیہ الرضوان ہیں“ جب آپ کی بیعت کی شہرت ہوگی تو مدینہ منورہ کی فوجیں مکہ مکرمہ میں جمع ہوجائیں گی، شام، عراق اور یمن کے اہل اللہ سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور بیعت کریں گے۔ 

ان کی بیعت کے بعد مخالفین کی ایک فوج حضرت امام مہدی علیہ الرضوان سے لڑنے کے لئے آئے گی، جب وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان(  مقام بیداء  ) ایک جنگل میں پہنچے گی اور ایک پہاڑ کے نیچے ٹھہرے گی تو سوائے دو آدمیوں کے سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے، امام مہدی علیہ الرضوان مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئیں گے، رسول اللہ  کے روضہٴ مبارک کی زیارت کریں گے، پھر شام روانہ ہوں گے، دمشق پہنچ کر عیسائیوں سے ایک خونریز جنگ ہوگی جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوجائیں گے، بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوگی، امام مہدی علیہ الرضوان ملک کا انتظام سنبھال کر قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے عازمِ سفر ہوں گے۔ قسطنطنیہ فتح کرکے امام مہدی علیہ الرضوان شام کے لئے روانہ ہوں گے، شام پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد دجال نکل پڑے گا، دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا اور گھومتا گھماتا دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، عصر کی نماز کے وقت لوگ نماز کی تیاری میں مصروف ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اُترتے ہوئے نظر آئیں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے اور پھر دجال کے قتل کے لئے خروج کریں گے ۔  دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا، بالآخر بابِ لُدّ پر پہنچ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا کام تمام کردیں گے، 

مسلمان کافروں کو چن چن کر قتل کریں گے یہاں تک کہ اس وقت رُوئے زمین پر کوئی کافر نہیں رہے گا، سب مسلمان ہوں گے، حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی عمر پینتالیس، اڑتالیس یا انچاس برس ہوگی کہ آپ کا انتقال ہوجائے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے، آپ کا انتقال بیت المقدس میں  ہوگا اور وہیں آپ دفن ہوں گے۔

Share:

ایصال ثواب کیلئے بہترین نیت کیسے کی جائے۔

کسی بھی نفلی عبادت مثلا نفلی حج ، عمرہ  ، صدقہ و خیرات، تلاوت قرآن پاک ، نفلی نماز یا کسی بھی نیکی کا ثواب کسی بھی زندہ یا فوت شدہ مسلمان یا مسلمانوں کو ایصال کیا جا سکتا ھے

جتنے بھی لوگوں کو ثواب ایصال کیا جائے گا سب کو اس کا ثواب ملے گا اور ھر ھر کے برابر اتنا ھی ثواب ایصال کرنے والے کو بھی ملے گا

جن جن کو ایصال ثواب کرنا ھو عمل کرنے سے پہلے نیت کر لے یا پھر عمل کرنے کے بعد ایصال کر دے


بہترین نیت یعنی زندگی بھر کی نیت کرنے کا طریقہ       

      یااللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ! 

آج کے بعد میں جو بھی نفلی عبادت،  حج ، عمرہ، صدقہ و خیرات ، تلاوت قرآن پاک،  نفلی نمازیں بلکہ جو کچھ بھی ٹوٹا پھوٹا عمل تیری توفیق سے ہو سکے گا  یا اللہ  اپنے فضل و کرم کے شایانِ شان اس کا آجر و ثواب مرحمت فرما دے اور اسے ھماری  بخشش کا ذریعہ بنا دے اور اسے ہماری جانب سے اپنے پیارے محبوب، خاتم الانبیاء،  امام الانبیاء، حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ثواب کا یہ نَذْرانہ پہنچا دے۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت سے حضرت آدم علیہ السلام  سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، تمام ازواج مطہرات ، تمام اھل بیت ، تمام  صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان،  تمام اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُم اور تمام امت مسلمہ کی جناب میں یہ ثواب پہنچا  دے ۔ 

یا اللہ : سرکارِ دو عالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت  سے حضرت سَیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر اب تک جتنے انسان و جِنّات مسلمان ہوئے یا قیامت تک ہوں گے زندہ ھیں یا وفات پا چکے ھیں سب کو اس کا ثواب پہنچا دے

 یا اللہ : سرکارِ دو عالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت  سے میرے مرحوم والدین صاحبان ، مرحوم سسر و  ساس صاحبان ،  مرحوم بیٹے عبد الرحمن صاحب ، مرحوم بھائی نصیر احمد صاحب ، مرحوم اساتذہ کرام ، مرحوم  تمام رشتے دار ،  عزیز و اقارب ، تمام دوست و احباب کو بھی اس کا ثواب پہنچادیجیے اور اپنی رحمت واسعہ کی طفیل  سب کی مغفرت فرما دیجیے

آمین یا رب العالمین


جب آپ یہ نیت ایک دفعہ کر لیں گے تو اس کے بعد آپ جو بھی نفلی نیکی کریں گے اس کا ثواب خودبخود سب کو پہنچ جائے گا اور اسی حساب سے آپ کے نامہ اعمال میں بھی ثواب  درج ھو جائے گا بس ایک مرتبہ خلوص دل سے یہ نیت کر لیں 

اللہ پاک بہت بہت قبول فرمائے

آمین یا رب العالمین

Share: