تیمّم

 

 تیمم کا لغوی معنی قصد اور ارادہ کرنا ہے، جبکہ شرعی اصطلاح میں پانی نہ ملنے یا کسی عذر کی وجہ سے پانی استعمال کرنے پر قادر نہ ہونے کی صورت میں، پاک مٹی (یا مٹی کے حکم میں زمین کی کسی پاک جنس) سے مخصوص طریقے کے مطابق چہرے اور ہاتھوں پر ہاتھ پھیر کر طہارت حاصل کرنے کو “تیمم “کہتے ہیں۔

اگر کسی وجہ سے پانی کا حصول ممکن  نہ ہو  یا  پانی تو دستیاب ھو لیکن کسی شرعی عذر کی بنا پر پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو  تو شریعتِ مطہرہ نے پاکی کے حصول کے  لیے تیمم کا طریقہ تجویز فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ  ہے :

﴿فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ﴾(  المائدہ : 6)

ترجمہ: تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کر لیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں کو اس زمین (کی جنس)  پر  سے (مار کر) پھیر لیا کرو"۔

   اس کی مختصر تفصیل یہ ھے کہ اگر انسان ایسی جگہ ہو کہ وہاں چاروں طرف ایک میل تک پانی کا پتا نہ ہو۔ یا پانی تو قریب ہی میں ہو مگر دشمن یا درندہ جانور کے خوف یا کسی دوسری وجہ سے پانی نہ لے سکتا ہو یا پانی تو دستیاب ھو لیکن پانی کے استعمال سے بیماری بڑھ جانے کا  گمان غالب ہو۔ تو ان صورتوں میں بجائے وضو اور غسل کرنے کے نیت کرکے پاک مٹی سے تیمم کرنے کی شریعت نے اجازت دی ھے۔  غسل (حدثِ اکبر) اور وضو (حدثِ اصغر)  کے لئے تیمم کرنے کا  طریقہ ایک ھی ہے۔

Share:

تیمّم کی شرائط اور فرائض

 تیمم کا لغوی معنی قصد اور ارادہ کرنا ہے، جبکہ شرعی اصطلاح میں پانی نہ ملنے یا کسی عذر کی وجہ سے پانی استعمال کرنے پر قادر نہ ہونے کی صورت میں، پاک مٹی (یا مٹی کے حکم میں زمین کی کسی پاک جنس) سے مخصوص طریقے کے مطابق چہرے اور ہاتھوں پر ہاتھ پھیر کر طہارت حاصل کرنے کو تیمم کہتے ہیں۔

اگر کسی وجہ سے پانی کا حصول ممکن  نہ ہو  یا  پانی تو دستیاب ھو لیکن کسی شرعی عذر کی بنا پر پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو  تو شریعتِ مطہرہ نے پاکی کے حصول کے  لیے تیمم کا طریقہ تجویز فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ  ہے :

﴿فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ﴾(  المائدہ : 6)

ترجمہ: تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کر لیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں کو اس زمین (کی جنس)  پر  سے (مار کر) پھیر لیا کرو"۔

   اس کی مختصر تفصیل یہ ھے کہ اگر انسان ایسی جگہ ہو کہ وہاں چاروں طرف ایک میل تک پانی کا پتا نہ ہو۔ یا پانی تو قریب ہی میں ہو مگر دشمن یا درندہ جانور کے خوف یا کسی دوسری وجہ سے پانی نہ لے سکتا ہو یا پانی تو دستیاب ھو لیکن پانی کے استعمال سے بیماری بڑھ جانے کا  گمان غالب ہو۔ تو ان صورتوں میں بجائے وضو اور غسل کرنے کے پاک مٹی سے تیمم کرنے کی شریعت نے اجازت دی ھے۔  غسل اور وضو کے لئے تیمم کرنے کا  طریقہ ایک ھی ہے۔


تَیَمُّم کی شرائط

نیت کرنا۔ تیمم کرتے وقت دل سے وضو یا غسل کی نیت کرنا ضروری  ہے۔ نیت کو بعض حضرات نے فرائض میں ذکر کیا ھے اور بعض نے شرائط میں ، دونوں طرح ٹھیک ھے 

 چہرے اور بازوؤں پر ھاتھوں کا پھیرنا یعنی  پورے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر کہنیوں یا کلائیوں تک ہاتھ کا اچھی طرح پھیرنا۔

تیمم کرتے وقت تین یا تین سے زائد انگلیوں کا استعمال کرنا ۔ 

مٹی یا زمین کی جنس سے تعلق رکھنے والی کسی چیز سے تیمم کرنا۔

جس چیز (مٹی وغیرہ) سے تیمم کیا جارہا ہو اس کا پاک ہونا۔

پانی کا دستیاب نہ ھونا یا شرعی عذر کی بنا پر پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہونا۔


تَیَمُّم کے فرائض:

۱۔ایک مرتبہ پاک مٹی پر ہاتھ مار کر سارے چہرے پر ہاتھ اس طرح پھیرنا کہ بال  برابر جگہ بھی خالی نہ رھے ۔

۲۔ دوسری مرتبہ پھر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں تک ہاتھ اسطرح پھیرنا کہ بال برابر جگہ خالی نہ رھے ۔ 



Share:

غسل کرنے کا طریقہ

 غسل کرنے کا مسنون طریقہ درج ذیل ہے:

غسل کرنے والے کو چاہیے کہ پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھ دھوئے پھر استنجے کی جگہ دھوئے، ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے۔ پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو اسے پاک کرے۔ پھر وضو کرے۔ اگر کسی چوکی(اسٹول) یا پتھر پر بیٹھ کر غسل کررہا ہے تو وضو کرتے وقت پیر بھی دھولے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پیر بھر جائیں گے اور غسل کے بعد پھر دھونے پڑیں گے تو سارا وضو کرے مگر پیر نہ دھوئے۔

وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے، پھر تین مرتبہ داہنے(سیدھے) کندھے پر اور پھر تین بار بائیں(الٹے) کندھے پر پانی ڈالے اس طرح کہ سارے جسم پر پانی بہہ جائے۔ ایک مرتبہ پانی بہانے کے بعد پہلے سارے جسم پر اچھی طرح ہاتھ پھیر لے پھر دوسری بار پانی بہائے تاکہ سب جگہ اچھی طرح پانی پہنچ جائے، کہیں سوکھا نہ رہے۔ پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاک جگہ میں آجائے اور پیر دھوئے اور اگر وضو کے وقت پیر دھو لیے ہوں تو اب دھونے کی حاجت نہیں۔ اس طرح غسل مکمل ہوجائے گا۔

اگر غسل کے بعد یاد آئے کہ فلانی جگہ سوکھی رہ گئی تھی تو پھر سے نہانا واجب نہیں، بلکہ جہاں سوکھا رہ گیا تھا اسی کو دھولے، لیکن فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ تھوڑا پانی لے کر اس جگہ بہا لینا چاہیے، اور اگر کلی کرنا بھول گیا ہو تو اب کلی کرلے، اگر ناک میں پانی نہ ڈالا ہو تو اب ڈال لے، غرض کہ جو چیز رہ گئی ہو اب اس کو کرلے، نئے سرے سے غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔


Share:

غسل کے مستحبات


جو چیزیں وضو میں مسنون ومستحب ہیں وہ غسل اور اس کے وضو میں بھی مسنون ومستحب ہیں اور غسل کے آداب بھی وہی ہیں جو وضو کے آداب ہیں سوائے ننگا نہانے کی صورت میں قبلہ رو ہونے اور اذکار ودعائیں پڑھنے اور غسل کا بچا ہوا پانی کھڑا ہو کر پینے کے ، کہ یہ امور غسل میں مستحب نہیں ھیں بلکہ مکروہ ہیں۔ 

غسل کے مستحبات کا بھی یہی حکم ھے کہ جو ان کا اھتمام کرے گا اسے ان شاء اللہ  اللہ تعالی اس پر ثواب عطا فرمائیں گے اور جو مستحبات کا اھتمام نہیں کرے گا اس پر کوئی گناہ بھی  نہیں ھے ۔ ثواب کے حصول کے لئے غسل میں مستحبات کا اھتمام  ضرور کرنا چاھیے ۔ غسل کے مستحبات مندرجہ ذیل ھیں :۔


قبلہ رخ منہ نہ کرنا

برہنہ حالت میں غسل کرتے وقت  آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ھوئے قبلہ کی طرف منہ نہ کیا جائے.


پانی کا اسراف نہ کرنا 

 غسل کرتے وقت پانی نہ تو بہت زیادہ بہایا جائے اور نہ ہی  اتنا کم پانی استعمال کیا جائے کہ اچھی طرح غسل  بھی نہ ہو سکے.


پردہ کا اھتمام کرنا 

ایسی جگہ غسل کیا جائے جہاں مکمل پردہ ھو تاکہ کوئی دوسرا نہ دیکھ سکے.  بہتر تو یہی ہے کہ کوئی کپڑا وغیرہ باندھ کر غسل کیا جائے، لیکن برہنہ ہو کر غسل کرنا جبکہ پردے کا پورا انتظام ہو ، بھی بلا کراہت جائز ہے ۔ غسل میں جو وضو کیا جاتا ہے وہ بعد میں نماز پڑھنے کے لئے بھی کافی ہے، نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر تنہائی کی جگہ ہو جہاں کوئی نہ دیکھ سکے تو ننگے ہوکر نہانا بھی درست ہے، چاہے کھڑے ہوکر نہائے یا بیٹھ کر اور چاہے غسل خانہ کی چھت ہو یا نہ ہو لیکن بیٹھ کر نہانا بہتر ہے کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔ ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک دوسرے کے سامنے بدن کھولنا نا جائزاورگناہ ہے۔


 خاموشی اختیار کرنا

غسل کے دوران بالکل خاموشی اختیار کی جائے اور بلا ضرورتِ شدیدہ  بات چیت بالکل نہ کی جائے.


بدن خشک کرنا

غسل کے فوراََ بعد کسی پاک کپڑے یعنی تولیہ وغیرہ سے اپنا بدن پونچھ لیا جائے اور جتنی جلدی ممکن ھو سکے کپڑے پہن لیے جائیں.


بدن ڈھانپنا

غسل مکمل ھونے کے بعد جلدی کپڑے پہن لئے جائیں یعنی غسل کی تکمیل کے بعد بدن کو چھپانے میں جلدی کی جائے،  یہاں تک کہ اگر وضو کرتے وقت پاؤں نہ دھوئے ہوں تو غسل کی جگہ سے ہٹ کر پہلے اپنا بدن ڈھکے پھر دونوں پاؤں دھوئے۔ 


Share:

غسل کی سنتیں

 غسل میں پانچ اعمال ایسے ھیں جنہیں سنت کا مقام حاصل ھے  اگر تھوڑا سا بھی دھیان دیں گے تو بآسانی پانچ سنتوں کا ثواب حاصل ھو جائے گا  البتہ سنت کے چھوٹنے سے غسل تو ھو جائے گا لیکن سنت کے ثواب سے محرومی بہرحال ھو گی اس لئے غسل کرتے وقت غسل کی سنتوں کا ضرور اھتمام کرنا چاھیے 


غسل کی پانچ سنتیں

ہاتھ دھونا: 

دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک اچھی طرح تین مرتبہ دھونا۔


استنجا کرنا:

 شرمگاہ یا بدن  پر لگی ھوئی  نجاست کو اھتمام سے  اچھی طرح دھونا۔


نیت کرنا: 

دل میں ناپاکی دور کرنے کی نیت کرنا۔ دل ھی سے پاکی حاصل کرنے کی نیت کرنا کافی ھے 


وضو کرنا:

 غسل سے پہلے نماز کی طرح وضو کرنا بھی غسل کی ایک سنت ھے ۔ اگر ایسی جگہ غسل کر رھا ھو جہاں نیچے پانی جمع ھو رھا ھے تو پاؤں کو بعد میں دھو لے


پورے جسم پر پانی بہانا: 

پورے جسم پر تین بار اس طرح پانی بہانا کہ جسم کا کوئی بھی حصہ خشک نہ رھے۔  غسل کے فرائض میں یہ بات گزر چکی ھے کہ بال برابر بھی جسم کا حصہ اگر خشک رہ گیا تو غسل نہیں ھو گا  سو اس کا خوب اھتمام کرنا چاھیے ۔ 


غسل کی سنتوں پر عمل کرنے کا بنیادی ثواب یہ ہے کہ غسل محض جسم دھونے یا عام صفائی کا کام نہیں رہتا بلکہ ایک باقاعدہ عبادت بن جاتا ہے اور انسان کو سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کا عظیم اجر حاصل ہوتا ہے۔“غسل کے فرائض ادا کرنے سے غسل توصحیح ہوجاتا ھے کیونکہ پاکی  کے حصول کے لیے غسلِ مسنون شرط نہیں ہے،  لیکن سنتوں پر عمل کرنے کے ثواب سے محرومی رہےگی۔” سنتوں پر عمل کرنے کی ھر ممکن کوشش کرنی چاھیے کیونکہ  سنتوں کو چھوڑنے کا معمول بنانا ثواب سے محرومی کی شکل میں بہت نقصان دہ ہے۔ اس لئے سنتوں کو سیکھ کر مستقلاً اپنے معمول میں لانا چاھیے 

Share:

غسل کے فرائض


اسلام میں غسل کے تین فرائض ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، اور پورے جسم پر پانی بہانا۔ ان تینوں میں سے اگر ایک فرض بھی کسی بھی وجہ سے رہ جائے تو غسل نہیں ہوتا۔

غسل کے تین فرائض 

کلی کرنا: 

منہ کے ہر حصے اور حلق کی جڑ تک پانی کا پہنچنا 


ناک میں پانی چڑھانا:

 ناک کے نرم حصے (نرم ہڈی) تک پانی کا اچھی طرح پہنچنا۔


تمام جسم پر پانی بہانا:

 سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلوؤں تک پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔

بدن کا اگر ایک بال یا بال برابر جسم کا کوئی حصہ بھی خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوگا اور انسان بدستور ناپاک رہے گا۔ ناک، کان کے سوراخوں میں پانی پہنچانا بھی فرض ہے، انگوٹھی چھلّہ اگر تنگ ہوں تو اس کو ہلا کر اس کے نیچے پانی پہنچانا بھی لازم ہے، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔

بعض خواتین ناخن پالش وغیرہ جیسی چیزیں استعمال کرتی ہیں جو بدن تک پانی پہنچنے نہیں دیتیں، غسل میں ان چیزوں کو اُتار کر پانی پہنچانا ضروری ہے۔ بعض اوقات بے خیالی میں ناخنوں کے اندر آٹا لگا رہ جاتا ہے اس کی وجہ سے پانی ناخنوں تک نہیں پہنچتا ایسی صورت میں اس کو نکالنا بھی ضروری ہے۔ الغرض! پورے جسم پر پانی بہانا اور جو چیزیں پانی کے بدن تک پہنچنے میں رُکاوٹ ہیں ان کو ہٹانا ضروری ہے، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔

عورتوں کے سر کے بال اگر گندھے ہوئے ہوں تو بالوں کو کھول کر ان کو تر کرنا ضروری نہیں، بلکہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچا لینا کافی ہے، لیکن اگر بال گندھے ہوئے نہ ہوں (جیسا کہ آج کل عموماً یہی ہوتا ہے) تو سارے بالوں کو اچھی طرح تر کرنا بھی ضروری ہے۔

Share:

وضو کا مسنون طریقہ

جب وضو کرنے کا ارادہ ہو تو وضو کی نیت کریں  کہ میں پاکی حاصل کرنے اور  اللہ تعالی کی رضا اور ثواب کے  لیے وضو کرتا ہوں  یہ نیت اگر دل میں کرلی تو بس کافی ھے تاھم زبان سے کہنے میں بھی کوئی ھرج نہیں اور  اونچی جگہ بیٹھیں تاکہ پانی کے چھنٹیں نہ پڑیں اور   " بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ گٹوں تک تین دفعہ دھوئیں، اگر قبلہ رخ ہو تو بہتر ہے، پھر دائیں ہاتھ سے تین دفعہ کلی کریں،پھر مسواک کریں،اگر مسواک نہ ہو تو موٹے کپڑے یا انگلی سے دانت صاف کریں،اگر روزہ نہ تو کلی میں مبالغہ کریں،پھر دائیں ہاتھ سے تین بار، ہر مرتبہ نیا پانی لے کر ناک میں پانی ڈالیں،اگر روزہ نہ ہو تو پانی نتھنوں کی جڑ تک پہنچائیں ،اور بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی ناک میں ڈال کر  ناک صاف کریں، پھر تین مرتبہ پیشانی کے بالوں سے تھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اس طرح چہرہ دھوئیں کہ سب جگہ پانی پہنچ جائے،  دونوں ابروؤں اور مونچھوں کے نیچے بھی پانی پہنچ جائے ،کوئی جگہ بال برابر بھی خشک نہ رہے۔ چہرہ دھوتے ھوئے پانی  زور سے نہ ماریں،اگر احرام بندھا ہوا نہ  ہو تو ڈاڑھی کا خلال کریں۔پھر داہنا ہاتھ کہنی سمیت دھوئیں ،ہاتھ پر پانی ڈالنے میں انگلیوں سے ابتدا کریں،انگوٹھی،چھلہ،گھڑی وغیرہ پہنا ہو تو ان کو ہلائیں تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہے،پھر اسی طرح بایاں ہاتھ تین دفعہ دھوئیں انگلی کا خلال کریں،اس طرح کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں پھر دونوں ہاتھ کو تر کر کے پورے سر کا مسح کریں ،پھر  کانوں کا مسح کریں، شہادت کی انگلی سے کان کے اندر کی طرف اور انگوٹھے سے باہر کی طرف دونوں چھوٹی انگلی کان کے سوراخ میں ڈالیں،پھر انگلیوں کی پشت کی طرف سے  گردن کا مسح کریں،پھر دونوں پاؤں پہلے دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھوئیں،پھربایاں پاؤں تین بار دھوئیں، پاؤں دھوتے وقت پاؤں کی انگلیوں کا خلال کریں،اس طرح کہ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے داہنے پاؤں کی چھنگلی سے شروع کر کے انگوٹھے تک پھر بائیں پاؤں کے انگوٹھے سے شروع کر کے چھنگلی پر ختم کریں۔ہر عضو کو دھوتے ہوئے بسم اللہ اور کلمہ و درود شریف بھی پڑھ لیا کریں،اگر وضو سے کچھ پانی بچ جائے تو قبلہ رخ کھڑے ہوکر پی لیں، پھر آسمان کی طرف منھ کر کے کلمۂ شہادت  {اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْكَ لَهٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُه }(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ یکتا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں) پڑھ کر یہ دعا  {اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ}(اے اللہ ! مجھے بہت توبہ کرنے والوں اور پاکی حاصل کرنے والوں میں بنا دیجیے) پڑھیں۔ اس کے بعد اگر  مکروہ وقت  نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھیں۔

Share: