سجدۂ سہو کے مسائل (حنفی مسلک کی تشریحات کی روشنی میں )

 سجدۂ سہو 

   “ سہو “ کا معنی  ھے بھولنا ،  نماز میں بھول کی وجہ سے جو کمی پیدا ہو جاتی ہے،اس کمی کو دور کرنے کے لئے شریعتِ مطہرہ نے سجدۂ سہو کرنے کی آجازت دی ھے اس مقصد کے لئے آخری قعدہ میں دو سجدے کئے جاتے ہیں،اس کو"سجدہ سہو" کہا جاتا ہے۔ سجدۂ سہو کر لینے سے نماز مکمل ھو جاتی ھے 


نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے  اسباب

نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے کیا اسباب ھوتے ہیں؟  یہ ھر نمازی کے لئے جاننا بہت  ضروری ھے کیونکہ ان میں سے جب بھی کوئی سبب پایا جاتا ھے  تو سجدہ سہو واجب ہوجاتا ھے اور سجدۂ سہو  نہ کرنے کی صورت میں نماز نہیں ھوتی بلکہ نماز دوبارہ پڑھنا ضروری  ھو جاتا ھے

نماز میں سجدہ سہو  واجب ہونے کے درج ذیل اسباب ہیں، ان میں سے جب بھی کوئی سبب پایا جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوجائے گا۔ یعنی  نماز میں بھول کر درج ذیل غلطیاں کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔

[۱] ترک واجب ۔[۲] تقدیم واجب ۔[۳]تاخیر واجب ۔[۴]تبدیل واجب ۔[۵]تکرار واجب [۶] تقدیم فرض۔ [۷] تاخیر فرض۔[۸] تکرار فرض۔


:[۱] ترکِ واجب : 

اس کا مطلب یہ ہےکہ نماز کے واجبات میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ واجب  کسی شخص سے بھول کر رہ جائیں . مثلا  فرض کی پہلی یا دوسری  رکعت میں سورت فاتحہ رہ گئی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۲] تقدیمِ واجب: 

اس کا مطلب ہےکہ کسی واجب کو اس کے اصلی وقت سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ مثلا فرض نماز کی پہلی یا دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے کوئی سورت پڑھ لی ، تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۳]تاخیرِ واجب: 

اس کا مطلب ہے کہ کسی واجب کو اس کےاصلی مقام کے بعد ادا کرنا۔ مثلا کسی شخص نے سورۃ فاتحہ کو رکوع میں پڑھ لیا حالانکہ اس کا مقامِ اصلی قیام تھا،تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۴]تبدیلِ واجب: 

اس کا مطلب ہےکہ کسی ایک واجب کو دوسرے واجب سے تبدیل کرنا۔ مثلا امام نے جہری نماز میں سری قرآت کر دی یا سری نماز میں جہرا قرآت کر دی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۵] تکرارِ واجب؛

اس کا مطلب ہے کہ کسی واجب کو ایک سے زیادہ مرتبہ ادا کرنا۔ مثلا پہلے قعدہ میں ایک مرتبہ کی بجائے دو مرتبہ "التحیات" پڑھ لی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۶] تقدیمِ فرض: 

اس کا مطلب ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی مقام سے پہلے اداکرنا۔ مثلارکوع چھوڑ کر سجدہ کیا پھر سجدہ سے واپس آکر رکوع کردیا اور دوبارہ سجدہ کیا تو آخر میں سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۷]تاخیر فرض: 

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی مقام سے موخر کرنا۔مثلا ایک ہی سجدہ کیا پھر سلام سے پہلے یاد آیا تو دوسرا سجدہ کر دیا تو اب سجدہ سہو واجب ہوگا۔


[۸]تکرار فرض: 

اس کا مطلب یہ ہےکہ کسی فرض کو اس کی مقررہ حد سے زیادہ مرتبہ ادا کرنا۔ مثلا بھول کر دو رکوع کر دیے یا بھول کر تین سجدے کر دیے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔


سجدہ سہو کرنے کا مکمل طریقہ

سجدہ سہو  کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد (درود شریف اور دعا پڑھے بغیر) صرف دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرلیے جائیں، اور ہر سجدے میں حسبِ معمول  "سبحان ربي الأعلى" کہے اور سجدے کے بعد  بیٹھ  کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا جائے۔ سجدہ سھو کرنے کے اس کے علاوہ اور بھی طریقے ھیں۔  تاھم نصوص کی روشنی میں فقہاءِ احناف نے اسی طریقے کو ترجیح دی ہے، لہٰذا فقہ حنفی کے مطابق اسی پر عمل کیا جائے۔


سجدۂ سہو کے بعض مسائل

اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں بھول کر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ چکا ہو، اور پھر اسے یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ سہو لازم ہے، تو اسی وقت دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد وہ سہو کے دو سجدے کرکے دوبارہ التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے تو سجدہ سہو ادا ہوجائے گا۔

سجدہ سہو  واجب ہونے کے بعد ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کو ادا کرنا ضروری ہوتا ہے،  اگر  نماز میں سجدہ سہو واجب ہوجائے اور اس کو نہیں کیا تو ایسی نماز کا وقت کے اندر اعادہ واجب ہوتا ہے

اگر کسی شخص کو یہ گمان تھا کہ اس پر سجدہ سہو واجب ھو گیا ہے اور اس نے سجدہ سہو کرلیا بعد میں اُسے پتہ چلا کہ اس پر سجدہ سہو نہیں تھا تو اس کی نماز بلاکراہت صحیح ہوگئی ھے، اعادہ کی ضرورت نہیں

 فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے ۔ سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی لہٰذا نماز دوبارہ پڑھے اور سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ ، آمین، تکبیرات انتقال اور تسبیحات رکوع و سجود کے ترک سے بھی سجدۂ سہو نہیں ھے بلکہ نماز ہو گئی مگر اعادہ مستحب ہے ۔سہوا ً ترک کیا ہو یا قصداً۔

کسی واجب کو جان بوجھ کر ترک کر دیا تو سجدہ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوگی بلکہ اُس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔اسی طرح اگر بھول کر کسی واجب کو چھوڑ دیا اور سجدہ سہو نہیں کیا تب بھی نماز کا دو بارہ پڑھنا واجب ہوگا۔ ایک نماز میں کئی واجب بھول سے چھوٹ جائیں تو اس صورت میں بھی سہو کے دو سجدے ہی کافی ہیں۔

چار رکعت والی فرض یا وتر میں قعدۂ اولیٰ بھول کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو رہا تھا کہ یاد آگیا تو  حکم یہ ہے کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو۔لوٹ آئے اور سجدۂ سہو  نہیں اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو نہ لوٹے اور آخر میں سجدۂ سہو  کرے اور اگر سیدھا کھڑا ہو کر لوٹا تو پھر سجدۂ سہو  کرے ، نماز ہو جائے گی۔ مگر گناہگار ہوگا۔ لہٰذا حکم ہے کہ اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو واپس نہیں آئے۔

اگر سنت اور نفل کا قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو کیونکہ سنت اور نفل کا ہر قعدہ ،قعدۂ اخیرہ ہے یعنی فرض ہے،اس لئے اگر قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرلے۔

اگر قعدۂ اخیرہ میں التحیات پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اُس رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہو تو واپس لوٹ آئے اور دوبارہ التحیات پڑھے بغیر سجدہ سہو کرے، پھر التحیات درود شریف  وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔

قعدۂ اولیٰ میں بھول کر درود شریف بھی پڑھ دیا تو اگر "اللھم صل علی محمد" یا اللھم صل علی سیدنا" تک یا اس سے زیادہ پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے اور اگر اس سے کم پڑھا تو سجدہ سہو نہیں ھے مگر یہ حکم صرف فرض، وتر اور ظہر وجمعہ کی پہلی چار رکعت والی سنتوں کے لئے ہے،باقی دوسرے سنتوں اور نفل نمازوں کے ہر قعدہ میں درود شریف بھی پڑھنے کا حکم ہے۔

 جس پر سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر سجدہ سہو نہیں کیا اور نماز ختم کرنے کی نیت سے سلام پھیر دیا تو سلام پھیرنے کے فورا بعد یا د آگیااور ابھی تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جو نماز کے منافی ہو تو سجدہ سہو کرے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے نماز ہو جائے گی،لیکن اگر سلام پھیر نے کے بعد کوئی بات کر لی  یا کھڑا ہوگیا پھر یاد آیا تو اب پھر سے نماز پڑھے۔

سجدہ سہو واجب نہیں تھا اور کر لیا تو تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں ایسا کیا تو نماز ہو گئی اور اگر امام نے ایسا کیا تو امام اور وہ مقتدی جو پہلی رکعت سے آخر تک امام کے ساتھ پڑھ رھے تھے  ان سب کی نماز ہوگئی،البتہ  مسبوق کی نماز میں اختلاف ہے ، فساد اورعدم فساد دونوں قول منقول ہیں ۔ ایسی صورت میں مسبوق کا  احتیاطا  نماز کا اعادہ کرنا بہتر ہے تاھم  اعادہ نہ کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔  امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں مسبوق کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ سجدہ سہو کا سلام نہ پھیرے، البتہ سجدے اور تشہد میں امام کی متابعت کرے۔

نماز میں شک ہونے کی صورت میں کہ سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟ تو واضح رھے کہ  شک کی سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے لیکن  غلبۂ ظن میں نہیں مگر جبکہ سوچنے میں ایک رکن کا وقفہ ہوگیا تو سجدۂ سہو واجب ہو گیا۔

اگر مفرد یا امام چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھا تھا اور اس کے بعد  پانچویں رکعت کے لیے غلطی سے کھڑا ہوگیا تو  اس کے لیے یہ حکم ہے کہ  جب تک  وہ پانچویں رکعت کا سجدہ  نہ کرلے  قعدہ  کی طرف  واپس لوٹ آئے  اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے، اور اگر  پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا ہو تو اب اس کے  ساتھ چھٹی رکعت بھی ملادے اور آخر میں سجدہ سہو کرلینے سے نماز ہوجائے گی، چار رکعت فرض اور دو نفل ہوجائے گی۔

اور اگر مفرد یا  امام نے  چوتھی رکعت پر قعدہ  نہیں کیا تھا اور اس کے بعد پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے واپس قعدہ میں آجائے، اور سجدہ سہو کرکے نماز  مکمل کرلے، اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو اب  فرض نماز باطل ہوگئی،  اب اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔

اللہ پاک ھمیں عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین 


Share:

صور پھونکا جانا اور قیامت کا قائم ہونا

تمام علاماتِ کبری کے واقع ہوجانے کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ  بہت مزے سے زندگی گزار رھے ھوں گے کہ ایک دن جب  جمعہ کا دن ہوگا، لوگ معمول کے مطابق اپنے اپنے کاموں میں لگے ھوئے ہوں گے کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے گی، دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، اس کو سمیٹ نہ سکیں گے اور نہ ہی خرید و فروخت کرسکیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنی اُونٹنی کا دُودھ لے کر جا رھا ھو گا اور اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنے پانی والے حوض کی مرمت کر رہا ہوگا اور اس سے پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص نے نوالہ منہ کی طرف اُٹھایا ہوگا اسے منہ میں ڈال نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ قیامت حضرت اسرافیل علیہ السلام  کے صور پھونکنے سے برپا ہوگی جس کی آواز پہلے ہلکی اور پھر اس قدر ہیبت ناک ہوگی کہ اس سے سب جاندار مرجائیں گے، زمین و آسمان پھٹ جائیں گے، ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر فنا ہوجائے گی، چالیس سال بعد دوبارہ حضرت اسرافیل علیہ السلام  صور پھونکیں گے جس سے سب زندہ ہوکر میدانِ محشر میں جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔

قیامت کے آغاز کے بارے میں اسلامی عقیدے کے مطابق، صور پھونکنے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنے کا حکم دے گا، تو حضرت اسرافیل علیہ السلام کو صور پھونکنے کا حکم دیا جائے گا۔

صور پھونکنا اسلامی عقیدے کے مطابق صور میں پھونکنا (النفخ في الصور) ایک عظیم الشان واقعہ ہے جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے اور یہ قیامت کے ہولناک مناظر میں سے ایک ہے۔ یہ عمل دو مرتبہ انجام پائے گا:


پہلا نفخہ (پہلا صور پھونکا جانا)

اس پہلے صور کے پھونکنے سے تمام موجودات پر خوف طاری ہوگا اور زمین و آسمان کی تمام مخلوقات  ہلاک ہو جائیں گی، سوائے ان کے جنہیں اللہ بچانا چاہے۔ یعنی اس کے نتیجے میں آسمانوں اور زمین میں جو بھی موجود ہوگا، وہ بے ہوش ہو جائے گا یا مر جائے گا، سوائے ان کے جنھیں اللہ چاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ: آسمان پھٹ جائے گا ، ستارے بکھر جائیں گے ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے ، سمندر بھڑک اٹھیں گے ، زمین زلزلہ سے لرز اٹھے گی ، قبریں اُلٹ دی جائیں گی ، زمین اور آسمان اپنی موجودہ حالت میں باقی نہیں رہیں گے بلکہ انھیں نئی شکل دی جائے گی۔ 


دوسرا نفخہ (دوسرا صور پھونکا جانا): 

پہلے صور کے بعد ایک مدت کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا، جس سے مردے زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کے بعد بعث و نشور یعنی تمام مردوں کا دوبارہ زندہ کیا جانا اور محشر کی طرف روانگی ہوگی۔ اسلامی روایت کے مطابق فرشتہ اسرافیل علیہ السلام  اس صور پھونکنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔

قرآن مجید میں صور پھونکنے کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے، ان میں سے ایک واضح مقام سورۃ الزمر کی آیت 68 ہے:

وَنُفِـخَ فِى الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّـٰهُ ۖ ثُـمَّ نُفِـخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُـمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ (68) 

اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائے گا جو کوئی آسمانوں اور جو کوئی زمین میں ہے مگر جسے اللہ چاہے، پھر وہ دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔

اسلامی عقائد اور قرآنی تعلیمات کے مطابق صُور ایک عظیم الشان سینگ ہے۔احادیث کی روشنی میں اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جب صور کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "یہ ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا حضرت اسرافیل علیہ السلام کو یہ عظیم ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس میں پھونک ماریں  یہ قیامت سے جڑا ایک ہولناک اور عظیم واقعہ ہے۔ جب اس میں پھونک ماری جائے گی، تو اس کی خوفناک آواز سے زمین و آسمان کی ہر چیز کانپ اٹھے گی اور سب فنا ہو جائیں گے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا گیا  کہ صور کیا چیز ہے؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي]

اور حدیث مبارکہ  میں ہے کہ { اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے۔ اسرافیل علیہ السلام اسے پھونکیں گے۔} اور روایت میں ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، { میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنا لیا ہے، پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پھر ہم کیا پڑھیں؟  تو آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ تم کہو «‏‏‏‏حَسبُنَا اللہُ وَنِعمَ الوَکِیلُ عَلَی اللہِ تَوَکَّلنَا» ‏‏‏‏۔ }  [سنن ترمذي:]

اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہو گا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک دوسرے سے پوشیدہ پوشیدہ کہہ رہے ہوں گے کہ دنیا میں تو ہم بہت ہی کم رہے، زیادہ سے زیادہ شاید دس دن وہاں گزرے ہونگے۔ ہم ان کی اس رازداری کی گفتگو کو بھی بخوبی جانتے ہیں جب کہ ان میں سے بڑا عاقل اور کامل انسان کہے گا کہ میاں دس دن بھی کہاں رکے؟ ہم تو صرف ایک دن ہی دنیا میں رہے۔

غرض کفار کو دنیا کی زندگی ایک خواب  کی طرح معلوم ہو گی۔ اس وقت وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ھم صرف ایک ساعت ہی دنیا میں ٹھہرے ہوں گے۔ چنانچہ ایکُ آیت مبارکہ میں ہے ہم نے تمہیں عبرت حاصل کرنے کے قابل عمر بھی دی تھی۔ پھر ہوشیار کرنے والے بھی تمہارے پاس آچکے تھے۔ اور اسی بات کو ایک دوسری جگہ قرآن پاک  میں بیان کیا گیا  ہے کہ

قَالَ كَمْ لَبِثْتُـمْ فِى الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَO

فرمائے گا تم زمین پر گنتی کے کتنے برس رہے۔

قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْاَلِ الْعَآدِّيْنَO

کہیں گے ایک دن یا اس سے بھی کم رہے ہیں پس آپ گنتی کرنے والوں سے پوچھ لیں۔

قَالَ اِنْ لَّبِثْتُـمْ اِلَّا قَلِيْلًا ۖ لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَO

فرمائے گا تم اس میں تھوڑا ہی رہے ہو، کاش کہ تم سمجھ لیتے۔

(المؤمنون)

اس سوال پر کہ تم کتنا عرصہ زمین پر گزار آئے؟ ان کا جواب یہ ھو گا کہ ایک دن بلکہ اس سے بھی کم۔ فی الواقع دنیا ہے بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی۔ لیکن اگر اس بات کو پہلے سے باور کر لیتے تو اس فانی کو اس باقی پر، اس تھوڑی کو اس بہت پر پسند نہ کرتے بلکہ آخرت کا سامان اس دنیا میں کرتے۔

بہرحال اس کے بعد یوم آخرت  یعنی یومِ حساب کا سلسلہ شروع ھو جائے گا ۔ میزان قائم ھو گا .  ھر ایک کی عدالتِ الہی میں حاضری ھو گی اور حساب کتاب ھو گا ۔ ھر ایک کی نیکیوں اور  برائیوں کو تولا جائے گا ۔ جو لوگ  کامیاب ھوں گے وہ  پل صراط سے گزر کر عیش وعشرت کی جگہ جنت میں  چلے جائیں گے اور جھنمی لوگ ( یعنی کفار ، مشرکین اور منافقین وغیرہ ) عذاب کی جگہ جہنم  میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ کچھ مسلمان بھی اپنے گناھوں کی وجہ سے جھنم میں چلے جائیں گے لیکن وہ اپنی  سزا بھگتنے کے بعد یا کسی کی شفاعت سے جنت میں آجائیں گے تاھم کفار ، مشرکین اور منافقین وغیرہ ھمیشہ ھمیشہ جھنم  میں رھیں گے

Share:

عدن سے نکلنے والی آگ ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 علاماتِ کبری کی آخری نشانی

قربِ قیامت میں یمن سے ایک بہت بڑی آگ نکلے گی ۔ عدن سے نکلنے والی آگ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے احادیث مبارکہ  کے مطابق، یمن کے شہر عدن کی گہرائیوں سے ایک عظیم الشان آگ نمودار ہوگی جو لوگوں کو ہانک کر حشر کے میدان کی طرف (ملکِ شام) لے جائے گی۔ اس آگ کی نمایاں تفصیلات اسلامی روایات میں یوں ملتی ہیں کہ  یہ آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ چلے گی۔ دن کو آرام (قیلولہ) کرنے کی جگہ پر یہ بھی رکے گی اور رات کو قیام کرنے کی جگہ پر بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی ۔ یہ آگ دنیاوی نظام کے اختتام اور آخرت کی ابتدا کا گویا ایک مقدمہ ھو گا ۔ یہ وہ آگ ہے جو عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو ھانک کر محشر کی طرف لے جائے گی؛ یعنی لوگوں کو مجبور کرے گی کہ وہ بلادِ شام کی طرف، جو ارضِ محشر ہے، روانہ ہوں۔ یہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سب سے آخری نشانی ھو گی گویا  یہ دنیا کے اختتام اور آخرت کی ابتدا کا اعلان  ھو گا 

یہ واضح رھے کہ یہ آگ لوگوں کو جلانے کے لیے نہیں ہوگی، بلکہ جہاں لوگ ٹھہریں گے یہ آگ بھی وھاں رک جائے گی اور جب وہ چلیں گے تو یہ بھی ان کے پیچھے چلے گی۔  یہ آگ لوگوں کے عذاب کے لئے نہیں، بلکہ صرف لوگوں کو ارضِ محشر تک پہنچانے کے لیے ہوگی۔

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں: "نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تم کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ہم قیامت کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: وہ اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو: دھواں ، دجال ، دابۃ الارض ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، عیسیٰ ابن مریم کا نزول ، یاجوج ماجوج اور تین خسوف: ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے آخر میں ایک آگ عدن کی طرف سے نکلے گی جو لوگوں کو ان کے محشر کی طرف ہانک دے گی۔"

حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُما بیان کرتے ہیں: "نبی  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قیامت سے پہلے حضرموت کے سمندر یا حضرموت سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو جمع کر کے لے جائے گی۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ ہمیں کس جگہ جانے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمایا: شام کی طرف۔

نبی  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "ایک آگ اہلِ مشرق پر مسلط کی جائے گی جو انھیں مغرب کی طرف ہانک لے جائے گی۔ وہ ان کے ساتھ رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، دن میں ان کے ساتھ قیام کرے گی جہاں وہ قیام کریں گے، جو چیز ان سے گر جائے گی وہ اسے اٹھا لے گی اور انھیں ایسے ہانکے گی جیسے ٹوٹا ہوا اونٹ ہانکا جاتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: "لوگ تین طرح پر جمع کیے جائیں گے: کچھ لوگ خوش دلی اور شوق سے، کچھ لوگ خوف اور دباؤ سے، دو آدمی ایک اونٹ پر، تین ایک اونٹ پر، چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی، وہ جہاں قیام کریں گے آگ بھی قیام کرے گی، جہاں رات گزاریں گے آگ بھی ان کے ساتھ رات گزارے گی، جہاں صبح کریں گے آگ بھی صبح کرے گی اور جہاں شام کریں گے آگ بھی ان کے ساتھ شام کرے گی۔

حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں: "مجھے صادق و مصدوق نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتایا کہ لوگ تین گروہوں میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروہ جو کھاتا پیتا، لباس پہنے اور سواری پر ہوگا؛ دوسرا گروہ جو پیدل چلے گا اور دوڑے گا؛ اور تیسرا گروہ جسے فرشتے گھسیٹ کر ان کے چہروں کے بل آگ کی طرف لے جائیں گے۔ ہم نے کہا: اے ابو زر! ان میں سے پہلے دو گروہوں کو تو ہم نے سمجھ لیا، لیکن جو لوگ پیدل چلیں گے اور دوڑیں گے ان کا حال کیا ہوگا؟ ابو زر نے کہا: اللہ تعالیٰ زمین کے جانوروں پر آفت نازل کرے گا یہاں تک کہ سواری کے لیے کوئی جانور باقی نہ رہے۔

سر زمین حجاز سے  654 ہجری میں ایک آگ نکلی تھی جس کا آغاز ایک زلزلے سے ہوا تھا۔ اس آگ کے شعلے بلند ہوئے تھے اور پھر وہ خود بخود ختم ہوگئی تھی ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہی آگ تھی جو حشر کے لیے لوگوں کو ہانک لے جائے گی لیکن یہ بات درست نہیں ھے کیونکہ حدیث سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ حشر کی آگ ہے بلکہ یہ ایک الگ سے آگ تھی جس کا ذکر بھی روایات میں آیا ھے ۔ رھی یمن سے نکلنے والی آگ تو  اس آگ  سے مراد قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے جو قرب قیامت میں نمودار ھو گی اور یہ آگ لوگوں کو ہانک کر محشر کی طرف لےجائے گی، اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی جیسا کہ دوسری احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نےفرمایا: ”لوگوں کو آگ ھانک کر لے جائے گی اور وہ دن رات ان کے ساتھ رہے گی۔ “  (صحیح البخاري )

روایات کے مطابق  قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے آخری علامت  یمن سے آگ کا نکلنا ہے، اس وقت دنیا میں حالات کچھ اس طرح ھوں گے کہ  قیامت کا صور پھونکے جانے سے پہلے زمین پر بت پرستی اور کفر پھیل جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے شام میں جمع ہونے کے اسباب پیدا ہوں گے، شام میں حالات اچھے ہوں گے، لوگ وہاں کا رخ کریں گے، پھر یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ارضِ محشر یعنی شام کی طرف ہانکے گی، جب سب لوگ ملک شام میں پہنچ جائیں گے تو یہ آگ غائب ہوجائے گی، اس کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ مزے سے زندگی بسر کر رہے ہوں گے، کچھ عرصہ اسی حالت میں گزرے گا کہ اچانک صور پھونکا جائے گا اور قیامت قائم ہوجائے گی


Share:

حبشہ کے کافروں کا بیت اللہ شریف کو گرانا ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


قیامت کی علاماتِ کبری  میں سے ایک بڑی نشانی خانہ کعبہ کا حبشیوں کے ھاتھوں  منہدم  ھونا ھے جو بالکل قیامت کے قریب ھو گا۔ اس وقت حبشہ کے کافروں کا غلبہ ھو گا ۔ ان کے بڑے سردار کا نام  “ جھجاہ “ ھو گا”۔ روئے زمین پر ان ھی کی سلطنت  ھو گی۔  ظلم و فساد عام ھو گا ۔ بے شرمی اور بے حیائی کھلم کھلا ھو گی ۔ لوگ جانوروں کی طرح سڑکوں پر زنا کریں گے ۔ حبشی لوگ خانہ کعبہ کو شہید کر دیں گے

کعبۃُ اللہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں سے ایک عظیمُ الشَّان نشانی ہے ۔ جب تک یہ قائم ہے دنیا باقی ہے جب اس کو گرا دیا جائے گا تو دنیا تباہ و برباد ہو جائے گی اور قیامت بَرپا ہو جائے گی ۔ قربِ قیامت میں  میں ایک کالا حبشی شخص خانہ کعبہ کو منہدم کرے گا جس کا نام “ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ “  (دو چھوٹی پنڈلیوں والا) ہوگا ۔ اس کا یہ نام اس کی پنڈلیوں کے چھوٹے اور باریک ہونے کی وجہ سے ہوگا ۔ وہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو گرا دے گا ، اس کے غلاف کو اتار دے گا اور اس کے زیورات کو لوٹ لے گا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا۔“ [صحيح البخاری 

جو  اکڑتا ہوا چلے یا چلتے میں اس کے دونوں پنجے تو نزدیک رہیں اور دونوں ایڑیوں میں فاصلہ رہے۔اسے عربی میں افحج کہا جاتا ھے  وہ حبشی مردود جو قیامت کے قریب  خانہ کعبہ کو ڈھائے گا ایک روایت کے مطابق وہ اسی شکل کا ہوگا۔ دوسری روایت میں ہے اس کی آنکھیں نیلی، ناک پھیلی ہوئی ہوگی، پیٹ بڑا ہوگا۔ اس کے ساتھ اور لوگ بھی ہوں گے وہ کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھاڑ ڈالیں گے اور پانی میں لے جاکر پھینک دیں گے۔ یہ قیامت کے بالکل نزدیک ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اہل حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو سوائے “ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ “ حبشی کے کوئی اور نہیں نکالے گا ۔

(سنن أبي داود)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ھے کہ نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا گویا میری نظروں کے سامنے وہ پتلی ٹانگوں والا سیاہ آدمی ہے جو خانہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو اکھاڑ پھینکے گا۔ ( صحیح بخاری)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے روایت کرتے ہیں، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ”جب تک حبشی تم سے تعرض نہ کریں تم بھی ان سے تعرض نہ کرو، کیونکہ کعبہ کا خزانہ باریک پنڈلیوں والا حبشی ہی نکالے گا۔

(رواہ ابوداؤد۔ )

Share:

ٹھنڈی ہوا کا چلنا اور تمام مسلمانوں کا وفات پاجانا ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)


 “دابة الارض  “ والے واقعہ کے کچھ ہی روز بعد جنوب کی طرف سے ( ملک شام کی طرف  سے ) ایک ٹھنڈی اور نہایت فرحت بخش خوشبو دار ہوا چلے گی، جو ھر ھر مسلمان کو لگے گی جس سے تمام مسلمانوں کی بغل میں کچھ نکل آئے گا، جس سے وہ سب مرجائیں گے، حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان کسی غار میں چھپا ہوا ہوگا اس کو بھی یہ ہوا پہنچے گی اور وہ وہیں مرجائے گا، لیکن کسی کافر کو اس ھوا  کا کوئی اثر نہیں ھوگا  البتہ اگر  کسی کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی ایمان ھو گا تو اس کی بھی موت واقع ہو جائے گی۔اس کے بعد مشرکین اور کافر ھی  باقی رہ جائیں گے  اور پھر  قیامت بھی  انہی پر قائم ہوگی۔ اس ھوا کے بعد  رُوئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہوگا، سب کافر ہوں گے اور شرار الناس یعنی بُرے لوگ باقی رہ جائیں گے۔ 

حدیث مبارکہ میں ھے 

۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد  فرمایا کہ قیامت بدترین لوگوں پر واقع ہوگی، اس وقت مومن اور نیکوکار لوگ  موجود نہیں ہوں گے۔(صحیح مسلم )

یہ ہوا کستوری جیسی خوشبودار اور ریشم کی طرح نرم و لطیف ہوگی۔جو لوگ دنیا میں باقی رہ جائیں گے وہ بدترین اور زانی شرابی انسان ہوں گے، جن کے درمیان گناہ اور بے حیائی عام ہو جائے گی۔ انہی کافروں اور برے لوگوں پر قیامت قائم ہوگی ۔ مسلمانوں کے جانے کے بعد دنیا کا نظام مکمل طور پر بدل جائے گا، کعبہ کو ڈھا دیا جائے گا، اور قرآن پاک دلوں اور اوراق سے اٹھا لیا جائے گا۔

Share:

دخان (دھواں نکلنا) ۔ قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

دخان 

دخان عربی لغت میں اُس بخار یا بھاپ کو کہا جاتا ہے جو آگ سے اٹھے جسے ھمارے ھاں دھواں کا نام دیا جاتا ھے۔ ۔ دھواں (Smoke) بھورا یا سیاہی مائل گیسوں اور کاربن کے معلق ذرات کا آمیزہ جو خصوصاً لکڑی، کوئلے یا دوسرے نامیاتی مادوں کے جلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی دینی نصوص میں "دخان" کو اُن واقعات میں ذکر کیا گیا ہے جو دنیا کے خاتمے سے قبل ظاہر ہوں گے اور جنھیں "قیامت کی علامات کبری " کہا جاتا ہے۔ ان بڑی علامات میں سے ایک علامت وہ عظیم دھواں ہے جو آسمان سے ظاہر ہوگا اور ساری کائنات پر چھا جائے گا۔ لوگ اس دھوئیں سے خوف و ہراس میں مبتلا ہو جائیں گے اور گمان کریں گے کہ یہ دردناک عذاب ہے۔ یہ ایک بہت بڑا اور عام دھواں ہوگا جو حق کو چھوڑنے اور گناہوں کی کثرت کے سبب ظاہر ہوگا، یہاں تک کہ ساری زمین کو ڈھانپ لے گا اور دنیا ایسی ہو جائے گی جیسے کوئی مکان جس میں آگ جلائی گئی ہو

بہرحال یہ ایک بہت بڑا دھواں آسمان سے ظاہر ہوگا جو پوری زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور عام لوگوں میں خوف اور گھبراہٹ پھیلائے گا۔ یہ انسانوں میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بنے گا، کیونکہ لوگ اسے ایک عظیم عذاب سمجھیں گے اور اس کو آخری وقت کی شروعات جانیں گے۔ یہ عذاب لوگوں کے گناہوں اور نافرمانیوں کا نتیجہ ہوگا، کیونکہ اس وقت لوگوں میں نیکیاں کم اور گناہ زیادہ ہوں گے، اور انسان حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ دھواں آسمان کو ڈھانپ لے گا اور تیزی سے پھیل کر زمین کو اس طرح گھیر لے گا جیسے آگ سے جلنے والا گھر، لیکن یہ دھواں کسی آگ کے نتیجے میں نہیں ہوگا۔

دھواں کا ذکر قرآن کریم میں سورہ الدخان کی آیت نمبر 10 میں ہوا ہے:

بسم الله الرحمن الرحيم

﴿ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ﴾ (الدخان: 10)

علمائے اسلام دھواں کی ظہور کی علامات کا مطالعہ کرتے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ ان کے زمانے میں ظاہر نہیں ہوا، لہذا یہ آئندہ نسلوں میں ظاہر ہوگا۔

ایک حدیث میں ہے کہ چھ چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو، دخان، دجال، دابۃ الارض، مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا، عام فتنہ اور ہر شخص سے متعلق خاص فتنہ۔بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: الدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ۔(مسلم:2947)

حضرت حذیفہ﷜نے ایک دفعہ نبی کریمﷺسے دُخان کے بارے میں دریافت کیا ، آپﷺنے سورہ دُخان کی آیات تلاوت کرکے ارشاد فرمایا:وہ اک دھواں ہوگا جو مشرق و مغرب کے درمیان کو بھر دے گا، چالیس دن  رات تک یہ ٹہرا رہے گا، مومن کو اِس سے صرف زکام سا محسوس ہوگا جبکہ کافراس میں نشہ کی کیفیت کی مانند مدہوش ہوگااور یہ دھواں  اُ س کے کانوں اور نتھنوں سے نکل رہا ہوگا ۔يَمْلأ ما بَينَ المَشْرقِ والمَغْرِب يَمْكُثُ أرْبَعِينَ يَوْما وَلَيْلَةً أمَّا المُؤْمِنُ فَيُصِيبُهُ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكامِ. وأمَّا الكَافِرُ فَيَكُونُ بِمَنزلَةِ السَّكْرانِ يَخْرُجُ مِنْ مَنْخِريْهِ وأُذُنَيْهِ ودُبُرِهِ۔(تفسیر ابن جریر طبری :22/18)

حضرت ابومالک اشعری ﷜سے مرفوعاً منقول ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا :بے شک تمہارے رب نے تمہیں تین چیزوں سے ڈرایا ہے :دھوئیں سے جو ہر مومن کو زکام کی طرح لگے گا اور کافر کے جسم میں داخل ہوگا جس سے کافر پھول جائے گایہاں تک کہ وہ دھواں کافر کے جسم کے ہر منفذ (سوراخ )سے نکلے گا ۔ دوسری چیز دابّۃ  الارض کا نکلنا اور تیسری چیز دجال ہے ۔إنَّ رَبَّكُمْ أنْذَرَكُمْ ثَلاثا: الدُّخانُ يَأْخُذ المُؤْمِنَ كالزَّكْمَةِ، ويَأْخُذُ الكَافِرَ فَيَنْتَفِخَ حتى يَخْرُجَ مِنْ كُلّ مَسْمَعٍ مِنْهُ، والثَّانِيَة الدَّابَّةُ، والثَّالِثَة الدَّجَّالُ۔(تفسیر ابن جریر طبری :22/18)

دخان کے مصداق میں اختلاف :

اِس کے مصداق میں اختلاف ہے کہ اِس سے کیا مراد ہے،اِس میں تین قول ہیں :

اِس سے مراد قیامت کی علامت ہے ، یعنی وہ دھواں جو قربِ قیامت میں رونما ہوگا ، تفصیل  اوپر گزرچکی ہے ۔

اِس سے مراد نبی کریمﷺکی بددعاء کا اثر ہے جو قحط کی شکل میں قریش مکہ کو پیش آیا تھا ، جب اُن پر قحط پڑا تو وہ مصیبت میں مبتلاء ہوئے ، کھانے پینے کی ہر چیز ختم ہوگئی یہاں تک کہ وہ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے ، بھوک کے عالَم میں اُن کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ اُن کو ہر طرف فضا میں آسمان میں دھواں ہی دھواں محسوس ہوتا تھا ۔

اِس سے مراد  وہ گرد و غبار ہے جو فتح  مکہ کے دن مکہ مکرّمہ کے آسمان پر چھا گیا تھا ۔(معارف القرآن عثمانی :7/760)

Share:

صفا پہاڑی سے عجیب الخلقت جانور کا نکلنا - قیامت کی علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

دَآبَّةً  الْاَرْضِ

قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت "دابة الارض" کا صفا پہاڑی سے نکلنا ہے، اس کا ذکر قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔ مغرب سے سورج طلوع ہونے کے واقعے کے کچھ ہی روز بعد مکہ مکرمہ میں واقع پہاڑ صفا پھٹے گا اور اس سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے فصیح زبان میں باتیں کرے گا، اور بڑی تیزی کے ساتھ ساری زمین کا دورہ کرے  گا اس کے پاس  حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی اور  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا ہوگا، ایمان والوں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصا سے ایک نورانی لکیر کھینچ دے گا، جس سے ان کا سارا چہرہ روشن ہوجائے گا، اور کافروں کی ناک یا گردن پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگادے گا، جس سے اس کا سارا چہرہ کالا ہوجائے گا، لوگوں کے مجمع میں ایمان والوں کو کہے گا: یہ ایمان دار ہے، اور کافر کے بارے میں کہے گا کہ: یہ کافر ہے، اس کے بعد وہ غائب ہوجائے گا۔چنانچہ اس بارے میں قران پاک میں اللہ پاک کا فرمان ھے

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ (82)

اور جب قیامت کا وعدہ پورا کرنے کا وقت قریب الوقوع ہو جائے گا تو اس وقت ہم لوگوں کی عبرت کے لئے زمین سے ایک عجیب و غریب جانور نکالیں گے جو لوگوں سے باتیں کرے گا ( یہ جانور ہم زمین سے اس لئے نکالیں گے ) کہ لوگ ہماری نشانیوں کا یقین نہیں کرتے تھے۔ (سورہ النمل)

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:”تین باتیں جب ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ الا یہ کہ وہ پہلے ایمان لا چکا ہو اور نیک اعمال کرتا رہا ہو۔ ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرے دجال کا نکلنا اور تیسرے دابۃ الارض" کا خروج“

 [مسلم۔ کتاب الایمان] 

حضرت  ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: " دابة الارض " نکلے گا تو اس کے پاس حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی مہر اور  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا ہو گا۔ پھر وہ (عصائے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے) مومن کے منہ پر ایک لکیر کھینچ دے گا جس سے وہ چمک اٹھے گا اور کافر کی ناک پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی انگوٹھی سے مہر لگا دے گا۔ یہاں تک اگر کچھ  لوگ ایک خوان پر جمع ہوں گے تو وہ ان کے پاس جا کر یہ کہے گا کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔ (یعنی مومن اور کافر ممتاز ہو جائیں گے) 

[ترمذي۔ ابواب التفسير] 

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہم پر برآمد ہوئے جبکہ ہم گفتگو میں مشغول تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے پوچھا: ”کیا باتیں کر رہے تھے؟“ ہم نے عرض کیا: قیامت کا ذکر کررھے تھے: آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی۔ جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ نشانیاں بتلائیں۔ دھواں، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا، نزول حضرت عیسی  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، یاجوج ماجوج کا خروج۔ تین مقامات پر زمین کا خسف مشرق میں، مغرب میں، جزیرہ عرب میں۔ اور ان نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو لوگوں کو یمن سے نکال کر ہانکتی ہوئی ان کے محشر (سر زمین شام) کی طرف لے جائے گی“ [مسلم]

اس جانور کو  جسے ’’دَآبَّةُ الْاَرْض‘‘ کہتے ہیں کے بارے میں  صرف اتنا ھی جان لینا کافی ہے کہ یہ عجیب و غریب شکل کا جانور ہوگا ۔ کوہ ِصفا سے برآمد ہو کر دنیا کے  تمام شہروں  میں  بہت  تیزی سے چکر لگائے  گا ۔ فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشان لگائے گا ،ایمانداروں  کی پیشانی پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصاسے نورانی خط کھینچے گا اورکافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگائے گا۔ اس طرح پوری دنیا میں ایمان والوں کی الگ اور کافروں کی الگ شناخت ھو جائے گی 

Share: