آخرت کے طلبگار اور دنیا کے طلبگار

 

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾

جس کا ارادہ آخرت کی کھیتی کا ہو ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کی طلب رکھتا ہو ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیں گے لیکن ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ (سورہ الشوری)

            یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے اعمال کرے اور ان اعمال سے صرف اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کی نیت کرے تو اسے اللہ تعالیٰ دنیا میں  بھی نوازتا ہے اور آخرت میں  بھی اپنے لطف و کرم سے اسے ضرور نواز دے گا اور وہ شخص جو اپنی نماز، روزہ،حج ،زکوٰۃ، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت نہ کرے بلکہ ان اعمال کے ذریعے دنیا میں  مال و دولت،عزت و شہرت  چاہے تو دنیا میں  اسے صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے نصیب میں  لکھا ہے اور آخرت میں  ان اعمال کے ثواب سے اسے محروم کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ اس بارے میں رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں ا

 حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت  ھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص(صرف) دنیا کی فکر میں  رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو پَراگندہ کر دیتے ھیں اور ا س کی تنگ دستی کو اس کی آنکھوں  کے سامنے کر دیتے ھیں اور اسے دنیا سے صرف اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا ا س کے لئے (پہلے سے) لکھ دیا گیا ہے اور جو شخص آخرت کا قصد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ا س کے معاملے کو اکٹھا کر دیتے ھیں اور ا س کی مالداری کو اس کے دل میں  رکھ دیتے ھیں اور دنیا اس کے پاس خاک آلود ہو کر آتی ہے۔( ابن ماجہ)

 حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت  ھے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اپنی تمام فکروں  کو صرف ایک فکر بنا دیا اور وہ آخرت کی فکر ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی دنیا کی فکر کے لئے کافی ہے اور جس کی فکریں  دنیا کے اَحوال میں  مشغول رہیں  تو اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں  ہو گی کہ وہ کس وادی میں  ہلاک ہو رہا ہے۔( ابن ماجہ)

حضرت جارود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے آخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب کی تو اس کا چہرہ بگاڑ دیاجائے گا،اس کا ذکر مٹا دیا جائے گا اور جہنم میں  اس کا نام لکھ دیا جائے گا۔ (معجم الکبیر)

یہ حقیقت ھے کہ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ھے یہاں کا قیام بالکل عارضی ھے جب کہ آخرت کی زندگی دائمی ھے ۔ عقلمند شخص وھی ھے جو اس دنیا کی عارضی زندگی کے سفر کو سفر ھی سمجھے اور اپنے آپ کو اس دنیا کا مکین نہیں بلکہ مسافر سمجھے اور اپنی نظر اپنی آصل منزل یعنی آخرت پر رکھے یہی شخص صحیح معنوں میں کامیاب وکامران ھو گا چنانچہ حارثہ بن وہاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ: کیا میں تمهیں بتاوں کہ اہل جنت کے بادشاه کون لوگ ہیں- لوگوں نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) تو رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  فرمایا : وه جو کمزور هو اور جس کو کمزور سمجهہ لیا گیا هو- گرد آلود اور بکهرے هوئے بال- (متفق علیہ)

وه لوگ جو مصلحت پرستی کے بجائے اصول پسندی کو اپنا دین بناتے ہیں- جو دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں- جو مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے حق کو اہمیت دیتے ہیں- جو بندوں کے بجائے اللہ کو اپنی توجہات کا مرکز بناتے ہیں، ایسے لوگ اکثر اوقات دنیا میں بےحیثیت هو جاتے ہیں- وه بیچارے ان چیزوں میں سے کسی چیز کا ثبوت نہیں دے پاتے جن کی دنیوی زندگی میں اہمیت هو اور جو دنیاوی اعتبار سے آدمی کو باعزت بنانے والی هوں- ان کی اس حالت کی وجہ سے بعض اوقات ایسا هوتا ہے کہ لوگ ان کو بےحیثیت اور ناکام سمجهہ لیتے ہیں- دنیوی نقشوں میں ان کو کہیں عزت کے مقام پر نہیں بٹهایا جاتا- مگر حقیقت یہ ھے کہ جب بحکمِ اللہ موجوده دنیا کو ختم کرکے آخرت کا عالم بنایا جائے گا تو اُس عالم کے اندر یہی لوگ سب سے زیاده اونچا مقام حاصل کر لیں گے- وہی سب سے زیاده کامیاب انسان قرار پائیں گے- آج کی دنیا کے  بادشاہوں سے کہیں زیادہ شان و شوکت والی زندگی گزاریں گے- مثلاً  ڈیکٹیٹرانہ نظام میں ایک جمہوری لیڈر ذلت اور گم نامی کے قید خانہ مں ڈال دیا جاتا ہے- مگر جب جمہوری حالات پیدا هوتے ہیں اور عوامی رائے سے سیاسی مناصب کا فیصلہ هوتا ہے تو وہی شخص اقتدار کی بلند ترین کرسی پر بیٹها هوا نظر آتا ہے جو کل تک ایک معمولی سپاہی کے آگے بهی بے بس  دکهائی دے رہا تها بعینہ یہی معاملہ اُس شخص کا ھے جس کا منتہائے نظر آخرت کی زندگی ھو دنیا میں تو وہ شاید گمنامی اور کسمپرسی کے ساتھ زندگی گزار لے گا لیکن مرنے کے بعد والی زندگی میں وہ ان شاء اللہ ضرور کامیاب وکامران ھوگا اور آعلی درجات پر فائز ھو جائے گا اس کے برعکس جو شخص دنیا ھی کو اپنا متمعِ نظر بنائے گا اور آخرت سے غفلت برتے گا وہ شاید دنیا میں تو کچھ اھمیت اختیار کر جائے لیکن آخرت کی ھمیشہ ھمیشہ والی زندگی میں وہ ناکام اور نامراد ھو جائے گا چنانچہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ارشاد ھے 

“جو شخص اپنی تمام فکروں کو جمع کر کے ایک ہی فکر، یعنی آخرت کی فکر بنا لے، اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی فکروں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دُنیا و آخرت کی زندگی کی کامیابی کا ایک نہایت اہم رازِ بیان فرما دیا ہے۔ انسان کی پریشانیوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی فکریں بکھری ہوتی ہیں؛ مال، مستقبل، لوگوں کی رائے اور دنیاوی مقابلہ۔ لیکن جب دل کی توجہ آخرت پر مرکوز ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ خود دنیا کے معاملات کو بھی سنوار دیتا ہے۔

یہ حدیث ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ جو شخص اپنی ترجیحات درست کر لیتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالی آسانیاں پیدا فرما دیتے ھیں ۔ آخرت کی فکر انسان کو گناہوں سے بچاتی، نیک اعمال کی طرف راغب کرتی اور دل کو سکون عطا کرتی ہے، جبکہ دنیاوی فکریں خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔

اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اصل کامیابی زیادہ سوچنے یا زیادہ جمع کرنے میں نہیں، بلکہ صحیح سمت میں سوچنے میں ہے۔ جو اللہ تعالی کی رضا کو اپنا مقصد بنا لے، اس کے لیے دنیا بوجھ نہیں رہتی بلکہ آزمائش بن کر آسان ہو جاتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں سوچ کی اصلاح، ترجیحات کی درستگی اور اللہ پر کامل بھروسہ کی ترغیب دیتی ہے، اور یاد دلاتی ہے کہ آخرت کو مقدم رکھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔

اللہ پاک ھمیں آخرت کی صحیح معنوں میں تیاری کرنے کی توفیق عنایت فرمائے 

آمین یا رب العالمین 

Share:

حضرت مولانا آحمد علی لاھوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا ایک مجرب عمل

 ویسے تو وظائف اور عملیات کی دُنیا میں سینکڑوں وظائف و عملیات ایسے ہیں جو مجرب ہیں اور لوگ بوقتِ ضرورت ان سے مستفید بھی ھوتے ھیں ۔  انہی میں سے ایک مجرب عمل حضرت مولانا احمد علی لاہوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے لکھا ہے جو ھر جائز مقصد کے لئے مفید ھے ۔ وہ عمل یہ ھے

قرآن مجید میں 106 لفظ "مبین" یعنی آیات مبارکہ  "مبین" ہیں اگر  ان آیاتِ مبارکہ کا  ورد کیا جائے اور اپنے جائز مقاصد میں کامیابی کی دعا کی جائے تو اللہ تعالی کی رحمت سے امید ھے کہ ان شاء اللہ ضرور   کامیابی ہوگی.

افادہ عامہ کے لئے وہ آیات مبارکہ ذیل میں تحریر کی جارہی ہیں...


بسم الله الرحمن الرحيم....


1)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿168 البقرة﴾


2)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿208 البقرة﴾


3)وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿164 آل عمران﴾


4)قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ ﴿15 المائدة﴾


5)فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٩٢ المائدة﴾


6)فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿110 المائدة﴾


7)لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 الأنعام﴾


8)مَنْ يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿١٦ الأنعام﴾


9)وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿59 الأنعام﴾


10)إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿74 الأنعام﴾


11)وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿142 الأنعام﴾


12)وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿22 الأعراف﴾


13)قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿60 الأعراف﴾


14)فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ ﴿107 الأعراف﴾


15)أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿184 الأعراف﴾


16)قَالَ الْكَافِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ مُبِينٌ ﴿2 يونس﴾


17)وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿61 يونس﴾


18)فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا إِنَّ هَٰذَا لَسِحْرٌ مُبِينٌ ﴿76 يونس﴾


19)وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿6 هود﴾


20)لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 هود﴾


21)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿25 هود﴾


22)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿96 هود﴾


23)الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿١ يوسف﴾


24)إِنَّ الشَّيْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿5 يوسف﴾


25)وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿8 يوسف﴾


26)قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاهَا فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿30 يوسف﴾


27)تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿10 ابراهيم﴾


28)الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ ﴿1 الحجر﴾


29)إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِينٌ ﴿18 الحجر﴾


30)فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُبِينٍ ﴿79 الحجر﴾


31)وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ﴿٨٩ الحجر﴾


32)خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ ﴿4 النحل﴾


33)فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٣٥ النحل﴾


34)فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٨٢ النحل﴾


35)لسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ ﴿103 النحل﴾


36)لَٰكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿38 مريم


37)قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿54 الأنبياء﴾


38)خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿١١ الحج﴾


39)قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿49 الحج﴾


40)ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَارُونَ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿45 المؤمنون﴾


41)لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ (12 النور)


42)وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ ﴿٢٥ النور﴾


43)وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿٥٤ النور﴾


44)تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الشعراء﴾


45)قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُبِينٍ ﴿30 الشعراء﴾


46)فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ ﴿32 الشعراء﴾


47)تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿97 الشعراء﴾


48)إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿115 الشعراء﴾


49)بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ {195 الشعراء}


50)طس تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ ﴿1 النمل﴾


51)فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿13 النمل﴾


52)إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ﴿١٦ النمل﴾


53)لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿21 النمل﴾


54)وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿75 النمل﴾


55)فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ ﴿٧٩ النمل﴾


56)تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ القصص﴾


57)قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبِينٌ ﴿15 القصص﴾


58)قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُبِينٌ ﴿18 القصص﴾


59)قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بِالْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ 85 القصص﴾


60)وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٨ العنكبوت﴾


61)وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (50 العنكبوت)


62)بَلِ الظَّالِمُونَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿11 لقمان﴾


63)وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ ﴿3 سبإ﴾


64)وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿24 سبإ﴾


65)وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿43 سبإ﴾


66)وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ ﴿12 يس﴾


67)وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٧ يس﴾


68)إِنِّي إِذًا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿24 يس﴾


69)إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿47 يس﴾


70)أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿60 يس﴾


71)إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُبِينٌ ﴿69 يس﴾


72)أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ ﴿77 يس﴾


73)وَقَالُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿15 الصافات﴾


74)إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ﴿١٠٦ الصافات﴾


75)وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ ﴿113 الصافات﴾


76)أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُبِينٌ ﴿156 الصافات﴾


77)إِنْ يُوحَىٰ إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿70 ص﴾


78)أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ ﴿١٥ الزمر﴾


79)فَوَيْلٌ لِلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿22 الزمر﴾


80)وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿23 مؤمن﴾


81)وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الزخرف﴾


82)إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ ﴿15 الزخرف﴾


83)أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ ﴿18 الزخرف﴾


84)بَلْ مَتَّعْتُ هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُبِينٌ ﴿29 الزخرف﴾


85)أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَنْ كَانَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿40 الزخرف﴾


86)وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ ﴿62 الزخرف﴾


87)وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ﴿٢ الدخان﴾


88)فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ﴿10 الدخان﴾


89)أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُبِينٌ ﴿13 الدخان﴾


90)وَأَنْ لَا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ إِنِّي آتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿19 الدخان﴾


91)وَآتَيْنَاهُمْ مِنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُبِينٌ ﴿33 الدخان﴾


92)فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِي رَحْمَتِهِ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ ﴿٣٠ الجاثية﴾


93)قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿7 الأحقاف﴾


94)إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿9 الأحقاف﴾


95)أُولَٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿32

الأحقاف﴾


96)وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38 الذاريات﴾


97)فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿50 الذاريات﴾


98)وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿51 الذاريات﴾


99)فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ﴿38 الطور﴾


100)فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ ﴿6 الصف﴾


101)وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿2 الجمعة﴾


102)فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴿١٢ التغابن﴾


103)قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿26 الملك﴾


104)فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ﴿29 الملك﴾


105)قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ ﴿2 نوح﴾


106)وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ﴿٢٣ التكوير﴾


ان ایاتِ مبارکہ کے ختم کے بعد جہاں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے دعا مانگیں وہاں تمام امتِ مسلمہ کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں..

Share:

مشورہ کی اھمیت اور افادیت

وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ () ...
اور آپ (صحابه) ســے اهم كام ميں مشوره ليا كريں سوجب فيصله كرليں تو الله پر توكل كريں بے شك الله تعالى توكل كرنــے والوں كو محبوب ركهتا هــے(العمران)
انسانی زندگی ميں مشوره كي بهت زياده إهميت هـے بہت سے اُمور ایسے ھوتے ھیں جن میں انسان مشورہ کی ضرورت محسوس کرتا ھے۔ يه جاننا بهت ضرورى هــے کہ مشوره كيا هـــے؟ اور إس کا طريقه کار كيا هــے؟
سب ســے پہلے تو مشوره كــے متعلق يه جان لينا ضرورى هــے كه يه حكمِ ربى هــے۔ قرآن مجيد ميں ارشاد هــے

وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ () اور جنهوں نــے اپنـے رب كا حكم مانا اور نماز كو قائم كيا اور ان كــے كام باهمى مشوره سـے هوتــے هيں اور وه اس ســے جو هم نــے رزق ديا هــے خرچ كرتــے هيں(شوری)

 مشوره كــے متعلق رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كـے چند ارشادات مندرجه زيل هيں:-
مشوره ليا كريں كيونكه مشوره لينــے والــے كى(منجانب الله) مدد كى جاتي هــے اور جس ســے مشوره ليا جائــے وه آمين هــے
انفرادى رائــے ســے كوئى كامياب نهيں هوا اور مشوره كــے بعد كوئى ناكام نهيں هوا
 رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كا( باوجود اس كــے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  صاحب وحى تهــے) يه معمول رها هــے كه تمام اهم كاموں ميں صحابه كرام رضوان الله عليهم سـے مشوره ليا كرتــے تهــے اور پهر خلفاء راشدين رضوان الله عليهم بهى اسى پر عمل كرتــے رهــے اورپهر امت كــے اكابرين كا بهي يهى معمول چلا آرها هـــے۔
مشوره دو قسم كا هوتا هــے إيك إجتمائى أمور كے لئــے حيســے كسي مسجد ، مدرسه كا مشوره يا کسی رفاھی تنظیم یا دینی جماعت كا مشوره هــے اور دوسرا إنفرادى أمور كا مشوره ۔ چونكه هميں نجي زندگي ميں إنفرادي مشوره كي بهي أكثر ضرورت پڑتي رهتي هے إس لئے اس کے متعلق بھی جاننا بہت ضروری ھے ۔
إنفرادى مشوره إنفرادى مشوره وه هــے جس كا تعلق كسى شخص كے ذاتي أمور ســے هو مثلاً كوئى تجارت يا خريد و فروخت كرنا - بچــے يا بچي كا رشته طــے كرنا اور كسى سفر پر جانا وغيره - إنفرادى مشوره ايسـے شخص ســے كرنا چاهيــے جو صالح اور ديندار هو اور جس كام كے لئــے مشوره كيا جانا هــے اسكى معلومات بھی ركهتا هو ۔ بے دين اور خود غرض شخص ســے مشوره نهيں كرنا چاهيــے كيونكه ايك تو بـے دين شخص كى عقل ميں ظلمت هوتي هــے دوسرا وه جان بوجهـ كر غلط مشوره دے گا جس ســے اور خلجان پيدا هونــے كا خدشه هــے۔ (مثلاً آپ كوئى تجارت كرنا چاهتــے هيں اســے معلوم هـے كه إس ميں فائده هــے وه آپ كو خوفزده كركــے اس ســے دور كردے گا اور پهر موقعه پا كر خود فائده اٹهانــے كي كوشش كرے گا ۔ إسي طرح آپ اپنــے بيٹــے يا بيٹى كا كهيں رشته طــے كرنا چاهتــے هيں وه دوسرے فريق ســے آپكو بدظن كرے گا ان لوگوں كى برائياں خود سے گهڑ گهڑ كر آپكو بتائــے گا - اسی طرح جس كــے بارے ميں يه معلوم هو كه يه جهوٹ بولنــے كا عادى هــے اس ســے بهي مشوره نه كيا جائــے كيونكه وه جانتـے هوئــے بهى اپكو صحيح بات نهيں بتائــے گا.- ازروئے شريعت طالبِ مشورہ کا تمام عزيزوں سـے مشوره كرنا بهي ضرورى نهيں ھے ۔ جس ســے وہ مناسب سمجهــے مشوره كرلــے اور جس ســے مناسب نه سمجهــے مشوره نه كرے ۔ بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ جس شخص میں یہ پانچ خصلتیں اور عادتیں ہوں اُس سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ایک یہ کہ مشورہ دینے والا کامل عقل مند اور متعلقہ معاملے میں تجربہ رکھتا ہو۔
دوسرے یہ کہ مشورہ دینے والا شخص متقی اور پرہیز گار ہو۔
تیسرے یہ کہ مشورہ دینے والا مشورہ لینے والے کا ہم درد اور خیر خواہ ہو۔
چوتھے یہ کہ مشورہ دیتے وقت مشورہ دینے والا رنج و غم اور ذہنی اُلجھن کا شکار نہ ہو اس لیے کہ ایسی صورت میں اُس کی رائے میں درُستگی اور سلامتی باقی نہیں رہتی۔
پانچویں یہ کہ کوئی ایسا معاملہ نہ ہو کہ جس میں مشورہ دینے والے کی اپنی ذاتی غرض اور نفسانی خواہش شامل ہو۔
رسول اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے حضرت علي رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  سے فرمایا: اے علی (رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ)  ڈرپوک سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ مشکلات سے نکلنے کا راستہ تمہارے لیے تنگ کر دے گا، اور کنجوس سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ آپ کو سخاوت کرنے اور آپ کے ہدف سے دور کر دے گا، اور لالچی سے مشورہ نہ کرو کیونکہ وہ لالچ کو تمہارے لیے خوبصورت بنا دے گا۔
مشوره لينــے والــے كي ذمه دارى اور حقوق
مشوره لينــے والــے كى يه ذمه دارى هــے كه مشوره كيلئــے صالح - ديندار اور سمجهدار شخص كا إنتخاب كرے جس سـے مشوره كرے اس كــے سامنـے بات إس طرح ركهــے كه اسكو معامله سمجهـ ميں آجائــے تاكه اســے مشوره دينــے ميں آسانى هو جب وه مشوره دے تو اسكي بات كو غور ســے سنــے اگر اس کا مشوره پسند آجائــے تو اسكو بتا دے اگرنه بهي پسند هو تو اسكا إحسان مند هو كه اس نــے وقت ديا اور اس كا شكريه ادا كردے نيز اگر كوئى شخص مشوره دينــے سے كسي وجه ســے معذرت كرے تو اســے مشوره دينــے پر مجبور نه كرے۔
مشوره لينــے والے كو جس طرح شرعاً يه حق حاصل هــے کہ وه كس ســے مشوره كرے يا كس ســے نه كرے اسی طرح اسے یہ بھی حق حاصل ھے کہ وہ کسی كا مشوره قبول کرے يا رد كرے . شريعت مطهره نــے اس كے لئـے يه لازمى نهيں كيا كه وه جس ســے مشوره كرے اس كا مشوره قبول بهي ضرور هي كرے ۔ كسى شخص كــے مشوره پر عمل كرنا يا نه كرنا يه طالبِ مشوره كا شرعى حق هــے۔
مشوره دينــے والــے كي ذمه دارى اور حقوق
جس ســے مشوره طلب كيا جائــے وه اس كو آمانت سمجهـ كر جو بهترين مشوره اس كــے ذهن ميں هو وه دے دے ۔ بهتر يه هوگا كه ايســے موقعه پر وہ يه خيال كرے كه اگر ميں نــے يه كام كرنا هوتا تو ميرے لئے كيا بهتر هوتا ۔ وهى مشوره اس كے سامنــے ركهــے اگر مشوره قبول هوجائــے تو الله تعالى ســے اس كى بهلائى كے لئــے دعا كرے اور اگر قبول نه هو تو كسى قسم كي كوئى بهي ناراضگى كا أظهار نه كرے
جس ســے كوئى شخص مشوره طلب كرے تو اس كو مشوره دينــے ســے حتى الإمكان إنكار نهيں كرنا چاهيــے ۔ تاهم اگر كسى وجه ســے ايسا كرنا اس كــے لئــے ممكن نه هو تو نرمى اور عاجزى كے ساتهـ معذرت كرلـــے- مشوره لينا اور دينا چونكه حكمِ خداوندى اور سنت رسول كريم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  هــے لهذا جس ســے مشوره طلب كيا جائــے وه غرور اور تكبر نه كرے كه ميں كتنا دانا هوں كه مجهـ ســے مشوره ليا جارها هــے اور نه هي وه مشوره لينـے والــے كو حقير سمجهــے نه هي اس پر حكم چلانــے كي كوشش كرے كه يه آپ نــے مجهـے پہلے نهيں بتايا لهذا اب ميں مشوره نهيں دوں گا يا يه كه چونكه آپ نــے مجهــے إعتماد ميں نهيں ليا اس لئــے ميں اب يه كام بالكل نهيں هونے دوں گا وغيره وغيره - يه درأصل نمرودي اور فرعونى الفاظ هيں جو عندالله قطعاً پسنديده نهيں هيں ۔ اگر كسي نــے اس طرح كــے نمرودي وفرعونى الفاظ كهــے هوں تو وه شخص عندالله مجرم هے ۔ چونكه اس كے يه الفاظ صاف ظاهر كررهے هيں كه وه واقعتاً متكبر هے ۔ جبكه كبر صرف اور صرف الله تعالى كي صفت هے ۔ كسي اور كو يه نه تو زيب ديتى هے نه هي اس كا يه حق هے ۔ جن لوگوں كو جنت سے محرومي كي وعيد سنائى گئي هے ان ميں إيك متكبر شخص بهي هے . جو شخص إس گناه كا مرتكب هوا هے تو سب ســے پهلــے تو اس نـے الله اور اس كـے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كـے حكم كى خلاف ورزى كى هـے لهذا الله تعالى كے سامنے ندامت كا أظهار كرے۔ دل سے بهي اور زبان سے بهي اور پهر الله تعالى سـے رو رو كر توبه النصوح كرے اور دوسرا چونكه اس نے مشوره طلب كرنــے والــے كى بهي حق تلفى كى هــے لهذا اس ســے بهي واضح طور پرمعافى كا خواستگار هو. اگر يه الفاظ تنهائى ميں كهــے هوں تو تنهائى ميں معافي مانگــے اگر مجلس ميں كهــے هوں تو بهتر هے كه مجلس ميں معافى مانگــے ۔ اگر ايسا نه كيا تو يه شخص كل قيامت والـے دن عندالله جوابده هوگا
بهرحال مشوره قبول كرنــے پر اصرار كرنا اور قبول نه كرنے كي صورت ميں ناراض هونا سخت غلطى هــے ۔ مشوره دينــے كى حقيقت هي صرف إتنى هــے كه اپنى رائے ظاهر كردى جائے اور بس كوئى قبول كرے يا نه كرے بهرصورت ناگوارى نهيں هونى چاهيـے۔

إجتماعي مشوره 
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اجتماعی مشورہ سے مراد مسجد ، مدرسہ یا کسی جماعت اور تنظیم وغیرہ کا مشورہ ھے اسی طرح تبلیغی جماعت میں بھی مشورے کی بہت اھمیت ھوتی ھے ۔ تمام اُمور مشورے سے ھی طے ھوتے ھیں۔ یہاں تک جب جماعتیں خروج کرتی ھیں تو تمام قیام کے دوران روزانہ مشورہ کیا جاتا ھے ۔ جب جماعت مسجد ميں پہنچ جاتي هــے اور ساتهي وضو اور تحية المسجد وغيره ســے فارغ هوكر جمع هو جاتــے هيں تو مشوره كا عمل شروع هو جاتا هــے اور پهر يه عمل پابندي كے ساتهـ هر روز كيا جاتا هــے۔ تمام دن كا اور اگلــے دن كي فجر تك كا مشوره كر ليا جاتا هــے جس ميں تمام اُمور كے لئــے ساتهي طــے هوجاتـــے هيں ۔ درميان ميں جو اور تقاضــے آتــے هيں ان كــے لئــے آمير صاحب طــے كرديتــے هيں۔ مشوره سنت كــے مطابق اور مكمل آداب كی ساتھ كيا جاتا هـــے ساتهيوں كو فكرمند كرنــے كے لئــے ايك ساتهي مشوره كے فضائل اور آداب مختصراً بيان كرتا هــے۔ اسی طرح مساجد اور مدارس وغیرہ کے مشورے ھوتے ھیں۔

مشورہ كا مقصد
مشوره الله تعالى سے خير طلب كرنے كا ايك ذريعه هے ۔ گويا مشوره كركے الله تعالى سے خير طلب كي جاتي هے ۔ مشوره كا ايك مقصد امت ميں جوڑ پيدا كرنا بهي هے لهذا مشوره امت ميں جوڑ پيدا كرنے كا بهي ايك ذريعہ هے ۔ آمير كي اطاعت كا جذبه پيدا كرنا بهي مشوره كا ايك مقصد هے كيونكه جب آمير صاحب اپني رائے كے خلاف كچهـ طے فرماتے هيں تو اسے ماننا هوتا هے اس طرح آمير كي آطاعت كي عادت بن جاتي هے اور يه عادت اگے چل كر الله تعالى اور رسول الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كي آطاعت كا پيش خيمه ثابت هوتي هے ۔ کسی معاملہ میں مشورہ سے ايك مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ کے تمام تر پہلو سامنے آجائیں۔ پھر ان جملہ پہلوؤں کو سامنے رکھ کر یہ معلوم کیا جائے کہ کونسا پہلو اقرب الی الحق ہے۔ اور کتاب و سنت سے زیادہ مطابقت رکھا ہے ۔ گویا مجلس مشاورت منعقد کرنے کی غرض وغایت یہ ہے کہ کونسا اقدام اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ہو سکتا ہے۔
اجتماعی مشورہ كے آصول و آداب مشوره چونكه إيك سنت عمل هــے إس لئـے اســے مكمل آداب كي رعايت ركهتــے هوئــے كرنا چاهيــے ۔ إن آداب ميں ســے كچهـ مندرجه زيل هيں
1-مشوره كے لئــے ايك آمير هونا لازمى هــے اس لئــے اگر آمير صاحب موجود نه هوں تو موجود ساتھیوں میں سے كوئى آمير طــے كيا جائــے. آمير صاحب اور تمام ساتهي الله تعالى كى جانب دهيان كركــے بيٹهيں- ذهن مكمل طور پر حاضر هو. جن أمور پر مشوره هو رها هو آمير صاحب اور ساتهي اس ســے پورى طرح باخبر هوں
2-آمير صاحب كو چونكه آمير مقرر كيا گيا هــے إس لئــے وه الله تعالى ســے ڈريں اور تكبر وغيره ســے مكمل بچيں ۔ وه يه نه سمجهيں كه شايد ميں هي ذياده قابل تها اس لئــے مجهـے آمير مقرر كيا گيا بلكه يوں سمجهيں كه ميں اس ذمه دارى كــے قابل نهيں تها ليكن يا الله تيرے بندوں نــے مجهـ ناتوان كو يه ذمه دارى دے دى هــے اس لئــے يالله ميرى مدد فرما اور إس عظيم ذمه داري سے عهده برأه هونے كي توفيق عطا فرما - آمين
3-آمير صاحب الله تعالى كى طرف متوجه هو كر مطلوبه أمور پر ساتهيوں ســے مشوره ليں اور پهر جو بات آمیر صاحب کے دل ميں آئــے وه طــے كرديں كيونكه آمير صاحب كــے دل ميں جو بات آئے گى وه الله تعالى كي طرف ســے هوگي اور إن شاء الله اسي ميں خيرهوگي۔
4-يه آمير صاحب كي صوابديد پر هــے كه وه تمام ساتهيوں ســے مشوره ليں يا كچهـ ســے مشوره ليں اور كچهـ ســے نه ليں يا كسى ســے بهي مشوره ليــے بغير كسى بات كو طــے كرديں تو إن شاء الله إسي ميں خير هوگى( ليكن إيسا كسي مجبوري كے بغير نهيں كرنا چاهيے) اورجو بهي طے هوگیا اب يه متفقه أمر تصور كيا جائے گا ۔ إس مشوره ميں اكثريت اور اقليت كي بهي كوئى گنجائش نهيں ۔ بس جو بات آمير صاحب كى طرف ســے طــے هوگئى هے وهى قابل قبول هوگى ۔ چاهــے اكثريت كى رائــے اس كــے خلاف هي كيوں نه هو۔
5- تمام ساتهى مشوره ميں پورے دهيان كے ساتهـ بيٹهيں – ماننــے كى نيت ســے بيٹهيں ۔ اپنی بات منوانــے كى نيت بالكل نه هو – جس ساتهي سـے مشوره طلب كيا جائــے صرف وهي مشوره پيش كرے دوسرے ساتهــي بالكل خاموش ســـے سنيں – جس ساتهي ســے مشوره طلب كيا جائــے اس كــے ذهن ميں جو بهترين بات آرهى هو اســے آمانت سمجهـ كر پيش كردے يه نه سوچــے كه اگر ميں نــے يه رائــے دے دي تو كهيں يه ذمه دارى مجهـ پر ھی نه ڈال دى جائــے۔
6- مشوره كے دوران كسى أمر پر مختلف رائــے كا آنا إيك قدرتي أمر هــے ليكن مشوره ميں جو بهي بات آمير صاحب كي جانب سے طــے هو جائے اب هر ساتهي اســے اپنى هي رائــے سمجهـے اور اس پر دل و جان ســے عمل كرے۔ گو طـے شده أمر اس كى رائــے كـے خلاف هي كيوں نه هو – مشوره سے پهلــے كوئى مشوره نه هو اور مشوره كــے بعد اس پر كوئى تبصره نه كيا جائــے بلكه جو كچهـ طــے هوچكا وه اب وہ تمام ساتھیوں كا مشوره تصورهوگا اور آمير صاحب سميت هر ساتهي إس كا پابند هوگا۔
7۔ جس طرح دین امانت ہے اسی طرح مشورہ بھی امانت ہے ۔ جس طرح دین کا اہم رکن نماز ہے اسی طرح دعوتِ دین  کا اہم رکن مشورہ ہے۔ جس کی نماز نہیں اس کا دین نہیں ۔ اسی طرح جس کا مشورہ نہیں اس کی دعوت نہیں۔
8 ۔ کام کی کمزوری مشورے کی کمزوری ہے کام اس لیے کمزور ہوگا کہ مشورہ کمزور ہوگا۔
مشورے کا مقصد تقاضے کو پورا کرنا نہیں ہے، بلکہ مشورے کا مقصد ساتھیوں کو لے کر چلنا ہے تقاضے وہ پورا کرے گا جو ساتھی قربانی دے گا۔ جس مشورے سے تقاضے پورے نہیں ہوئے وہ مشورہ کمزور نہیں، بلکہ جس مشورے سے ساتھی کٹ گیا وہ مشورہ کمزور ہے۔
 کام کرنے کا ساتهي جو تیار ہوتا ہے وہ مشورے سے تیار ہوتا ہے، اور جو ساتھی کٹتا ہے وہ مشورے سے کٹتا ہے۔

9۔ مشورے کے بعد مشورہ کرنا یہ بھی مشورے کی کمزوری ہے۔ جس کے اندر مشورے کے اہمیت نہیں ہوگی، اس مشورے سے طے ہونے والی امور کی بھی اہمیت نہیں ہو گی۔
10۔ مشورے میں فیصلہ رائے کی کثرت پر نہیں ہوگا، رائے کی کثرت اختلاف نہیں ہے، بلکہ رائے کی کثرت اور رائے کو نکھارتا ہے۔
11- جس ساتهي سے رائے طلب كي جائے صرف وهي رائے دے جو ساتهـي رائــے دے وه صرف اپنى رائــے پيش كرے دوسرے ساتهيوں كى بات كو بالكل نه كاٹـے بلكه يوں كهــے كه بهائيوں نــے بهت اچهى رائــے دى هيں اور ميرے ذهن ميں يه بات آرهي هـے - ساتهى كى رائــے اگر طــے هوجائــے تو الله تعالى ســے ڈرے كه ميں نــے رائــے پيش كى تهي جو طــے بهي هوگى يالله اس ميں خير كا فيصله فرما دے اور اگر بات طــے نه هو تو ناراض نه هو بلكه خوش هو كه هوسكتا هــے ميرى رائے درست نه هو يه ملال نه كرے كه مجهـے تو كچهـ سمجها هي نهيں گيا اس لئــے ميرى رائے كو كوئى وقعت نهيں دى گى .
مشورے کي اہمیت وفضيلت
قرآن مجيد ميں ارشادِ ربّانی ہے: اور شریک مشورہ رکھو، انہیں ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسه کرو ،بے شک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا) ہے ایسے بھروسه کرنے والوں کو‘‘۔(سورۂ آل عمران )
اسی طرح مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا :اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔ بلاشبہ مشورہ خیر و برکت، عروج و ترقی اور نزول رحمت کا ذریعہ ہے، اس میں نقصان اور ندامت و شرمندگی کا کوئی پہلو نہیں۔
 رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: کوئی انسان مشورے سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے۔ (قرطبی)
ایک موقع پر رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا، وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی)
اسی طرح رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کا یہ بھی ارشاد ہے: مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔‘‘(ادب الدنیا والدّین)
حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے فرمایا: کوئی انسان مشورے کے بعد ہلاک نہیں ہوتا۔‘‘( ابن ابی شیبہ)
حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا قول ہے: مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا، وہ خطرات سے دوچار ہوا۔ (المدخل)
خلاصہ یہ کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے، رشدوہدایت اور خیر وصلاح اس سے وابستہ ہے، جب تک مشاورت کا نظام باقی رہے گا، فساد اور ضلالت و گمراہی راہ نہیں پاسکے گی، امن اور سکون کا ماحول رہے گا، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے حکام تم میں سے بہترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورے سے طے ہوا کریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہوگا۔“ (روح المعانی)
مشورے کو مسلمانوں کا وصف خاص قرار دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ایمان والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو مانا، نماز قائم کی اور ان کے کام باہم مشورے سے ہوتے ہیں اور جو ہم نے (مال انہیں) دیا ہے، اسے خرچ کرتے ہیں۔(سورۂ شوریٰ) اس آیت میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان میں ایک وصف باہمی مشورہ بھی ہے یعنی کسی اہم معاملے کو باہمی رائے کے ذریعے حل کیا جانا کامل اور پختہ ایمان مسلمانوں کی صفت ہے، اطاعت ِ خداوندی اور اقامت ِ صلوٰۃ کے بعد فوری طور پر مشورے کے معاملے کو بیان کرنے سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا پته چلتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم اور بالخصوص خلفائے راشدین رضوان الله عليهم نے مشاورت اورباہمی مشورے کو اپنا معمول بنایا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كو بھی مشورے کا حکم دیا، ارشاد فرمایا: اے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ! آپ معاملات اور متفرق امور میں صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ کیا کیجیے۔ (سورۂ آل عمران) بظاہر رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو مشورے کی حاجت نہیں تھی، کیوں کہ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے لیے وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  چاہتے تو وحی کے ذریعے معلوم ہوسکتا تھا کہ کیا اور کس طرح کرنا چاہیے؟ حضرت قتادہؓ، ربیع اوردوسرے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم کے اطمینانِ قلب اورانہیں وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا،اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار سمجها جاتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ وحی کے ذریعے اگرچہ بہت سے امور میں آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی رہنمائی کردی جاتی تھی، مگر حکمت اور مصلحتوں کے پیش نظر چند امور کو رسول كريم آ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  كي رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، ان ہی مواقع میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورےکا حکم دیا گیا، تا کہ امت میں مشورےکی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورے کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج اور ضرورت مند ہیں،
چناںچہ فرمایا گیا: یاد رکھو! اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  مشورے سے بالکل مستغنی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے امت کے لیے رحمت کا سبب بنایا ہے۔ (درمنثور) اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے مسلمانوں کو مشورے کی فضیلت کا درس دیا ہے، تاکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی امت اس کی پیروی کرے‘‘۔ (قرطبی)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا بیان ہے کہ میں نےرسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں پایا یعنی آپ ہر قابلِ غور معاملے میں اپنے صحابہؓ سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ فرماتے، مثلاً :جنگ بدر سے فراغت ہوچکی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اسیرانِ بدر کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تَعَالٰی عَنْہُم سے مشورہ فرمایا کہ انہیں معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے ۔ غزوہٴ اُحد کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے یا شہر سے باہر نکل کر۔ عام طور سے صحابہ کرام رضوان الله عليهم کی رائے باہر نکلنے کی تھی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے اسے قبو ل فرمایا۔ غزوہٴ خندق میں ایک خاص معاہدے پر صلح کرنے کا معاملہ درپیش ہوا تو حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  اورحضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اس معاملے کو مناسب نہیں سمجھا، اس لیے ان دونوں نے اختلاف کیا، آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ان دونوں کی رائے قبول کرلی، حدیبیہ کے ایک معاملے میں مشورہ لیا تو حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کی رائے پر فیصلہ فرمایا،واقعہٴ اِفک میں صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ لیا، اسی طرح اذان کی بابت بھی صحابہ كرام رضوان الله عليهم سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حکمت کی بناء پر کسی خاص جانب رہنمائی نہ کی جاتی، ان میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ فرماتے۔
قرآن و سنت کی تعلیمات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نہ صرف یہ کہ اہم امور اورمعاملات میں صحابۂ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ لیتے ،بلکہ ان پر عمل بھی فرماتے تھے۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے بعد جب صحابۂ کرام رضوان الله عليهم کا دور آیا تو ان کے سامنے ایک طرف تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا اسوہ ٔ حسنہ تھا اور دوسری طرف قرآن و حدیث۔ دونوں میں نہایت واضح ہدایات خود صحابہ كرام رضوان الله عليهم کو دی گئی تھیں کہ وہ کس اساس پر اپنا سیاسی نظام قائم کریں اور اس میں قانون سازی کا طریقہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں اصولی ہدایت یہ دی گئی ہے: اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔(سورۂ شوریٰ)اس اصولی ہدایت کی وضاحت بھی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے اس طرح فرمائی تھی: حضرت ابوسلمہ رضي الله تعالى عنه کا بیان ہےکہ میں نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے عرض کیا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کا ذکر نہ تو کہیں قرآن میں ہو اور نہ سنت میں تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ اس معاملے پر مسلمانوں کے صالح لوگ غور کرکے اس کا فیصلہ کریں گے۔ (سنن دارمی)
مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جسے متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو، چناںچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحب ِ نظر عالم ِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے اور کسی بیماری اور جسمانی صحت کے بارے میں کسی اچھے طبیب کا انتخاب ہی مفید ہوگا۔ غرض جس طرح کا معاملہ ہے، اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے، کیوں کہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی، گویا مشورہ لینے کے لیے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: عقل مندوں سے مشورہ کرو، کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت نہ کرو، ورنہ شرمندگی ہوگی۔
رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے، وہ امانت دار ہوتا ہے ، اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔ ( جامع ترمذی )اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ باہمی امور میں مشاورت سے کام لیا جائے ،یہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور سنت ِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   بھی۔ لہٰذا ہر موقع پر مشورے اور مشاورت کا اہتمام ایک ضروری امر ہے۔
مشورہ کن اُمور میں کرنا چاھیے
اور کن میں نہیں کرنا چاھیے
ایک سوال یہ ہے کہ مشورہ کہاں اور کن چیزوں میں کیا جائے؟ اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ جن امور میں شریعت کا فیصلہ متعین ہے کہ یہ چیز فرض ہے یا واجب ہے یا حرام یا مکروہ ہے، ان امور میں مشورہ کی ضرورت نہیں؛ بلکہ جائز بھی نہیں ہے، جیسے کوئی شخص یہ مشورہ کرے کہ نماز پڑھے یا نہیں، زکوٰة دے یا نہیں، حج کرے یا نہیں، یہ چیزیں مشورہ کی نہیں ہیں، ان کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم متعین ہے کہ ان کا کرنا ہر حال میں ضروری ہے یا اسی طرح جن چیزوں کو شریعت نے منع کیا ہے، جیسے زناکاری، شراب نوشی، ڈاکہ زنی وغیرہ ان میں بھی مشورہ کی حاجت نہیں، ان سے تو بہرحال رکنا لازمی ہے؛ البتہ طریق کار کے بارے میں مشورہ کیا جاسکتا ہے، جیسے حج میں جانے کے لیے مختلف راستے ہیں، بعض پُراَمن ہیں اور بعض میں خطرہ ہے، تو اس موقع پر تجربہ کار افراد کی رائے معلوم کی جاسکتی ہے کہ ان مختلف راستوں میں اس کے لیے کون سا راستہ بہتر ہوگا، یا اسی طرح ایک شخص مریض ہے اس کو تردد ہے کہ مجھ کو اس حالت میں تیمم کی اجازت ہے یا نہیں، اس بارے میں اطباء یا تجربہ کاروں سے مشورہ کرسکتا ہے، اسی طرح وہ احکام ومسائل جن کے بارے میں قرآن و حدیث، اقوالِ صحابہ یا سلف کی کتابوں میں کوئی صراحت نہیں ہے، جدید اور نئے زمانہ سے ان کا تعلق ہے، ان میں مشورہ کرنا نہ صرف جائز؛ بلکہ اربابِ فقہ اور صاحب ِ نظر علمائے دین سے ان کے بارے میں پوچھنا اور حکم ِ شرعی معلوم کرنا واجب ہے۔ حضرت علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کا بیان ہے کہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے عرض کیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے بعد اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم صراحتا ً قرآن میں نازل نہیں ہوا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے بھی اس کے متعلق کوئی ارشاد ہم نے نہ سنا ہو تو ہم کیا کریں؟ آنحضرت   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا کہ ایسے کام کے لیے اپنے لوگوں میں سے عبادت گزار فقہا کو جمع کرو اور ان کے مشورہ سے اس کا فیصلہ کرو، کسی کی تنہا رائے سے فیصلہ نہ کرو۔ (معارف القرآن)
دینی امور کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سماجی، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں بھی مشورہ کو اپنانا چاہیے، جہاں شریعت، عقل و عادت کے اعتبار سے کوئی جانب متعین ہو اور نہ ہی اس کا نافع ہونا یقینی ہو، امورِ طبعیہ جیسے بھوک اور پیاس کے وقت روٹی کھانا یا پانی پینا، اس میں مشورہ کرنے اور کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھانا چاہیے یا نہیں؟ عام حالات میں یہ سوال حماقت ہے، ہاں بیماری کے وقت یا اس کے ذرائع اور طرق یا مختلف اغذیہ اور اشربہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے میں اگر کسی کے اندر خطرہ کا احتمال ہو تو مشورہ کرنا مستحسن یا ضروری ہوگا۔ یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشورہ کی ترغیب اور ہدایت تو دی ہے؛ مگر اپنی رحمت ِ عامہ کی بناء پر چند مخصوص جگہوں کے علاوہ انسان کو مقید نہیں کیا کہ کوئی معاملہ بلامشورہ کر ہی نہ سکے، بسااوقات اہم معاملات پیش آتے ہیں اور ایک تجربہ کار انسان کو اس کے انتظام و انصرام اور حل کا طریقہ معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کسی صاحب ِ عقل و دانش سے مشورہ کرے گا تو اس کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں بتلا سکتا، اس حالت میں اگر وہ بلامشورہ کام کربیٹھے تو کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح معاملات کی نوعیت اور منافع و خطرات کی عظمت و وقعت اور قوت و ضعف کے اعتبار سے مشورہ کے حکم ِ استحسان میں فرق ہوجائے گا، بعض مواقع میں مشورہ نہایت اہم اور ضروری ہوگا اور بعض جگہ درجہٴ استحسان میں رہے گا۔ بہرحال وہ امور جن میں کوئی جانب شرعاً، عقلاً، عرفاً، عادتاً معین نہیں اور جن کے مختلف جوانب میں خطرات و منافع کا احتمال ہے، یعنی نتائج مبہم اور مخفی ہوں، ان میں مشورہ کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔ اس میں اتباعِ سنتِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے علاوہ ہزاروں فوائد ہیں، اہلِ علم اور مشورہ کے پابند حضرات اس سے اچھی طرح واقف ہیں۔
اللہ پاک ھمیں رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی سنت کی اتباع کرنے کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین

Share:

بائیس رجب یومِ وفات سیدنا حضرت آمیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ

 

کاتبِ وحی، جلیل القدر صحابی ، فاتح شام و قبرص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه


حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ خوش نصیب انسان ہیں جن کو جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ کاتبِ وحی اور پہلے اسلامی بحری بیڑے کے امیر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے حضورأكرم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی زبان سے کئی دفعہ دعائیں اور بشارتیں نکلیں ، آپ رضی الله  تعالی عنہ کی بہن حضرت سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی زوجہ محترمہ اور ام المومنین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔
آ پ رضی اللہ تعالی عنہ نے 19 سال تک 64 لاکھ مربع میل یعنی آدھی دنیا پر حکومت کی، تاریخِ اسلام کے روشن اوراق آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے کردار و کارناموں اور فضائل ومناقب سے بھرے پڑے ہیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے مل جاتا ہے۔
حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے فرمایا کہ اللہ تعالی قیامت کے دن معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس طرح اٹھائیں گے کہ ان پر نور ایمان کی چادر ہو گی''کنزالاعمال'' ایک موقعہ پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں حضورأكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے فرمایا کہ اے اللہ ! معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ہدایت دینے والا، ہدایت پر قائم رہنے والا اور لوگوں کیلئے ذریعہ ہدایت بنا۔
( جا مع ترمذی)
حضورأكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا کہ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ میری امت میں سب سے زیادہ بردبار اور سخی ہیں۔(تطہیرالجنان)۔ حضرت امیر معاویہ رضی تعالی عنہ سروقد ، لحیم وشحیم، رنگ گورا، چہرہ کتابی ،آنکھیں موٹی گھنی داڑھی، وضع قطع، چال ڈھال میں بظاہر شا ن وشوکت اورتمکنت مگر مزاج اور طبیعت میں زہد و تواضع، فرونتی، حلم برد باری اور چہرہ سے ذہانت اور فطانت مترشح تھی۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تو حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے انہیں مبارکبا د دی اور ''مرحبا۔۔۔۔۔۔'' فرمایا (البدایہ والنہایہ  ) حضورأكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  چونکہ حضرت آمير معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سابقہ حالاتِ زندگی اور ان کی صلاحیت و قابلیت سے آگاہ تھے اس لئے انہیں خاص قرب سے نوازا ۔ فتح مکہ کے بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے ساتھ ہی رہے اور تمام غزوات میں حضورأكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت و معیت میں بھرپور حصہ لیا۔
قرآن مجید کی حفاظت میں ایک اہم سبب ''کتابت وحی'' ہے۔ حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین پر مشتمل ایک جماعت مقرر کر رکھی تھی جو کہ '' کاتب وحی '' تھے ان میں حضرت آمير معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا چھٹا نمبر تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو کاتب وحی بنایا تھا۔۔۔ اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  اسی کو کاتب وحی بناتے تھے جو ذی عدالت اور امانت دار ہوتا تھا  (''ازالتہ الخفا ازشاہ ولی اللہ'')
حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ خوش قسمت انسان ہیں جن کو کتابت ِوحی کے ساتھ ساتھ حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    کے خطوط تحریر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی خدمت میں حاضر رہتے یہاں تک کہ سفرو خضر میں بھی خدمت کا موقع تلاش کرتے۔۔۔۔
چنانچہ ایک بار حضورأكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    کہیں تشریف لے گئے تو سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پیچھے پیچھے گئے۔ راستہ میں حضورأكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو  وضو کی حاجت ہوئی پیچھے مڑے تو دیکھا، معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پانی لئے کھڑے ہیں ، آپ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  بڑے متاثر ہوئے چنانچہ وضو کے لئے بیٹھے تو فرمانے لگے '' معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ تم حکمران بنو تو نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور برے لوگوں کے ساتھ درگزر کرنا ''۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اسی وقت مجھے امید ہو گئی تھی کہ حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی پیشن گوئی صادق آئے گی۔
حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت اور بے لوث محبت سے اتنا خوش تھے کہ بعض اہم خدمات آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد فرمادی تھیں ۔ علامہ اکبر نجیب آبادی'' تاریخ اسلام'' میں رقمطراز ہیں کہ حضور  أكرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے اپنے باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدرات اور ان کے قیام وطعام کا انتظام واہتمام بھی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کر دیا تھا۔ حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی وفات کے بعد خلیفہ اوّل سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مانعینِ زکوة، منکرینِ ختم ِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   ، جھوٹے مدعیانِ نبوت اور مرتدین کے فتنوں کے خلاف بھرپور حصہ لیا اور کئی کارنامے سر انجام دیئے ۔
عرب نقاد رضوی لکھتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کسی کا خون بہانا پسند نہیں کرتے تھے مگر آپ رضی اللہ تعالی عنہ اسلامی ہدایات کے مطابق مرتدین کے قتل و قتال میں کسی کے پیچھے نہ ہوتے ایک روایت کے مطابق مسلیمہ کذّاب حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وار سے جہنم رسید ہوا۔
خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جو فتوحات ہوئیں اس میں حضرت امیر معاویہ کا نمایاں حصہ اور کردار ہے جنگ یرموک میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ بڑی بہادری اور دلیری کے ساتھ لڑے اس جنگ میں غرضیکہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا خاندان جنگ میں حصہ لے رہا تھا۔
خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاد وفتوحات میں مصروف رہے اور آپ نے رومیوں کو شکست فاش دیتے ہوئے طرابلس ، شام، عموریہ، شمشاط، ملطیہ، انطاکیہ، طرطوس، ارواڑ ، روڑس اور صقلیہ کو حدود نصرانیت سے نکال کر اسلامی سلطنت میں داخل کردئیے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان علاقوں کی فتوحات کے بعد اب یہ چاہتے تھے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے اس کو اب سمندر پار یورپ میں داخل ہونا چاہئے ''فتح قبرص'' کی خواہش آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں مچل رہی تھی یورپ وافریقہ پر حملہ اور فتح کے لئے بحری بیڑے کی اشد ضرورت تھی۔
بحرِروم میں رومی حکومت کا ایک بہت بڑا بحری مرکز تھا جو کہ شام کے ساحل کے قریب ہونے کے باعث شام کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑا خطرہ تھا اسے فتح کیے بغیر شام ومصر کی حفاظت ممکن نہ تھی اس کے علاوہ سرحدی رومی اکثر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے بحری بیڑے کو تیار کرنے کی اجازت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہ نے بڑے جوش خروش کے ساتھ بحری بیڑے کی تیاری شروع کردی اور اپنی اس بحری مہم کا اعلان کردیا جس کے جواب میں جزبہ جہاد سے سرشار مجاہدین اسلام شام کا رخ کرنے لگے۔
  آٹهائيس هجری میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ پوری شان وشوکت تیاری وطاقت اور اسلامی تاریخ کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ بحر روم میں اترے لیکن وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کرلی لیکن بعد میں مسلمانوں کو تنگ کرنے اور بدعہدی کرنے پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوری بحری طاقت اور عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ جس میں تقریباً پانچ سو کے قریب بحری جہاز شامل تھے قبرص کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قبرص کو فتح کرلیا۔
اس لشکر کے امیر و قائد خود امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں اس پہلی بحری لڑائی اور فتح قبرص کے لئے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیم اجمعین جن میں حضرت ابو ایوب انصاری ، حضرت ابوذرغفاری، حضرت ابودردا، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت شداد بن اوس، سمیت دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین شریک ہوئے۔
اس لڑائی میں رومیوں نے بڑے جوش وخروش سے حصہ لیا، تجربہ کار رومی فوجوں اور بحری لڑائی کے ماہر ہونے کے باوجود اس لڑائی میں رومیوں کو بد ترین شکست ہوئی اور مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔
حضور  أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے حدیث میں دو اسلامی لشکروں کے بارے میں مغفرت اور جنت کی بشارت وخوشخبری فرمائی ان میں سے ایک وہ لشکر جو سب سے پہلے اسلامی بحری جنگ لڑے گا اور دوسرا وہ لشکر جو قیصر کے شہر میں جنگ کرے گا۔
پہلی بشارت سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں پوری ہوئی جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلی بحری لڑائی لڑتے ہوئے قبرص کو فتح کر کے رومیوں کو زبردست شکست دی تھی اور دوسری بشارت سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں اس وقت پوری ہوئی جب لشکر اسلام نے قیصر کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کرکے اس کو فتح کیا۔
اس جنگ میں حصہ لینے کے لئے شوقِ شہادت اور جذبہ جہاد سے سرشار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وتابعین دنیا کے گوشہ سے دمشق پہنچے، ان میں حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سیدنا حسین بن علی، اور میزبان رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   سیدنا حضرت ابو ایوب انصاری رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین، اور دیگر مدینہ منورہ سے تشریف لاکر اس لشکر میں شریک ہوئے جس کے بارے میں حضور آکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے جنت کی بشارت وخوشخبری فرمائی تھی۔
سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور حکومت فتوحات اور غلبۂ اسلام کے حوالہ سے شاندار دور حکومت ہے ایک طرف بحر اوقیانوس اور اور دوسری طرف سندھ اور افغانستان تک میں اسلام کی فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلفائے راشدین کے ترقیاتی کاموں کو جاری رکھتے ہوئے اس مندرجہ ذیل نئے اُمور کی داغ بیل ڈال کر اس کو فروغ دیا۔
 أ- حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلا آقامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا۔
 ب - سب سے پہلے اسلامی بحریہ قائم کیا، جہاز سازی کے کارخانے بنائے اور دنیا کی زبردست رومن بحریہ کو شکست دی۔

 ج - آبپاشی اور آبنوشی کیلئے دور اسلامی میں پہلی نہر کھدوائی۔
 د -  ڈاکخانہ کی تنظیم نو کی اور ڈاک کا جدید اور مضبوط نظام قائم کیا۔
ه - احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔
 و - آپ سے پہلے خانہ کعبہ پر غلافوں کے اوپر ہی غلاف چڑھائے جاتے تھے آپ نے پرانے غلافوں کو اتار کر نیا غلاف چڑھانے کا حکم دیا۔
 ز -  خط دیوانی ایجاد کیا اور قوم کو الفاظ کی صورت میں لکھنے کا طریقہ پیدا کیا۔
 ح -  انتظامیہ کو بلند تر بنایا اور انتظامیہ کو عدلیہ میں مداخلت سے روک دیا۔
ط -  آپ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔
 ي - آپ نے بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک نفع یا سود کے جاری کرکے تجارت وصنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کئے۔
 ك-  سرحدوں کی حفاظت کیلئے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں۔
 ل - حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق کا استعمال کیا گیا۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور أكرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی 163 آحادیث مروی ہیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آئینہ اخلاق میں اخلاص ، علم وفضل، فقہ واجتہاد، تقریر وخطابت، غریب پروری، خدمت خلق، مہمان نوازی، مخالفین کے ساتھ حسنِ سلوک، فیاضی وسخاوت، اور خوف الہٰی کا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔
 بائيس رجب المرجب 60ھ میں کاتبِ وحی، جلیل القدر صحابی رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   ، فاتح شام و قبرص اور 19سال تک 64 لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ 78 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور دمشق کے باب الصغیر میں دفن کئے گئے
------
Share:

عالمی تبلیغی جماعت کی جدوجہد کے 100سال"

 عالمی تبلیغی جماعت  کی مختصر تاریخ

عالمی تبلیغی جماعت  کا آغاز نومبر 1926 (جما دی الاول 1345) میں ہوا۔ نوممبر 2023 (جمادی الاول 1445) تک اسلامی کیلنڈر کے مطابق تبلیغی جماعت کے 100 سال مکمل ہوچکے ہیں لہذا اس حوالے سے تبلیغی جماعت کے قیام سے لیکر اب تک کی جدوجہد، حالات و واقعات  اور اس کے نظم کے حوالے سے چیدہ چیدہ معلومات ملاحظہ فرمائیں ۔ 


بانئ تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ

عالمی تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ 1886 میں کاندھلہ، یوپی، انڈیا میں پیدا ہوئے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا تعلق ایک نہایت متقی گھرانے سے تھا۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے والد مولانا محمد اسماعیل رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ پیاسے مزدوروں کو پانی پلانے کے لیے سڑکوں پر انتظار کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ پھر 2 رکعت نماز پڑھتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اس نے خدمت کا موقع دیا۔ ایک دن ان کی ملاقات میوات کے کچھ مزدوروں سے ہوئی جو کام کی تلاش میں تھے۔ انھوں نے ان سے پوچھا کہ وہ اس طرح کے کام سے کتنا کمائیں گے اور پھر انہیں اتنی ہی رقم کی پیشکش کی کہ اگر وہ اس کے بجائے ان سے کلمہ اور نماز سیکھیں گے۔ وہ راضی ہو گئے اور تب سے تقریباً 10 میواتی طلباء ہر وقت ان کے ساتھ رہنے لگے اس طرح بنگلہ والی مسجد میں مدرسہ کا آغاز ہوا۔

مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کاپورا گھرانہ انتہائی متقی اور پرہیزگار تھا ان کے بھائی مولانا محمد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے اپنی وفات سے پہلے 16 سال تک ایک بھی تہجد کی نماز نہیں چھوڑی۔ وتر کی نماز پڑھتے ہوئے سجدے میں وفات پائی۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی والدہ بی بی صفیہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِا کے بارے میں لکھا ھے کہ وہ روزانہ 5000 مرتبہ درود شریف، اسم ذات اللہ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتی تھیں ۔  1000 مرتبہ، حسبنا اللہ ونعم الوکیل ، منزل اور متعدد دیگر اذکار  روزانہ کثرت سے پڑھتی تھیں۔. رمضان المبارک کے دوران وہ ہر روز ایک مکمل قرآن اور دس  پاروں کی تلاوت کرتی تھیں۔ اس طرح وہ رمضان المبارک میں 40 مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت مکمل کرتی تھیں ۔ 

مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ خود بھی بڑے پرہیزگار عالم تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر اوقات ذکر الٰہی میں گھنٹوں تنہائی میں رہتے تھے۔ جب وہ نظام الدین میں تھے تو بعض اوقات وہ عرب سرہ کے دروازے پر دوپہر تک گھنٹوں قیام کرتے تھے، یہ وہ جگہ تھی جہاں اللہ کے عظیم ولی حضرت نظام الدین اولیاء  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ عبادت کیا کرتے تھے۔

8 فروری 1918 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ (32 سال) نے بنگلے والی مسجد میں رہائش اختیار کی۔ اس زمانے میں یہ صرف ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس کے اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ گھنے جنگل سے گھرا ہوا تھا۔ نلکے کے پانی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور پانی کہیں اور سے لانا پڑتا تھا۔ وہاں صرف 4 سے 5 لوگ نماز پڑھتے تھے جو سب ان کے شاگرد تھے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ مسجد میں ذکر و اذکار میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔

مدرسہ میں کھانے کا انتظام کچھ اچھا نہیں تھا کہ انہیں کئی بار کھانا ناکافی ھونے کی وجہ سے بھوکا رہنا پڑا، لیکن مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے خوش دلی سے یہ سب برداشت کیا۔ انتہائی غربت نے ان پر کوئی اثر نہیں ڈالا کیونکہ جس چیز نے انہیں  پریشان کیا وہ فراوانی اور خوشحالی کا امکان تھا۔

1920ء – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ مسلمانوں کی عمومی جہالت اور بے دینی کو دیکھ کر پریشان ہوئے، یہاں تک کہ دارالعلوم کے طلبہ میں بھی ایک دفعہ مولانا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے سامنے ایک نوجوان کو اس تعریف کے ساتھ پیش کیا گیا کہ اس نے میوات کے فلاں مکتب میں قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی ہے۔ مولانا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انہوں نے داڑھی منڈوائی ھوئی  ہے اور ان کی شکل وصورت اور لباس سے کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔

29 اپریل 1926 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ (40 سال کی عمر میں) کئی علماء کرام کے ساتھ حج پر گئے۔

20 جولائی 1926 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا حج گروپ اس دن ہندوستان واپس آنا تھا لیکن مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ اس قدر پریشان اور بے چین تھے کہ انہیں مدینہ منورہ میں مزید قیام کرنے کی شدید خواہش محسوس ہوئی۔ ایک رات مدینہ منورہ کے مقدس شہر میں، مولانا الیاس  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  مسجد نبوی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے اندر سو گئے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے حضور آکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو خواب میں دیکھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے فرما  رہے ہیں کہ ”ہندوستان لوٹ جاؤ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تم سے کام لے گا”۔

شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ان کے رفقاء ہندوستان واپس لوٹ گئے لیکن ان کا دل واپسی کو نہیں  کررہا تھا انھوں نے کسی اللہ والے سے اپنی بے چینی کاتذکرہ کیاتواس نے کہاکہ یہ تونہیں کہاگیا کہ تم کام کرو گے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ تم سے کام لیا جائے گااس اللہ والے کی بات سن کر ان کواطمینان ہوگیااور ہندوستان واپس آکر مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے دعوت والے کام اور اس کی محنت کے متعلق استفتاء کرکے باقاعدہ کام کا آغاز کیا۔1926 نومبر میں 40 سال کی عمر میں مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ حج سے ہندوستان واپس آئے اور تبلیغی کام کا باقاعدہ آغاز کیا۔

28 اپریل 1930 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے دارالعلوم سہارنپور میں (پہلی بار) مدرسہ کے سالانہ پروگرام میں دعوت کی کوشش پیش کی۔

1932 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے دعوت اور تبلیغ کا کام شروع کرنے کے 6 سال بعد پہلی جماعت قائم ہوئی۔ 2 جماعتیں یہ تھیں:

مولانا حافظ مقبول رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی جماعت – کاندھلہ بھیجی گئی۔

مولانا داؤد میواتی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی جماعت – سہارنپور بھیجی گئی


تبلیغی جماعت کے 6 نکات

2 اگست 1934 – ایک مشورہ کیا گیا کہ یہ کوشش کیسے کی جائے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ (48 سال) اور مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ (46 سال) نے مشورہ کروایا۔ یہ وہ مشورہ ہے جس میں تبلیغ کے 6 نکات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تبلیغ کے 6 نکات یہ ہیں:

کلمہ طیبہ ، نماز ، علم و ذکر ، اکرامِ مسلم ، تصحیح نیت ، دعوت و تبلیغ


8 نومبر 1939 – مولانا ہارون کاندھلوی بن مولانا یوسف بن مولانا الیاس (مولانا سعد کے والد) پیدا ہوئے۔

28 مئی 1941ء مولانا زکریا کے بیٹے مولانا طلحہ کی پیدائش ہوئی۔

1941 30 نومبر – میوات میں پہلا اجتماع منعقد ہوا جہاں 25,000 شرکاء آئے۔ مولانا احمد مدنی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ اور مفتی کفایت اللہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سمیت بہت سے علمائے کرام تشریف لائے


مستورات کی جماعت

1942 – پہلی مستورات (خواتین) جماعت قائم کی گئی جہاں مولانا داؤد میواتی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ امیر تھے۔ پہلے تو مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ اور مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سمیت کئی علمائے کرام ایسی جماعت سے متفق نہیں تھے۔ تاہم اس طرح کی جماعت کی وضاحت اور مکمل ترتیب (طریقہ) بتانے کے بعد انہوں نے اس کی مکمل تائید کی ہے۔


حاجی عبدالوہاب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی بستی نظام الدین اولیاء آمد:

جنوری 1944 میں حاجی عبدالوہاب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ (اس وقت 22 سال کی عمر کے تھے کہ) نظام الدین مرکز گئے اور دعوت کے کام میں شامل ہوئے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے انتقال سے پہلے وہ 6 ماہ تک مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی صحبت میں رہے۔


مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی بیماری اور ان کی نیابت کی فکر

1944 مئی تا جولائی – اس پورے مہینے میں مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی بیماری دن بدن بڑھتی گئی۔ اس وقت کے بزرگوں اور ممتاز علما کے درمیان ایک مشترکہ فکر تھی، یعنی؛ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا انتقال ہوگیا تو ان کی وفات کے بعد دعوت و تبلیغ جماعت کی قیادت کون سنبھالے گا؟

ان راتوں میں تقریباً تمام نامور علماء جیسے؛ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ ،شیخ ابوالحسن علی ندوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ، مولانا شاہ عبدالقادر رائیپوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ، مولانا ظفر احمد تھانوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ، حافظ فخرالدین رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ،صوفی مقبول احمد گنگوہی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ ، اور ان سے محبت کرنے والے دوسرے علماء، جو مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے تبلیغی یا ذاتی طور پر رابطے میں تھے مسجد نظام الدین مرکز میں جمع ہوئے اور رات بسر کی۔

ان علماء کرام کی نظر میں، دعوت و تبلیغ کی جماعت میں مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی امارت کی جگہ لینے کے لیے سب سے موزوں ترین شیخ الحدیث مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ ہیں۔مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ واحد شخص تھے جو علم، روحانیت، عمل، اعلیٰ درجے اور حکمت دونوں لحاظ سے مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی جگہ جماعت دعوت اور تبلیغ کا امیر بنانے کے اہل تھے۔

اس کے بعد معزز علماء کرام شیخ الحدیث مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ (46 سال) کے پاس آئے اور ان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے نرمی سے انکار کیا اور جواب دیا کہ آپ کو اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کا انتظام کر دے گا۔


مولانا یوسف کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی بطور جانشین نامزدگی:

11 جولائی 1944 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے انتقال سے دو دن پہلے مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ اور شیخ عبدالقادر رائے پوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو مشاورت کے لیے بلایا۔ جمع ہونے کے بعد مشورے میں انہوں نے علمائے کرام اور مذہبی شخصیات کے سامنے کہا کہ ”فوراً ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو میری موت کے بعد میری جگہ لیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے سامنے بیعت کریں۔ میری پسند کے چھ لوگ ہیں۔ مولانا حافظ مقبول، مولانا داؤد میواتی، مولانا احتشام الحسن، مولانا یوسف کاندھلوی، مولانا انعام الحسن، مولانا سید ردو حسن بھوپالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم۔ ذاتی طور پر میں مولانا حافظ مقبول رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو تجویز کرتا ہوں، کیونکہ وہ طویل عرصے سے ذکر اور اس کوشش دونوں میں شامل ہیں۔ دوسری طرف مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کا اگلا امیر بنانے کی تجویز دی۔ جب یہ دونوں آپشن سامنے آئے تو مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے کہا، ” میواتیوں کے ساتھ مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے بہتر کون سلوک کر سکتا ہے؟” ان خیالات کی بنیاد پر، مولانا عبدالقادر رائے پوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے بالآخر مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کا امیر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی عمر 27 سال تھی۔

مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے کہا کہ اگر یہ واقعی آپ کا انتخاب ہے تو اللہ تعالیٰ خیر و برکت عطا فرمائے۔ پہلے میرے دل کو سکون نہیں تھا لیکن اب میری روح بہت پرسکون محسوس کر رہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میرے جانے کے بعد یہ کام آگے بڑھتا رہے گا۔“ پھر مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ اور مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو دیئے گئے کاغذ پر لکھا۔ ”میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ لوگوں سے بیعت کرو۔”مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو تحریری طور پر بیعت کرنے کی اجازت دی۔

13 جولائی 1944 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ بنگلہ والی مسجد میں انتقال کر گئے اور انہیں بنگلہ والی مسجد، نظام الدین کے باہر دفن کیا گیا۔ مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کے تمام اراکین کی مشاورت سے دعوت و تبلیغ کا دوسرا امیر مقرر کیا گیا اور حلف لیا۔ مولانا محمدزکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے رسمی طور پر مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی پگڑی مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے سر پر رکھی۔ مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا پہلا بیان ایک درخت کے نیچے، بنگلہ والی مسجد، نظام الدین کے صحن میں تھا۔


تبلیغ میں مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا دور:

1946 – مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے پہلی جماعت کو سعودی عرب میں حج کے موسم میں خصوصی طور پر کام کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

1946 – مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مولانا عبید اللہ بلیاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو مدینہ منورہ میں مقامی طور پر رہنے اور وہاں عربوں کے درمیان دعوت کا کام شروع کرنے کے لیے بھیجا۔ بعد میں مولانا سعید احمد خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ ان کے جانشین ہوئے۔ مولانا سعید احمد خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  انتہائی درویش صفت اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ھوا اور جنت البقیع میں تدفین ھوئی 

1947 – حاجی عبدالوہاب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ (اس وقت 25 سال) نے لاہور، پاکستان میں رائیونڈ مرکز میں رہائش اختیار کی۔


رائے ونڈ مرکز:

15 اگست 1947 ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ شروع ہوا۔ ہزاروں مسلمانوں نے خوف کے مارے اسلام چھوڑ دیا۔ کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ تمام مشائخ  کرام نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ میوات کی ایک بڑی جماعت نے نظام الدین مرکز میں پناہ لی۔ حضرت جی مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ، مولانا منظور نعمانی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، اور مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو ہندوستان نہیں چھوڑنا چاہئے۔ یا تو وہ رہیں یا مر جائیں۔ مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے فتویٰ کونسل پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے لیے ہندوستان نہ چھوڑنے کا فتویٰ جاری کرے۔ اگر یہ فتویٰ جاری نہ ہوتا تو شاید آج ہندوستان میں مسلمان نہ ہوتے۔

1947 اگست مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مرتد بن جانے والے مسلمانوں کو واپس اسلام کی دعوت دینے کے لیے بہت سی سخت گیر جماعتیں بھیجیں۔ یہ جماعتیں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے لیے تیار ہو گئیں۔

1947 15 ستمبر – مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی اہلیہ کا نماز مغرب کی ادائیگی کے دوران سجدہ کے دوران انتقال ہوگیا۔ ان کے بیٹے مولانا ہارون کی عمر اس وقت صرف 8 سال تھی۔

26 دسمبر 1947 – پاکستان کی ہندوستان سے علیحدگی کے بعد کراچی میں پہلا اجتماع ہوا۔

13 مارچ 1948 – پاکستان میں ایک اجتماع ہوا جس میں مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے پاکستان کی ہندوستان سے علیحدگی کے بعد پہلی بار شرکت کی۔ اس اجتماع کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کا مرکز رائے ونڈ لاہور ہوگا۔

1949 – مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے کتاب فضائل صدقات مکمل کی۔

30 مارچ 1950 مولانا زبیر الحسن کاندھلوی بن مولانا انعام الحسن پیدا ہوئے۔

1954 11 جنوری – پہلا اجتماع ڈھاکہ، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش کے قیام سے پہلے) میں منعقد ہوا۔ مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ اور مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے اجتماع میں شرکت کی۔

10 اپریل 1954 – رائیونڈ میں پہلا اجتماع ہوا۔

1960 – مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے حیات صحابہ کی پہلی کاپی شائع کی۔

16 اگست 1962ء مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا انتقال ہوا۔ وہ نہ صرف ایک مشہور صوفی شیخ تھے بلکہ دہلی سے سعودی عرب جانے والی تیسری پیدل جماعت قافلہ کے امیر بھی تھے جہاں اس جماعت میں ایک نوجوان مولانا سعید احمد خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ بھی تھے۔

 مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  1965 میں جمعہ کو 14.50 پر لاہور میں انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر 48 سال تھی۔ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے سورة یاسین کی تلاوت کی۔ مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ آخری سانس تک كلمۂ شہادت کا ورد کرتے رہے۔ انہیں اپنے والد مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے مقام کے پاس دفن کیا گیا۔


مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا دور:

12 اپریل 1965 – ایک مشورہ مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے کروایا۔ اس مشورہ میں یہ طے پایا کہ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کا تیسرا امیر مقرر کیا جانا ہے۔ مشورے کے نتائج کا اعلان مولانا فخرالدین دیوبندی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مولانا عمر پالنپوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے بیان (گفتگو) کے بعد کیا۔

مولانا ہارون رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے بھی اس فیصلے کو خوشی سے قبول کیا – مولانا محمد یوسف ؒرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے فرزند مولانا ہارون رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ خود خوش تھے اور ان لوگوں کے اصرار سے متاثر نہیں ہوئے جو انہیں امیر بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے مشورے کے فیصلے کو کھلے دل سے قبول کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے مشورے کے فیصلے کو ماننے کی اہمیت پر بیانات بھی دیے اور جو بھی فیصلہ ہوا وہی صحیح ہے۔

3 اپریل 1965 – مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی بیعت شروع ہوئی۔ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کا امیر منتخب کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ بچپن سے لے کر وفات تک مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے سب سے قریبی دوست تھے۔ اس کے علاوہ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ بھی مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے دست راست تھے۔ اور مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے تفصیلی سلوک طے کرکے خلافت بھی پائی تھی۔ اور وہ مولانا الیاس  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کے نام سے ہی بیعت بھی لیا کرتے تھے۔ وہ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے ساتھ اپنے زیادہ تر دعوتی سفروں میں ساتھ رہے، اس طرح دعوت کے کاموں کو سمجھتے رہے۔

10 مئی 1965 – مولانا سعد کاندھلوی بن مولانا ہارون پیدا ہوئے۔

21 اگست 1967 – مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے دعوت و تبلیغ کے امیر مقرر ہونے کے بعد بیرون ملک اپنا پہلا دعوتی سفر کیا۔ یہ سری لنکا کا اجتماع تھا جو 26 سے 30 اگست کے درمیان کولمبو میں منعقد ہوا۔

1967 نومبر – پہلا ٹونگی اجتماع مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش کی تشکیل سے پہلے) میں منعقد ہوا۔

1969 – مولانا ابراہیم دیولہ 36 سال کی عمر میں اپنے 1 سالہ خروج کے لیے ترکی، اردن اور عراق گئے۔ خروج کی مدت 19 ماہ تک بڑھا دی گئی۔23 اپریل 1973 – مولانا محمدزکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے 75 سال کی عمر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔

28 ستمبر 1973 – مولانا ہارون کاندھلوی بن مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم (مولانا محمد سعد کے والد) 35 سال کی عمر میں انتقال کر گئے جب انہیں ایک بیماری نے لپیٹ میں لیا اور 13 دن تک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ ان کی نماز جنازہ  مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے پڑھائی۔ اس وقت ان کے بیٹے مولانا محمد سعد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی عمر 8 سال تھی۔ تا حیات مولانا عبید اللہ بلیاوی ، مولانا اظہار الحسن نانا جان اور مولانا انعام الحسن صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم نے مولانا محمد سعد کاندھلوی کی احسن انداز میں تربیت فرمائی۔۔


9 اگست 1974 – مولانا زبیر (عمر 25) نے اللہ کی راہ میں ایک سال کا آغاز کیا۔

10 فروری 1978 – مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ (جو مدینہ میں مقیم ھو چکے تھے) نے باضابطہ طور پر مولانا زبیر کو اپنے طریقہ (چشتیہ ) میں بیعت کی اجازت دی۔ یہ تقریب مسجد نبوی کے سامنے منعقد ہوئی۔

مولانا زبیر نے 4 مشائخ سے طریقت کی اجازت حاصل کی ہے: (1) مولانا انعام الحسن، (2) مولانا زکریا، (3) مولانا سعید ابوالحسن علی ندوی، اور (4) مولانا افتخار۔ الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم سے، آپ کی انتہائی پرہیزگاری کی وجہ سے اللہ نے عام مقبولیت نصیب فرما رکھی تھی،

27 جولائی 1980ء مولانا حافظ مقبول رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا انتقال ہوا۔ وہ 1932 میں مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی تشکیل کردہ پہلی جماعت کے امیر تھے اور ان کے جانشین (اگلے امیر) کے طور پر مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا پسندیدہ انتخاب تھا۔ تاہم مولانا شاہ عبدالقادر رائیپوری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی امارت کا بجا فیصلہ کیا۔

24 مئی 1982 – مولانا زکریا کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوا (84 سال کی عمر میں) انہیں قبر صحابہ میں ‘ جنت البقیع ‘ میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کے منہ سے آخری الفاظ تھے؛ ”اللہ… اللہ“۔ آپ کا انتقال مغرب سے پہلے 17:40 پر ہوا اور اسی دن عشاء کے بعد تدفین ہوئی۔


شورائی نظام کا تصور

4 نومبر 1983ء پاکستان میں رائے ونڈ اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام بزرگوں نے شرکت کی۔ اس اجتماع کے دوران تبلیغ کے لیے شوریٰ نظام رکھنے کا تصور سب سے پہلے مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے عالمی مشورے کے دوران پیش کیا تھا جو 12 نومبر کو ہونے والے اجتماع کے ایک ہفتہ بعد منعقد ہوا تھا۔اس کے بعد سے مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے ہندوستان اور دنیا کے کئی حصوں میں تمام جگہوں پر شورٰی قائم کیں۔

20 مئی 1993 – مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی حالت بگڑ گئی۔ وہ مکہ میں گر گئے۔ 1990 کے بعد سے یہ ساتویں مرتبہ تھی کہ وہ گرے تھے۔

مئی 1993 – حج کے موسم میں مکہ میں مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے مفتی زین العابدین، مولانا سعید احمد خان، حاجی افضل، حاجی عبدالمقیت، حاجی عبدالوہاب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم  اور کئی دوسرے بزرگوں سے گفتگو کی: ” آپ کو معلوم ہے کہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ میری بیماری کی وجہ سے بہتر یہ  ہے کہ یہ کام ایک شوری کرے ۔ یہ کام پہلے ہی پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور اب میرے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے لیے میں ایک شورٰی بنانا چاہتا ہوں جو دعوت کے کام میں مدد کرے۔ ”

14 جون 1993 – نظام الدین مرکز میں، تمام بزرگ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے کمرے میں جمع ہوئے وہ تھے: مولانا سعید احمد خان، مفتی زین العابدین، حاجی افضل، حاجی عبدالمقیت، حاجی عبدالوہاب، مولانا اظہار الحسن، مولانا عمر پالنپوری، اور مولانا زبیر۔اور مولانا محمد سعد کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم

۔حضرت مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے حاضرین سے فرمایا کہ اب میری صحت کا حال آپ کو معلوم ہے۔ میری صحت مسلسل گرتی چلی جا رہی ہے جبکہ یہ کام بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ میں اب یہ کام خود سے نہیں سنبھال سکتا۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ پھر فرمایا: اب سے تم میری شوریٰ ہو۔ اور دو مزید شامل کرلیں۔ میانجی محراب اور مولانا محمد سعد کاندھلوی ۔ انشاء اللہ ان دس شورٰی ارکان سے یہ کام چلتا رہے گا۔


شوریٰ اس طرح قائم ہوئی: (1) مولانا سعید احمد خان، (2) مفتی زین العابدین، (3) حاجی افضل صاحب ، (4) حاجی عبدالمقیت، (5) حاجی عبدالوہاب، (6) مولانا اظہار الحسن، (7)۔) مولانامحمد عمر پالنپوری، (8) مولانا زبیر، (9) میاجی محراب میواتی، اور (10) مولانا محمد سعد۔


1993 مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے شورائی نظام اور فیصل کے تقرر کا آغاز

شوریٰ بننے کے بعد مولانا سعید احمد خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے تمام مقررہ شوریٰ کے سامنے مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے پوچھا کہ جب آپ یہاں ہیں تو آپ ہمارے امیر اور فیصل ہیں۔ لیکن اگر آپ نہیں ہیں تو ہم فیصلہ کیسے بنائیں گے؟” مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے جواب دیا کہ آپ میں سے باری باری فیصل کا انتخاب کریں۔

ساری زندگی مولانا زبیر الحسن  اور مولانا محمد سعد کاندھلوی حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے ساتھ تمام سفروں میں شریک رھا کرتے تھے۔


پاکستان میں تبلیغی جماعت کے ذمہ داران کی تقرری


تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرِ اول الحاج شفیع محمد قریشی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ

قیام پاکستان کے بعد حضرت جی مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی طرف سے حاجی عبد الوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی تشکیل پاکستان کے لیے کی گئی تھی دوتین سال بعد جب پاکستان میں دعوت کے کا کام کو استحکام مل گیا تو پرانے ساتھیوں کی مشاورت سے الحاج محمد شفیع قریشی صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو چار دسمبر 1950 کو پاکستان میں تبلیغی جماعت کا امیر بنایا گیا اور رائے ونڈ لاہور کو تبلیغی جماعت کا مرکز بنایا گیا۔ محمد شفیع قریشی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ متحدہ  ہندوستان میں 1904میں پیدا ہوئے قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز زکریا مسجد راولپنڈی سے متصل رہائش اختیار کرلی۔ آپ اکیس سال تک امیر رھنے  کے بعد 19 دسمبر 1971 کو پشاور میں ایک سہ روزہ تبلیغی اجتماع کے دوران انتقال فرماگئے اس وقت ان کی عمر67 برس  تھی۔


تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرِ دوم الحاج محمد بشیر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ 

مولانا محمداحسان الحق ر رائے ونڈ کے والد اور حضرت جی مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے قریبی ساتھی الحاج محمد بشیر رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو محمد شفیع قریشی صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے بعد تبلیغی جماعت پاکستان کا امیر نامزد کیا گیا آپ اپنی وفات 9 جون 1992 تک تبلیغی جماعت پاکستان کے امیر رہے۔


تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرِ سوم حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ

الحاج محمد بشیر صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی وفات کے بعد حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو تبلیغی جماعت پاکستان کا تیسرا امیر مقرر کیا گیا۔ حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا تعلق پنجاب کے ضلع کرنال کے گاؤں راؤ گمتھلہ سے تھا آپ نے انبالہ سے میٹرک کرنے کے بعد اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا جہاں سے پہلے ایف ایس سی پری میڈیکل اور اس کے بعد بی اے کیا ۔ آپ یکم جنوری 1944 کو تبلیغی مرکز نظام الدین تشریف لے گئے اور پورے چھ ماہ مولانا محمد الیاس ؒرَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کی صحبت میں گزارے اور اس چھ ماہ کی صحبت نے آپ کی زندگی پر وہ نقوش ثبت کیے کہ آپ نے اپنی پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کردی۔1954میں سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ میں شرکت کے لیے آمد کے موقع پر جب حضرت جی مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے پاکستان میں دعوت تبلیغ کی محنت کے لیے موت پر بیعت لی تو سب  سے پہلے حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کھڑے ہوئے اور عہد کیا کہ اس کے بعد وہ دعوت والی محنت کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کریں گے۔ 18 نومبر 2018 میں حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ رحلت فرماگئے حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کاجنازہ پاکستانی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا رائے ونڈ کے چاروں اطراف تیس چالیس کلومیٹر تک گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں اور ہر شخص کی خواہش تھی کہ کسی طرح حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے جنازے میں شرکت کی سعادت نصیب ہوجائے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کے جنازے میں پندرہ بیس لاکھ لوگوں نے شرکت کی جبکہ پانچ چھ لاکھ افراد ٹریفک میں پھنسے ہونے کی وجہ سے جنازے میں شرکت سے محرو م رہ گئے۔

مولانا ضیاء الحق صاحب نے ایک مرتبہ حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے عرض کی کہ ہندوستان والے ہم سے پوچھتے ہیں کہ اگر حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کو کچھ ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟ ہم نے عرض کی کہ ہماری ترتیب یہ ہے کہ حاجی صاحب نہ ہوں تو مولانا نذرالرحمان صاحب فیصلے فرماتے ہیں اور اگر وہ بھی موجود نہ ہوں تو مولانا احمد بٹلہ صاحب مشورے کو لیکر چلتے ہیں اور اگر وہ بھی موجود نہ ہوں تو مولانا خورشید صاحب امور مشورہ کو لیکر چلتے ہیں۔ اس پر حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے فرمایا کہ یوں ہی چلتے رہو۔ حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا یہ فیصلہ شورٰی کے ارکان کو سنایا گیا تو سب اس پر متفق ہوگئے۔


تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرِ چہارم مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ 

حاجی عبدالوھاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کے انتقال کے بعد اُن کی وصیت کے مطابق جماعت کی باگ ڈور استاذِ محترم مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کو سونپ دی گئی  اس طرح مولانا نذرالرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کو چوتھا آمیر منتخب کر لیا گیا جو عصر حاضر میں داخلی و خارجی فتنوں کے سد باب اور جماعت کے کام کو انتہائی حکمت اور بصیرت کے ساتھ چلانے کے پیش نظر بجا طور پر اس عظیم مگر نازک ترین منصب کے اہل ہیں۔ 1971ء میں تبلیغ میں ایک سال لگانے کے بعد مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کا بطورِ مقیم و مدرس مدرسہ عربیہ رائے ونڈ مرکز میں تقرر ہوگیا تھا مولانانذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے شروع شروع میں کچھ عرصہ شعبہٴ حفظ میں اپنی خدمات انجام دیں اور پھر اس کے بعد دیگر علوم و فنون کی مختلف کتابیں پڑھانی شروع کردیں۔ مدرسہ عربیہ رائے ونڈ مرکز میں دورہٴ حدیث شروع ہونے سے پہلے ”تفسیر جلالین“ اور مشکوٰة المصابیح“ آپ کے زیر تدریس تھیں۔ 1999ء میں رائے ونڈ میں باقاعدہ دورہٴ حدیث شروع ہوا تو آپ کے حصہ میں ”صحیح مسلم“ ” جامع ترمذی“ اور ”شمائل ترمذی“ آئیں۔ آپ ایک قابل استاذ، کہنہ مشق مدرس اور علم میں بلند مقام کی حامل شخصیت ہے۔2014ء میں استاذِ محترم مولانا جمشید علی صاحب  رحمة اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کی وفات کے بعد آپ کے حصے میں ”صحیح بخاری جلد اول آئی، جو آپ تاہنوز پڑھارہے ہیں اور اس طرح آپ شیخ الحدیث جیسے عظیم الشان بلند مقام پر بھی فائز ہیں۔ مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  رائے ونڈ مرکز کی گوناگوں مصروفیات، ذاتی اعذار اور پیرانہ سالی کے باوجود انتہائی اہتمام، جاں فشانی اور لگن سے درس دیتے ہیں اور اس دوران بیماری، مشقت اور تکلیف نام کی کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے۔ 

مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کو اللہ تعالیٰ نے علم و فضل ، تقویٰ و طہارت اور خشیت و للہیت میں سے وافر حصہ عطا فرما رکھا ہے۔ استاذِ محترم مولانا عبد الرحمن خان صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی علمی بات سمجھ میں نہیں آتی تو مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہی سمجھ میں آجاتی ہے۔  آپ” ترکِ مالا یعنی“( لایعنی باتوں ) سے بچنے کی خوب ترغیب دیتے ہیں۔ آپ کی طبیعت اسراف اور فضول خرچی سے اس قدر مکدر ہوتی ہے کہ اسراف فی المال تو درکنار اسراف فی الکلام بھی آپ کے لئے سخت ناگوار بلکہ اذیت ناک ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دُعا  ہے کہ وہ مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کو صحت و تندرستی عطاء فرمائے، ان کی زندگی میں برکت عطاء فرمائے، ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے اور ان سے پوری دُنیا میں دین کی محنت کا خوب کام لے۔ اللہ پاک ان کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے

آمین یا رب العالمین


Share: