استعمالی اور غیر استعمالی زیورات پر زکوة


خیر القرون سے عصر حاضر تک کے جمہور علماء فقہاء اور محدثین کرام  قرآن کریم اور سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی روشنی میں سونے چاندی کے استعمالی و غیر استعمالی تمام زیورات پر وجوب زکوة کے قائل ھیں  کیونکہ قرآن و سنت کے عمومی احکام میں سونے چاندی پر بغیر کسی استعمالی یا غیر استعمالی شرط کے زکوة واجب ھونے کا ذکر آیا ھے  اور عدم ادائیگی پر شدید وعیدیں وارد ھوئی ھیں 

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ھے

وَالَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟ۙ

 اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔[

 یہ بات سمجھنی ضروری ھے کہ زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح مالِ تجارت پر ضروری ہے، زکوٰۃ ادا کرنا جس طرح نقدی ، سونا اور چاندی وغیرہ  مرد کے پاس ہو اُس پر زکوة ضروری ہے، اسی طرح خاتون کے پاس جو قابل زکوة اموال ہوں اُن پر بھی زكوة ضروری ہے، اسی طرح اگر کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں اور وہ زیورات ساڑھے باون تولہ چاندی ہو۔ یا ساڑھے سات تولے سونا ہو۔ یا کچھ سونا ہے اور کچھ چاندی کے زیور ہیں، دونوں کی قیمت کو ملائیں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو۔ یا کسی کے پاس سونا ہے اور کچھ پیسے ہیں، اب سونے کو بیچیں، وہ پیسے، اور جو پیسے موجود ہیں، ان دونوں کو جمع کریں تو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، تو ایسی عورت پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔  چاھے وہ زیورات استعمال میں ھوں یا نہ ھوں 

ایسی کون سی خاتون دنیا میں ہو گی کہ جس کے پاس صرف زیور ہو، باقی ایک روپیہ بھی نہ ہو، ایک درہم نہ ہو، ایک دینار نہ ہو، ایک ڈالر نہ ہو، ایک پاؤنڈ نہ ہو، کوئی اس کے پاس اور کرنسی میں پیسے موجود نہ ہوں۔ کوئی ایسی عورت نہیں ملے گی۔ اس لیے خواتین اس مسئلے کو بطور خاص سمجھیں کہ استعمالی اور غیر استعمالی زیور پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔  اگر زکوٰۃ ادا کر سکتی ہیں تو زیور رکھیں، اور اگر زکوٰۃ نہیں ادا کر سکتیں تو زیور فروخت کر دیں، اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیں، کسی کام میں استعمال کے اندر لے آئیں، خوامخواہ جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ 

ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ، سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ، میں یہ روایت موجود ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت  فرماتے ہیں کہ  ایک صحابیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی، ’’ومعہا ابنۃ لہا‘‘۔ اور وہ بیٹی ’’وفی ید ابنتہا مسکتان غلیظتان من ذہب‘‘ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو بھاری کنگن تھے۔ سونے کے دو کنگن پہنے ہوئے تھے۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا، ’’اتعطین زکوٰۃ ہذا؟‘‘ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس نے کہا ’’لا‘‘، اللہ کے رسول! میں تو ادا نہیں کرتی۔ فرمایا، ’’ایسرک ان یسورک اللہ بہما یوم القیامۃ سوارین من نار؟‘‘ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ ان دو کنگنوں کے بدلے میں اس بیٹی کو جہنم کی آگ کے دو کنگن پہنا دیے جائیں۔ اس عورت نے فورً‌ا ان کو نکالا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ ’’فخلعتہما الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ اور کہا، اللہ کے رسول! یہ اللہ کے راستے میں صدقہ ہے، قبول فرما لیجیے۔ 

تو غور فرمائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے استعمالی زیور پر  کس قدر سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  اس قدر سخت تنبیہ فرمائیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم  استعمالی زیور پر زکوٰۃ کی بات فرمائیں، تو پھر بھلا دوسرا  کوئی کون ہوتا ھے جو اپنی طرف سے زکوة نہ دینے کی  گنجائش پیدا کرنے والا ؟ 

یہ بات بھی ذہن نشین فرما لیں، مرد کے لیے سونے کی  کوئی بھی  چیز پہننا حرام ہے۔ چاندی کی زیادہ سے زیادہ ساڑھے چار ماشہ تک کی اجازت تو ہے لیکن مستحب یا بہتر یہ بھی نہیں ھے ۔ اگر مرد کے پاس بھی سونے کی انگوٹھی یا کوئی اور سونے کا زیور موجود ہو جیسا کہ بعض مردوں کو بھی یہ حرام شوق ہوتا ہے، وہ کنگن پہنتے ہیں۔ بعض مردوں کو شوق ہوتا ہے، انگوٹھیاں پہنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ تاھم اس مرد پر بھی اس زیور پر زکوٰۃ فرض ہو گی۔ عورت تو پہنتی ہے، اس کو اچھا لگتا ہے، زیب و زینت اس کی شان کے لائق ہے، لیکن مرد اگر زیور پہننے کا جرم کرتا ہو، وہ فعلِ حرام کا جرم اپنی جگہ ھے لیکن یہ بات ذہن نشین فرما لیں کہ اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا ھر صورت ضروری ہو گا۔ 

 خلاصئہ کلام یہ کہ کہ استعمالی اور غیر استعمالی زیورات پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا لازم اور ضروری ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی بھی کوتاہی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ وگرنہ مرنے میں تو کسی کو بھی کوئی شک نہیں ھے تو مرنے کے بعد آخرت میں اس کی جواب دھی ھو گی 

Share:

زکوٰۃ کی آدائیگی کے لئے حساب کرنے کا آسان طریقہ


زکوٰۃ کی آدائیگی کے لئے حساب کرنے میں بھی بعض اوقات پریشانی ھوتی ھے ۔ اس کا  آسان سا طریقہ ملاحظہ فرمائیں اور خود ھی اپنی زکوة کا حساب بآسانی کر لیں  ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بنیادی طور پر آپ دو چیزیں آچھی طرح ذھن نشین کر  لیں:

۱- قابلِ زکوٰۃ اموال اور اثاثہ جات۔

 یعنی وہ اموال، پراپرٹی اور چیزیں جن کی آپ نے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ 

۲مالیاتی ذمہ داریاں۔ 

یعنی وہ رقوم جو قابلِ زکوٰۃ اموال میں سے مائنس کرنی ہیں، اور پھر بقیہ اموال سے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ 


قابلِ زکوٰۃ اشیاء اور اثاثہ جات

سونا اور چاندی، کسی بھی شکل میں ہوں، کسی بھی مقصد کے لیے ہوں۔ کھوٹ اور نگینے نکال کر اِن کی جو مالیت بنے وہ نوٹ کر لیں۔

گھر میں یا جیب میں موجود رقم۔

بینک اکاؤنٹ یا لاکر میں موجود رقم۔

غیر ملکی کرنسی کی موجودہ مالیت۔ 

پرائز بانڈ۔

مستقبل کے کسی منصوبے، حج، بچوں کی شادی وغیرہ کے لیے جمع شدہ رقم۔ 

تکافل یا انشورنس پالیسی میں جمع شدہ رقم۔

جو قرض دوسروں سے (واپس) لینا ہے۔ 

کمیٹی  کی جو رقم جمع کرا چکے ہیں اور ابھی کمیٹی نہیں نکلی۔ 

کسی بھی چیز کے لیے ایڈوانس میں دی گئی رقم جب کہ وہ چیز ابھی نہ ملی ہو، ابھی تک موصول نہیں ہوئی، لیکن ایڈوانس میں مثلاً‌ کار کے پیسے آپ نے دے دیے، لیکن کار ابھی تک آپ کو ملی نہیں ہے۔ 

سرمایہ کاری، مضاربت، شراکت میں لگی ہوئی رقم۔ 

شیئرز، سیونگ سرٹیفکیٹس، این آئی ٹی یونٹس، این ڈی ایف سیونگ سرٹیفکیٹس، پراویڈنٹ فنڈ کی وصول شدہ، یا کسی اور ادارے میں مالک کے اختیار سے منتقل شدہ رقم۔ 

مالِ تجارت، یعنی دوکان، گودام، یا فیکٹری میں جو سٹاک قابلِ فروخت موجود ہے اس کی موجودہ قیمت۔ 

خام مال جو فیکٹری، دوکان یا گودام میں موجود ہے، اس کی موجودہ قیمت۔ 

فروخت شدہ مال کے بدلے میں حاصل شدہ اشیاء کی مالیت، اور فروخت شدہ مال کی قابلِ وصول رقم۔

فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ، گھر یا دوکان کی موجودہ قیمت۔ یعنی فروخت کی نیت سے پلاٹ خریدا ہو، یا گھر خریدا ہو، یا دوکان خریدی ہو، ان کی موجودہ مالیت۔ 

یہ جو تمام سولہ اشیاء جن کا ذکر اوہر کیا گیا ھے ۔  آپ ان سولہ اشیاء کی کل مالیت کا حساب کر کے ٹوٹل کر لیں۔ اور  اس کو “ اے “  کا نام دے دیں۔ 


مالیاتی ذمہ داریاں

یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال سے کم کرنی ہیں، وہ بھی آچھی طرح چیک کر لیں۔ 

قرض جو ادا کرنا ہے، یعنی ادھار لی ہوئی رقم۔ 

ادھار خریدی ہوئی چیزوں کی جو رقم ادا کرنی ہے۔

بیوی کا حق مہر جو ابھی تک ادا نہیں کیا، اور ادا کرنا ہے۔ 

پہلے سے نکلی ہوئی کمیٹی  کی جو بقیہ قسطیں ابھی ادا کرنی ہیں۔ 

آپ کے ملازمین کی تنخواہیں، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہیں۔

ٹیکس، دوکان، مکان وغیرہ کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز وغیرہ، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہوں۔ اس تاریخ تک جو ادا کرنے ہوں، اس تاریخ کے بعد نہیں۔

گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ جو ابھی ادا نہیں کی گئی۔ 

 اب ان تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگا کر اس کا بھی ٹوٹل کریں اور اسے “بی”  کا نام دے دیں۔

اب  آپ کے سامنے “اے “ اور” بی “ کی شکل میں دو چیزیں آ گئیں۔

 “اے” میں وہ تمام اموال اور اثاثہ جات جو قابلِ زکوٰۃ ہیں۔ 

اور “ بی” میں وہ مالیاتی ذمہ داریاں جو آپ کے ذمے واجب الادا ہیں۔ 

اب “اے” کی مالیت میں سے “بی” کی کل مالیت کو تفریق کر دیں۔ جو جواب آئے، اس کو چالیس  پر تقسیم کریں۔ تقسیم کے بعد جو جواب آئے، وہ آپ کے ذمے واجب الادا زکوٰۃ کی کل رقم ہے۔  

 مثال  

بالفرض “اے” میں کل مقدار 20 لاکھ روپے ہے۔ یعنی جو اثاثے آپ کے پاس موجود ہیں، سونا ہے، چاندی ہے، کچھ اور تجارت کا چھوٹا موٹا سامان ہے، کچھ نقدی مال بھی ہے۔ 

“ بی” کی مقدار 2 لاکھ  روپے ہے۔ مثلاً‌ 25 ہزار بیوی کا حق مہر دینا ہے۔ آپ نے 5 ہزار ٹیکس دینا ہے اِس تاریخ تک۔ 10 ہزار مکان کا کرایہ دینا ہے وغیرہ ۔ اس کی مقدار 2 لاکھ روپے ہے۔ 

اب بیس لاکھ روپے میں  سے دو لاکھ روپے کو منفی کریں تو جواب آئے گا آٹھارہ لاکھ روہے  ، تو گویا یہ آپ کی قابلِ زکوة رقم ھے ۔ اس 18 لاکھ  کو 40 پر تقسیم کریں، تو جواب آئے گا 45 ہزار۔ تو یہ   45 ہزار روپے آپ کے ذمہ زکوٰۃ کی کل  واجب الادا رقم ہے۔ یہ پینتالیس ہزار اکٹھی بھی دے سکتے ہیں، اور تھوڑی تھوڑی کر کے بھی دے سکتے ہیں۔


Share:

صاحبِ نصاب کی تعریف

 صاحبِ نصاب وہ عاقل، بالغ اور مسلمان شخص ہے جس کے پاس اس کی بنیادی ضروریات (حوائج اصلیہ) اور قرض سے بچ جانے والا مال اتنی مقدار میں موجود ہو جو شریعتِ اسلامیہ میں مقرر کردہ حد (نصاب) تک پہنچ جائے۔ 

نصاب کی مقدار اور شرائط
  • سونا: 
  • اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو چاھے کسی بھی شکل میں ھو ، استعمال میں ھو یا استعمال میں نہ ھو تو اس کا نصاب ساڑھے سات (7.5) تولہ ہے۔

  • چاندی: 
  • اگر کسی کے پاس صرف چاندی ہو ہو چاھے کسی بھی شکل میں ھو ، استعمال میں ھو یا استعمال میں نہ ھو  تو اس کا نصاب ساڑھے باون (52.5) تولہ ہے۔

  • نقدی اور مالِ تجارت: 
  • اگر کسی کے پاس نقدی، مالِ تجارت یا سونا و چاندی کی مکس شکل ہو، تو اگر ان سب کی مالیت مل کر  ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ھو جائے تو اسے صاحب نصاب مانا جاتا ہے۔

  • بنیادی ضروریات سے فاضل:

    مال رہائشی مکان، روزمرہ کے کپڑے اور عام استعمال کی چیزوں سے زائد ہونا چاہیے۔

Share:

شرائطِ زکوۃ مال کے اعتبار سے

مال کے اعتبار سے فرضیتِ زکوة کی چھ شرائط ھیں جو مندرجہ ذیل ھیں 


مال مکمل ملکیت میں ھو 

صاحبِ نصاب کی کسی چیز کی مکمل ملکیت تب ثابت ھوتی ھے جب وہ اس کا مالک ھو اور اس پر اس کا قبضہ بھی ھو  لہذا ایسا مال جس پر بطورِ آمانت قبضہ ھو  اس پر زکوة نہیں ھے ۔ اسی طرح اگر کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا اور پھر برسوں بعد وہ جگہ یاد آئی اور مال مل گیا، تو جب تک مال نہ ملا تھا اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وہ اس عرصہ میں نصاب کا مالک تو تھا مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے طور پر مالک نہ تھا۔ اسی طرح وہ مال جو عورت کو بطورِ حق مہر ملے لیکن عورت نے اس ہر قبضہ نہ کیا ھو اس پر بھی زکوة نہیں ھے 


 مال نصاب کے بقدر ھو 

شریعت کے مقرر کردہ نصاب کے مطابق مال ھو گا تو زکوة واجب ھو گی  اگر نصاب سے کم مال  ھو تو مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔


 مال حاجاتِ اصلیہ سے زائد ھو 

 حاجاتِ اصلیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو زندگی بسر کرنے میں بعض بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے رہنے کیلئے مکان، پہننے کیلئے بلحاظ موسم کپڑے،  سواری کے لئے گاڑی ،    گھریلو اشیائے ضرورت جیسے فرنیچر ، برتن،  الات صنعت و حرفت یعنی روزگار کے لئے خریدے ھوئے اوزار ، مطالعہ کے لئے کتابیں ، حفاظت کی غرض سے خریدا ھوا آسلحہ وغیرہ۔ اگرچہ یہ سب سامان زکوٰۃ کے مقررہ نصاب سے زائد مالیت کا ہی ہو مگر اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب مال و سامان حاجاتِ اصلیہ میں آتا ہے۔


  مال دَین  (قرض ) سے خالی ھو 

مثلاً کسی کے پاس مقررہ نصاب کے برابر مال تو ہے مگر وہ اتنے مال کا مقروض بھی ہے تو اس کا مال قرض سے خالی  نہیں ہے لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔ البتہ اگر قرض مائنس کرکے بھی مال نصاب کے بقدر باقی بچتا ھو تو ہھر زكوة دینا ھو گی 


مال نامی ھو یعنی بڑھنے والا ھو 

  نامی سے مراد وہ مال  ھے جو بڑھنے والا ہو خواہ حقیقتاً بڑھنے والا مال ہو جیسے مال تجارت اور چرائی پر چھوڑے ہوئے جانور یا حکماً بڑھنے والا مال ہو جیسے سونا چاندی۔ یہ ایسا مال ہے جس کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس کے بدلے دیگر اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا سونا چاندی جس حال میں بھی ہو خواہ زیورات اور برتنوں کی شکل میں ہو یا زمین میں دفن ہو ہر حال میں یہ مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال ہے اور ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر مال بڑھنے والا نہ ھو اگر چہ ضرورت سے زائد ھو اس پر زکوة فرض نہیں ھو گی 

مال نامی چار ھیں 

۱- سونا (خواہ جسی بھی شکل میں ھو مثلا زیورات، ڈلی، بسکٹ، سکے وغیرہ

۲-  چاندی  (خواہ جسی بھی شکل میں ھو مثلا زیورات، ڈلی، بسکٹ، سکے وغیرہ

۳- نقدی رقم

۴- مالِ تجارت


حولانِ حول  یعنی مال پر قمری سال گزر چکا ھو 


نصاب کا مال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی بلکہ ایک سال تک وہ نصاب مِلک میں باقی رہے تو سال پورا ہونے کے بعد اس پرزکوٰۃ نکالی جائے گی۔

مال پر سال گزرنے کا یہ مطلب نہیں ھے کہ ھر ھر روپے یا مال پر سال گزرے بلکہ جس تاریخ کو  اپ کے ہاس پیسہ یا نصاب موجود ھو وہ تاریخ  قمری مہینے کے حساب سے طے کرلیں اگر تاریخ یاد نہ ھو تو اندازے سے قمری تاریخ طے کر لیں اور آئندہ  سال جب وہ تاریخ آئے تو جتنا مال  اس وقت موجود ھو اس کا حساب کرکے زکوة دے دیں۔ مال خواہ سال کے کسی بھی حصہ میں آپ کے پاس آیا ھو

مثلا آپ کی زكوة نکالنے کی تاریخ دس رمضان المبارک ھے اب دس رمضان المبارک والے دن جتنا بھی مال آپ کے پاس موجود ھو گا ، اس پر زکوة  فرض ھو گی 



Share:

زکو ة کی شرائط فرد سے متعلق

 شریعت اسلامیہ نے ھر شخص پر زکوة فرض نہیں کی بلکہ زکوۃ واجب ہونے کی کچھ  شرائط مقرر کی ہیں، جب یہ تمام شرائط بیک وقت  کسی مسلمان میں پائی جائیں گی  تو پھر اس پر زکوۃ واجب ہوگی ، اگر ان میں سے ایک  شرط بھی کم ہوگی تو زکوۃ واجب نہ ہوگی۔ ان میں سے کچھ  شرائط  کا تعلق اس شخص  سے ہے جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہےاورکچھ کا تعلق مال سے ھوتا ہے جبکہ ان کے علاوہ دو شرطیں ایسی ہیں جن کا تعلق  زکوۃ کی ادائیگی سے ہے یعنی وہ شرطیں پائی جائیں گی تو زکوۃ ادا ہوگی ورنہ ادا نہیں ھو گی ۔  


شرائطِ زکوة فرد سے متعلق 

زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے مکلف (فرد)  میں چند بنیادی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ جب یہ شرائط پوری ہوں گی، تبھی کسی شخص پر زکوٰۃ فرض ھو گی ۔ فرد کے اعتبار سے زکوة کی فرضیت کی چار شرائط  ھیں جو مندرجہ ذیل ھیں : 


مسلمان ہونا

زکوٰۃ صرف مسلمان پر فرض ہے غیر مسلم پر نہیں ۔ چونکہ زکوة خالصتاً ایک عبادت ھے جو صرف مسلمان کے لئے خاص ھے اسی لئے كافر پر زکوة لاگو نہیں ھوتی 


عاقل ہونا

صاحبِ مال کا عقل مند ہونا بھی فرضیت زکوة کی ایک شرط ہے۔ مجنون یعنی پاگل پر زکوة فرض نہیں ھوتی کیونکہ زکوة کی آدائیگی کے لئے صاحبِ نصاب کی رضامندی ضروری ھوتی ھے جو ایک پاگل شخص سے ممکن نہیں ھو سکتی 


بالغ ہونا

صاحبِ مال کا بالغ ہونا بھی زکوة کی فرضیت کے لئے شرط ہے۔ نابالغ اگر مالدار بھی ھو تو بالغ ھونے تک اس پر زکوة فرض نہیں ھوتی 


آزاد ہونا

غلام یا لونڈی پر زکوٰۃ فرض نہیں ھے ۔ زكوة کی فرضیت کے لئے آزاد ھونا بھی ایک شرط ھے ۔ پہلے زمانہ میں جب جہاد ھوتا تھا تو جہاد میں جو  لونڈیاں غلام اتے تھے وہ اس حکم میں داخل ھوتے تھے اب چونکہ بین الاقوامی معاعدوں کی وجہ سے کسی کو لونڈی یا غلام نہیں بنایا جا سکتا اس لئے یہ شرط فی الوقت مفقود ھے کیونکہ اب ھر شخص آزاد ھے 

Share:

زکوة نہ دینے کے دنیاوی نقصانات

 زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر آخرت میں شدید  عذاب کی وعیدیں قرآن پاک اور ا حادیث مبارکہ میں  کثرت سے مذکور ھیں یعنی  قیامت کے دن مال کا گلے کا طوق بننا یا زہریلے سانپ کی شکل میں ڈسنا اور  قہر الٰہی  جیسے اخروی انجام  تو بہرحال اپنی جگہ ھے ھی ھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ زکوة نہ دینے کے دنیاوی نقصانات جن کا تذکرہ قرآن و حدیث  میں بھی کئی مقامات پر ھوا ھے  بھی بہت زیادہ ھیں ۔ان میں چند نقصانات مندرجہ ذیل ھیں 


 مال میں برکت کا خاتمہ

زکوة نہ دینے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ھوتا ھے کہ  زکوٰۃ نہ دینے والے کے حلال مال کی برکت بھی  مٹ جاتی ہے اور بعض اوقات  وہ مال کسی نہ کسی نقصان میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ صاحب نصاب کے مال میں یہ مسکینوں کا حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ھے اور جب یہ شخص مسکینوں کا حق استعمال کرتا ھے یعنی زکوة  ادا نہیں کرتا تو منجانب اللہ اسے بطور سزا مال کی برکت سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا  ھے جیسا کہ اجکل ھمارے معاشرے میں عام مشاھدہ ھوتا ررھتا ھے 


 آسمانی آفات کا سبب

زکوٰۃ روکنے کی وجہ اللہ تعالیٰ ناراض ھوتے ھیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی معاشرے میں آسمانی آفات، زلزلے  اور طوفان وغیرہ کا سبب بن جاتی  ہے۔


بخل کی بیماری

 زكوة کی عدم ادائیگی کی نحوست کی وجہ سے دل میں  مال کی محبت رچ بس جاتی ھے اور انسان مال کی محبت میں ھر معاملے میں کنجوسی سے کام لیتا ھے اور بعض اوقات یہ کنجوسی موت تک بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ انسان اسی بُری صفت میں جکڑا رہتا ہے۔ اور اسی بری صفت کے ساتھ آخرکار اس دنیا سے چلا جاتا ھے 


خیر و برکت کی دعاؤں سے محرومی

جن غرباء اور مساکین  کی زکوة سے مدد ھوتی ھے وہ لوگ اس شخص کے لئے دل سے دعائیں کرتے ھیں زکوة نہ دینے سے انسان ان دعاؤں سے محروم ھو جاتا ھے اور اور زکو ة دینے سے جو اجر و ثواب اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ھیں تارک زکوة اس ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔ 


 مال کی  بربادی کا سبب

  رسول پاک ﷺ کا ارشاد ھے ۔  ”خشکی وتری میں جو مال ضائع ہوتا ہے وہ  زکوة نہ دینے کی وجہ سے تلف ہوتا ہے ۔” (مجمع الزوائد)


اجتماعی قحط

  اگر اسلامی معاشرے میں لوگوں کی بڑی تعداد زكوة دینا چھوڑ دیتی ھے تو اس کی نحوست پورے معاشرے پر پڑتی ھے اور زکوٰۃ کی عدم ادائیگی پر اجتماعی قحط کا سامنا کر نا پڑ سکتا ھے  جیسا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا ”جو قوم زکاة نہ دے گی اللہ پاک اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا ۔

(المعجم الاوسط )

 



Share:

زكوة ادا نہ کرنے پر وعیدیں

زكوة اسلام کا ایک اھم رکن ھے جسے ایک مسلمان صاحب نصاب کے لئے ھر صورت پورا کرنا ضروری ھے ۔ زکوة دینے کے جہاں بہت زیادہ فضائل ھیں وھاں زکوة نہ دینے پربہت سی وعیدیں بھی  قرآن پاک اور آحادیث مبارکہ میں وارد ھوئی ھیں چنانچہ ارشادِ باری تعالی ھے

"يَوْمَ يُحْمى عَلَيْها فِي نارِ جَهَنَّمَ ‌فَتُكْوى ‌بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا ما كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ." (التوبة، آيت نمبر 35)

يعني: جو لوگ زکاة ادا نہیں کرتے اُن کے مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اِس سے اُن کی پیشانیوں، پہلووٴں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔

ایک اور مقام پر ارشادِ خداوندی ھے

"‌سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيامَةِ." (آلِ عمران، آیت نمبر 180)

یعنی: ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کے اُس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔

آحادیثِ مبارکہ میں  بھی زکوة نه دینےپر بہت سی وعیدیں موجود ھیں  چنانچہ  بخاري شريف ميں هے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من آتاه الله مالا، فلم يؤد زكاته مثل له ماله يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان يطوقه يوم القيامة، ثم يأخذ بلهزمتيه - يعني بشدقيه - ثم يقول أنا مالك أنا كنزك، ثم تلا: (لا يحسبن الذين يبخلون) " الآية."

يعني: ایسے شخص کا مال قیامت کے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا ،جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے ، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے،پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا ما ل ہوں ، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔

مسلم شریف میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من صاحب ذهب ولا فضة، لا يؤدي منها حقها، إلا إذا كان يوم القيامة، صفحت له صفائح من نار، فأحمي عليها في نار جهنم، فيكوى بها جنبه وجبينه وظهره ..."

یعنی: ایسے شخص کے لیے آگ کی چٹانیں بچھائی جائیں گی،اور اُن سے ایسے شخص کے پہلو ، پیشانی اور سینہ کو داغا جائے گا۔

ھر صاحبِ نصاب مسلمان کو ھر سال اپنا حساب کرکے زکوة کی آدائیگی کا  خوشدلی سے اھتمام کرنا چاھیے۔ کچھ وقت نکال کر   علماء کرام کے پاس جا کر زکوة کے مسائل سیکھنے چاھیں  تاکہ صحیح طریقہ سے زکوة کی آدائیگی ممکن ھو سکے اور آخرت کی جوابدھی سے محفوظ رھا جا سکے 

اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے

آمین یا رب العالمین 

Share: