متکلمِ اسلام حضرت مولانا حافظ الیاس گھمن صاحب حفظہ اللہ نے زکوة کے حوالے سے عام فہم زبان میں ایک بہترین کتاب لکھی ھے ۔ ان کی مرتب کردہ کتاب “زکوۃ کورس “ میں زکوة كے تمام مسائل کا فقہ حنفی کے مطابق احاطہ کیا گیا ھے ۔ زکوة کے مسائل سمجھنے کے لئے یہ ایک بہترین کتاب ھے .” زکوة كورس” اور احناف میڈیا کے فتاویٰ کی روشنی میں، درج ذیل لوگوں یا مصارف میں زکوٰۃ دینا شرعاً جائز نہیں ہے:
(اپنے اصول (اوپر کے رشتے )
وہ رشتے جن سے انسان پیدا ہوا ہو، انہیں زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی:والدین (ماں، باپ) دادا، دادی، پردادا، پردادی ، نانا ، نانی، پرنانا، پرنانی ۔
اپنے فروع (نیچے کے رشتے)
وہ اولاد جو کسی شخص کی اپنی نسل سے ہو، انہیں بھی زکوٰۃ دینا منع ہے:بیٹا اور بیٹی ، پوتا اور پوتی اور ان کی اولاد نواسہ، نواسی اور ان کی اولاد
(میاں اور بیوی ( زوجین)
شوہر اپنی بیوی کو اور بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتی، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے مال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور شوہر پر بیوی کا نان نفقہ واجب ہے۔
صاحبِ نصاب (مالدار شخص)
وہ شخص جو ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے یا اس کی مالیت کے برابر نقدی/مالِ تجارت کا مالک ہو، اسے زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔
اہم وضاحت
اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد سامان (جیسے قیمتی ٹی وی، فالتو موبائل، یا کوئی اور اضافی چیز) موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر بنتی ہو، تو وہ بھی شرعی طور پر مالدار ( صاحب نصاب ) تصور ھو گا اور اسے بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
سادات کرام (بنو ہاشم)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یعنی سادات (آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر، آلِ عقیل، آلِ حارث بن عبد المطلب) کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ ان کی مدد زکوٰۃ کے علاوہ نفلی صدقات یا تحائف سے کرنی چاہیے۔
غیر مسلم (کافر)
زکوٰۃ صرف مسلمان فقراء کا حق ہے، اس لیے کسی بھی غیر مسلم کو زکوٰۃ کی رقم نہیں دی جا سکتی۔ (البتہ نفلی صدقہ اور خیرات غیر مسلم کو بھی دی جا سکتی ہے)۔
مساجد، مدارس یا فلاحی اداروں کی تعمیر
مساجد، مدارس یا فلاحی اداروں کے تعمیری کام زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے "تملیک" (یعنی کسی مستحقِ زکوٰۃ مسلمان کو بلاعوض مال کا مالک بنانا) شرط ہے۔ اس لیے مسجد و مدرسہ وغیرہ کی تعمیر، میت کے کفن دفن، راستے یا پل بنانے، یا کسی ادارے کے انتظامی اخراجات (جہاں کسی غریب کو مالک نہ بنایا جائے) میں زکوٰۃ کا مال استعمال نہیں ہو سکتا۔