عالمی تبلیغی جماعت کی مختصر تاریخ
عالمی تبلیغی جماعت کا آغاز نومبر 1926 (جما دی الاول 1345) میں ہوا۔ نوممبر 2023 (جمادی الاول 1445) تک اسلامی کیلنڈر کے مطابق تبلیغی جماعت کے 100 سال مکمل ہوچکے ہیں لہذا اس حوالے سے تبلیغی جماعت کے قیام سے لیکر اب تک کی جدوجہد، حالات و واقعات اور اس کے نظم کے حوالے سے چیدہ چیدہ معلومات ملاحظہ فرمائیں ۔
بانئ تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
عالمی تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ 1886 میں کاندھلہ، یوپی، انڈیا میں پیدا ہوئے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا تعلق ایک نہایت متقی گھرانے سے تھا۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے والد مولانا محمد اسماعیل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ پیاسے مزدوروں کو پانی پلانے کے لیے سڑکوں پر انتظار کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ پھر 2 رکعت نماز پڑھتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اس نے خدمت کا موقع دیا۔ ایک دن ان کی ملاقات میوات کے کچھ مزدوروں سے ہوئی جو کام کی تلاش میں تھے۔ انھوں نے ان سے پوچھا کہ وہ اس طرح کے کام سے کتنا کمائیں گے اور پھر انہیں اتنی ہی رقم کی پیشکش کی کہ اگر وہ اس کے بجائے ان سے کلمہ اور نماز سیکھیں گے۔ وہ راضی ہو گئے اور تب سے تقریباً 10 میواتی طلباء ہر وقت ان کے ساتھ رہنے لگے اس طرح بنگلہ والی مسجد میں مدرسہ کا آغاز ہوا۔
مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کاپورا گھرانہ انتہائی متقی اور پرہیزگار تھا ان کے بھائی مولانا محمد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی وفات سے پہلے 16 سال تک ایک بھی تہجد کی نماز نہیں چھوڑی۔ وتر کی نماز پڑھتے ہوئے سجدے میں وفات پائی۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی والدہ بی بی صفیہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِا کے بارے میں لکھا ھے کہ وہ روزانہ 5000 مرتبہ درود شریف، اسم ذات اللہ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا کرتی تھیں ۔ 1000 مرتبہ، حسبنا اللہ ونعم الوکیل ، منزل اور متعدد دیگر اذکار روزانہ کثرت سے پڑھتی تھیں۔. رمضان المبارک کے دوران وہ ہر روز ایک مکمل قرآن اور دس پاروں کی تلاوت کرتی تھیں۔ اس طرح وہ رمضان المبارک میں 40 مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت مکمل کرتی تھیں ۔
مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ خود بھی بڑے پرہیزگار عالم تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر اوقات ذکر الٰہی میں گھنٹوں تنہائی میں رہتے تھے۔ جب وہ نظام الدین میں تھے تو بعض اوقات وہ عرب سرہ کے دروازے پر دوپہر تک گھنٹوں قیام کرتے تھے، یہ وہ جگہ تھی جہاں اللہ کے عظیم ولی حضرت نظام الدین اولیاء رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ عبادت کیا کرتے تھے۔
8 فروری 1918 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (32 سال) نے بنگلے والی مسجد میں رہائش اختیار کی۔ اس زمانے میں یہ صرف ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس کے اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ گھنے جنگل سے گھرا ہوا تھا۔ نلکے کے پانی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اور پانی کہیں اور سے لانا پڑتا تھا۔ وہاں صرف 4 سے 5 لوگ نماز پڑھتے تھے جو سب ان کے شاگرد تھے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مسجد میں ذکر و اذکار میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔
مدرسہ میں کھانے کا انتظام کچھ اچھا نہیں تھا کہ انہیں کئی بار کھانا ناکافی ھونے کی وجہ سے بھوکا رہنا پڑا، لیکن مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے خوش دلی سے یہ سب برداشت کیا۔ انتہائی غربت نے ان پر کوئی اثر نہیں ڈالا کیونکہ جس چیز نے انہیں پریشان کیا وہ فراوانی اور خوشحالی کا امکان تھا۔
1920ء – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مسلمانوں کی عمومی جہالت اور بے دینی کو دیکھ کر پریشان ہوئے، یہاں تک کہ دارالعلوم کے طلبہ میں بھی ایک دفعہ مولانا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سامنے ایک نوجوان کو اس تعریف کے ساتھ پیش کیا گیا کہ اس نے میوات کے فلاں مکتب میں قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی ہے۔ مولانا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انہوں نے داڑھی منڈوائی ھوئی ہے اور ان کی شکل وصورت اور لباس سے کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔
29 اپریل 1926 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (40 سال کی عمر میں) کئی علماء کرام کے ساتھ حج پر گئے۔
20 جولائی 1926 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا حج گروپ اس دن ہندوستان واپس آنا تھا لیکن مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس قدر پریشان اور بے چین تھے کہ انہیں مدینہ منورہ میں مزید قیام کرنے کی شدید خواہش محسوس ہوئی۔ ایک رات مدینہ منورہ کے مقدس شہر میں، مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مسجد نبوی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے اندر سو گئے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضور آکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو خواب میں دیکھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے فرما رہے ہیں کہ ”ہندوستان لوٹ جاؤ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تم سے کام لے گا”۔
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ان کے رفقاء ہندوستان واپس لوٹ گئے لیکن ان کا دل واپسی کو نہیں کررہا تھا انھوں نے کسی اللہ والے سے اپنی بے چینی کاتذکرہ کیاتواس نے کہاکہ یہ تونہیں کہاگیا کہ تم کام کرو گے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ تم سے کام لیا جائے گااس اللہ والے کی بات سن کر ان کواطمینان ہوگیااور ہندوستان واپس آکر مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے دعوت والے کام اور اس کی محنت کے متعلق استفتاء کرکے باقاعدہ کام کا آغاز کیا۔1926 نومبر میں 40 سال کی عمر میں مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ حج سے ہندوستان واپس آئے اور تبلیغی کام کا باقاعدہ آغاز کیا۔
28 اپریل 1930 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دارالعلوم سہارنپور میں (پہلی بار) مدرسہ کے سالانہ پروگرام میں دعوت کی کوشش پیش کی۔
1932 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے دعوت اور تبلیغ کا کام شروع کرنے کے 6 سال بعد پہلی جماعت قائم ہوئی۔ 2 جماعتیں یہ تھیں:
مولانا حافظ مقبول رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی جماعت – کاندھلہ بھیجی گئی۔
مولانا داؤد میواتی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی جماعت – سہارنپور بھیجی گئی
تبلیغی جماعت کے 6 نکات
2 اگست 1934 – ایک مشورہ کیا گیا کہ یہ کوشش کیسے کی جائے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (48 سال) اور مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (46 سال) نے مشورہ کروایا۔ یہ وہ مشورہ ہے جس میں تبلیغ کے 6 نکات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تبلیغ کے 6 نکات یہ ہیں:
کلمہ طیبہ ، نماز ، علم و ذکر ، اکرامِ مسلم ، تصحیح نیت ، دعوت و تبلیغ
8 نومبر 1939 – مولانا ہارون کاندھلوی بن مولانا یوسف بن مولانا الیاس (مولانا سعد کے والد) پیدا ہوئے۔
28 مئی 1941ء مولانا زکریا کے بیٹے مولانا طلحہ کی پیدائش ہوئی۔
1941 30 نومبر – میوات میں پہلا اجتماع منعقد ہوا جہاں 25,000 شرکاء آئے۔ مولانا احمد مدنی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور مفتی کفایت اللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سمیت بہت سے علمائے کرام تشریف لائے
مستورات کی جماعت
1942 – پہلی مستورات (خواتین) جماعت قائم کی گئی جہاں مولانا داؤد میواتی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ امیر تھے۔ پہلے تو مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سمیت کئی علمائے کرام ایسی جماعت سے متفق نہیں تھے۔ تاہم اس طرح کی جماعت کی وضاحت اور مکمل ترتیب (طریقہ) بتانے کے بعد انہوں نے اس کی مکمل تائید کی ہے۔
حاجی عبدالوہاب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بستی نظام الدین اولیاء آمد:
جنوری 1944 میں حاجی عبدالوہاب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (اس وقت 22 سال کی عمر کے تھے کہ) نظام الدین مرکز گئے اور دعوت کے کام میں شامل ہوئے۔ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے انتقال سے پہلے وہ 6 ماہ تک مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی صحبت میں رہے۔
مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بیماری اور ان کی نیابت کی فکر
1944 مئی تا جولائی – اس پورے مہینے میں مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بیماری دن بدن بڑھتی گئی۔ اس وقت کے بزرگوں اور ممتاز علما کے درمیان ایک مشترکہ فکر تھی، یعنی؛ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا انتقال ہوگیا تو ان کی وفات کے بعد دعوت و تبلیغ جماعت کی قیادت کون سنبھالے گا؟
ان راتوں میں تقریباً تمام نامور علماء جیسے؛ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ،شیخ ابوالحسن علی ندوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ، مولانا شاہ عبدالقادر رائیپوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ، مولانا ظفر احمد تھانوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ، حافظ فخرالدین رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ،صوفی مقبول احمد گنگوہی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ، اور ان سے محبت کرنے والے دوسرے علماء، جو مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے تبلیغی یا ذاتی طور پر رابطے میں تھے مسجد نظام الدین مرکز میں جمع ہوئے اور رات بسر کی۔
ان علماء کرام کی نظر میں، دعوت و تبلیغ کی جماعت میں مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی امارت کی جگہ لینے کے لیے سب سے موزوں ترین شیخ الحدیث مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہیں۔مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واحد شخص تھے جو علم، روحانیت، عمل، اعلیٰ درجے اور حکمت دونوں لحاظ سے مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی جگہ جماعت دعوت اور تبلیغ کا امیر بنانے کے اہل تھے۔
اس کے بعد معزز علماء کرام شیخ الحدیث مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (46 سال) کے پاس آئے اور ان سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے نرمی سے انکار کیا اور جواب دیا کہ آپ کو اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کا انتظام کر دے گا۔
مولانا یوسف کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بطور جانشین نامزدگی:
11 جولائی 1944 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے انتقال سے دو دن پہلے مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور شیخ عبدالقادر رائے پوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو مشاورت کے لیے بلایا۔ جمع ہونے کے بعد مشورے میں انہوں نے علمائے کرام اور مذہبی شخصیات کے سامنے کہا کہ ”فوراً ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو میری موت کے بعد میری جگہ لیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے سامنے بیعت کریں۔ میری پسند کے چھ لوگ ہیں۔ مولانا حافظ مقبول، مولانا داؤد میواتی، مولانا احتشام الحسن، مولانا یوسف کاندھلوی، مولانا انعام الحسن، مولانا سید ردو حسن بھوپالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم۔ ذاتی طور پر میں مولانا حافظ مقبول رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو تجویز کرتا ہوں، کیونکہ وہ طویل عرصے سے ذکر اور اس کوشش دونوں میں شامل ہیں۔ دوسری طرف مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کا اگلا امیر بنانے کی تجویز دی۔ جب یہ دونوں آپشن سامنے آئے تو مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا، ” میواتیوں کے ساتھ مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے بہتر کون سلوک کر سکتا ہے؟” ان خیالات کی بنیاد پر، مولانا عبدالقادر رائے پوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بالآخر مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کا امیر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عمر 27 سال تھی۔
مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا کہ اگر یہ واقعی آپ کا انتخاب ہے تو اللہ تعالیٰ خیر و برکت عطا فرمائے۔ پہلے میرے دل کو سکون نہیں تھا لیکن اب میری روح بہت پرسکون محسوس کر رہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میرے جانے کے بعد یہ کام آگے بڑھتا رہے گا۔“ پھر مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دیئے گئے کاغذ پر لکھا۔ ”میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ لوگوں سے بیعت کرو۔”مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو تحریری طور پر بیعت کرنے کی اجازت دی۔
13 جولائی 1944 – مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ بنگلہ والی مسجد میں انتقال کر گئے اور انہیں بنگلہ والی مسجد، نظام الدین کے باہر دفن کیا گیا۔ مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کے تمام اراکین کی مشاورت سے دعوت و تبلیغ کا دوسرا امیر مقرر کیا گیا اور حلف لیا۔ مولانا محمدزکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے رسمی طور پر مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی پگڑی مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سر پر رکھی۔ مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا پہلا بیان ایک درخت کے نیچے، بنگلہ والی مسجد، نظام الدین کے صحن میں تھا۔
تبلیغ میں مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا دور:
1946 – مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پہلی جماعت کو سعودی عرب میں حج کے موسم میں خصوصی طور پر کام کرنے کے لیے بھیجا تھا۔
1946 – مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مولانا عبید اللہ بلیاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو مدینہ منورہ میں مقامی طور پر رہنے اور وہاں عربوں کے درمیان دعوت کا کام شروع کرنے کے لیے بھیجا۔ بعد میں مولانا سعید احمد خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ان کے جانشین ہوئے۔ مولانا سعید احمد خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ انتہائی درویش صفت اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ھوا اور جنت البقیع میں تدفین ھوئی
1947 – حاجی عبدالوہاب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (اس وقت 25 سال) نے لاہور، پاکستان میں رائیونڈ مرکز میں رہائش اختیار کی۔
رائے ونڈ مرکز:
15 اگست 1947 ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ شروع ہوا۔ ہزاروں مسلمانوں نے خوف کے مارے اسلام چھوڑ دیا۔ کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ تمام مشائخ کرام نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ میوات کی ایک بڑی جماعت نے نظام الدین مرکز میں پناہ لی۔ حضرت جی مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ، مولانا منظور نعمانی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، اور مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو ہندوستان نہیں چھوڑنا چاہئے۔ یا تو وہ رہیں یا مر جائیں۔ مولانا زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فتویٰ کونسل پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے لیے ہندوستان نہ چھوڑنے کا فتویٰ جاری کرے۔ اگر یہ فتویٰ جاری نہ ہوتا تو شاید آج ہندوستان میں مسلمان نہ ہوتے۔
1947 اگست مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مرتد بن جانے والے مسلمانوں کو واپس اسلام کی دعوت دینے کے لیے بہت سی سخت گیر جماعتیں بھیجیں۔ یہ جماعتیں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اللہ کی راہ میں شہید ہونے کے لیے تیار ہو گئیں۔
1947 15 ستمبر – مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی اہلیہ کا نماز مغرب کی ادائیگی کے دوران سجدہ کے دوران انتقال ہوگیا۔ ان کے بیٹے مولانا ہارون کی عمر اس وقت صرف 8 سال تھی۔
26 دسمبر 1947 – پاکستان کی ہندوستان سے علیحدگی کے بعد کراچی میں پہلا اجتماع ہوا۔
13 مارچ 1948 – پاکستان میں ایک اجتماع ہوا جس میں مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پاکستان کی ہندوستان سے علیحدگی کے بعد پہلی بار شرکت کی۔ اس اجتماع کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کا مرکز رائے ونڈ لاہور ہوگا۔
1949 – مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کتاب فضائل صدقات مکمل کی۔
30 مارچ 1950 مولانا زبیر الحسن کاندھلوی بن مولانا انعام الحسن پیدا ہوئے۔
1954 11 جنوری – پہلا اجتماع ڈھاکہ، مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش کے قیام سے پہلے) میں منعقد ہوا۔ مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اجتماع میں شرکت کی۔
10 اپریل 1954 – رائیونڈ میں پہلا اجتماع ہوا۔
1960 – مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حیات صحابہ کی پہلی کاپی شائع کی۔
16 اگست 1962ء مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا انتقال ہوا۔ وہ نہ صرف ایک مشہور صوفی شیخ تھے بلکہ دہلی سے سعودی عرب جانے والی تیسری پیدل جماعت قافلہ کے امیر بھی تھے جہاں اس جماعت میں ایک نوجوان مولانا سعید احمد خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ بھی تھے۔
مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ 1965 میں جمعہ کو 14.50 پر لاہور میں انتقال کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر 48 سال تھی۔ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سورة یاسین کی تلاوت کی۔ مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ آخری سانس تک كلمۂ شہادت کا ورد کرتے رہے۔ انہیں اپنے والد مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مقام کے پاس دفن کیا گیا۔
مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا دور:
12 اپریل 1965 – ایک مشورہ مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کروایا۔ اس مشورہ میں یہ طے پایا کہ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کا تیسرا امیر مقرر کیا جانا ہے۔ مشورے کے نتائج کا اعلان مولانا فخرالدین دیوبندی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مولانا عمر پالنپوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بیان (گفتگو) کے بعد کیا۔
مولانا ہارون رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی اس فیصلے کو خوشی سے قبول کیا – مولانا محمد یوسف ؒرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرزند مولانا ہارون رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ خود خوش تھے اور ان لوگوں کے اصرار سے متاثر نہیں ہوئے جو انہیں امیر بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے مشورے کے فیصلے کو کھلے دل سے قبول کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے مشورے کے فیصلے کو ماننے کی اہمیت پر بیانات بھی دیے اور جو بھی فیصلہ ہوا وہی صحیح ہے۔
3 اپریل 1965 – مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بیعت شروع ہوئی۔ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دعوت و تبلیغ کا امیر منتخب کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ بچپن سے لے کر وفات تک مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سب سے قریبی دوست تھے۔ اس کے علاوہ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ بھی مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے دست راست تھے۔ اور مولانا محمد الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے تفصیلی سلوک طے کرکے خلافت بھی پائی تھی۔ اور وہ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نام سے ہی بیعت بھی لیا کرتے تھے۔ وہ مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ساتھ اپنے زیادہ تر دعوتی سفروں میں ساتھ رہے، اس طرح دعوت کے کاموں کو سمجھتے رہے۔
10 مئی 1965 – مولانا سعد کاندھلوی بن مولانا ہارون پیدا ہوئے۔
21 اگست 1967 – مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دعوت و تبلیغ کے امیر مقرر ہونے کے بعد بیرون ملک اپنا پہلا دعوتی سفر کیا۔ یہ سری لنکا کا اجتماع تھا جو 26 سے 30 اگست کے درمیان کولمبو میں منعقد ہوا۔
1967 نومبر – پہلا ٹونگی اجتماع مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش کی تشکیل سے پہلے) میں منعقد ہوا۔
1969 – مولانا ابراہیم دیولہ 36 سال کی عمر میں اپنے 1 سالہ خروج کے لیے ترکی، اردن اور عراق گئے۔ خروج کی مدت 19 ماہ تک بڑھا دی گئی۔23 اپریل 1973 – مولانا محمدزکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے 75 سال کی عمر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
28 ستمبر 1973 – مولانا ہارون کاندھلوی بن مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم (مولانا محمد سعد کے والد) 35 سال کی عمر میں انتقال کر گئے جب انہیں ایک بیماری نے لپیٹ میں لیا اور 13 دن تک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ ان کی نماز جنازہ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پڑھائی۔ اس وقت ان کے بیٹے مولانا محمد سعد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عمر 8 سال تھی۔ تا حیات مولانا عبید اللہ بلیاوی ، مولانا اظہار الحسن نانا جان اور مولانا انعام الحسن صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم نے مولانا محمد سعد کاندھلوی کی احسن انداز میں تربیت فرمائی۔۔
9 اگست 1974 – مولانا زبیر (عمر 25) نے اللہ کی راہ میں ایک سال کا آغاز کیا۔
10 فروری 1978 – مولانا محمد زکریا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (جو مدینہ میں مقیم ھو چکے تھے) نے باضابطہ طور پر مولانا زبیر کو اپنے طریقہ (چشتیہ ) میں بیعت کی اجازت دی۔ یہ تقریب مسجد نبوی کے سامنے منعقد ہوئی۔
مولانا زبیر نے 4 مشائخ سے طریقت کی اجازت حاصل کی ہے: (1) مولانا انعام الحسن، (2) مولانا زکریا، (3) مولانا سعید ابوالحسن علی ندوی، اور (4) مولانا افتخار۔ الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم سے، آپ کی انتہائی پرہیزگاری کی وجہ سے اللہ نے عام مقبولیت نصیب فرما رکھی تھی،
27 جولائی 1980ء مولانا حافظ مقبول رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا انتقال ہوا۔ وہ 1932 میں مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تشکیل کردہ پہلی جماعت کے امیر تھے اور ان کے جانشین (اگلے امیر) کے طور پر مولانا الیاس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا پسندیدہ انتخاب تھا۔ تاہم مولانا شاہ عبدالقادر رائیپوری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مولانا یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی امارت کا بجا فیصلہ کیا۔
24 مئی 1982 – مولانا زکریا کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوا (84 سال کی عمر میں) انہیں قبر صحابہ میں ‘ جنت البقیع ‘ میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کے منہ سے آخری الفاظ تھے؛ ”اللہ… اللہ“۔ آپ کا انتقال مغرب سے پہلے 17:40 پر ہوا اور اسی دن عشاء کے بعد تدفین ہوئی۔
شورائی نظام کا تصور
4 نومبر 1983ء پاکستان میں رائے ونڈ اجتماع منعقد ہوا جس میں تمام بزرگوں نے شرکت کی۔ اس اجتماع کے دوران تبلیغ کے لیے شوریٰ نظام رکھنے کا تصور سب سے پہلے مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے عالمی مشورے کے دوران پیش کیا تھا جو 12 نومبر کو ہونے والے اجتماع کے ایک ہفتہ بعد منعقد ہوا تھا۔اس کے بعد سے مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ہندوستان اور دنیا کے کئی حصوں میں تمام جگہوں پر شورٰی قائم کیں۔
20 مئی 1993 – مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی حالت بگڑ گئی۔ وہ مکہ میں گر گئے۔ 1990 کے بعد سے یہ ساتویں مرتبہ تھی کہ وہ گرے تھے۔
مئی 1993 – حج کے موسم میں مکہ میں مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مفتی زین العابدین، مولانا سعید احمد خان، حاجی افضل، حاجی عبدالمقیت، حاجی عبدالوہاب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم اور کئی دوسرے بزرگوں سے گفتگو کی: ” آپ کو معلوم ہے کہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے۔ میری بیماری کی وجہ سے بہتر یہ ہے کہ یہ کام ایک شوری کرے ۔ یہ کام پہلے ہی پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور اب میرے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے لیے میں ایک شورٰی بنانا چاہتا ہوں جو دعوت کے کام میں مدد کرے۔ ”
14 جون 1993 – نظام الدین مرکز میں، تمام بزرگ مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کمرے میں جمع ہوئے وہ تھے: مولانا سعید احمد خان، مفتی زین العابدین، حاجی افضل، حاجی عبدالمقیت، حاجی عبدالوہاب، مولانا اظہار الحسن، مولانا عمر پالنپوری، اور مولانا زبیر۔اور مولانا محمد سعد کاندھلوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِم
۔حضرت مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حاضرین سے فرمایا کہ اب میری صحت کا حال آپ کو معلوم ہے۔ میری صحت مسلسل گرتی چلی جا رہی ہے جبکہ یہ کام بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ میں اب یہ کام خود سے نہیں سنبھال سکتا۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ پھر فرمایا: اب سے تم میری شوریٰ ہو۔ اور دو مزید شامل کرلیں۔ میانجی محراب اور مولانا محمد سعد کاندھلوی ۔ انشاء اللہ ان دس شورٰی ارکان سے یہ کام چلتا رہے گا۔
شوریٰ اس طرح قائم ہوئی: (1) مولانا سعید احمد خان، (2) مفتی زین العابدین، (3) حاجی افضل صاحب ، (4) حاجی عبدالمقیت، (5) حاجی عبدالوہاب، (6) مولانا اظہار الحسن، (7)۔) مولانامحمد عمر پالنپوری، (8) مولانا زبیر، (9) میاجی محراب میواتی، اور (10) مولانا محمد سعد۔
1993 مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے شورائی نظام اور فیصل کے تقرر کا آغاز
شوریٰ بننے کے بعد مولانا سعید احمد خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تمام مقررہ شوریٰ کے سامنے مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا کہ جب آپ یہاں ہیں تو آپ ہمارے امیر اور فیصل ہیں۔ لیکن اگر آپ نہیں ہیں تو ہم فیصلہ کیسے بنائیں گے؟” مولانا انعام الحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا کہ آپ میں سے باری باری فیصل کا انتخاب کریں۔
ساری زندگی مولانا زبیر الحسن اور مولانا محمد سعد کاندھلوی حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ساتھ تمام سفروں میں شریک رھا کرتے تھے۔
پاکستان میں تبلیغی جماعت کے ذمہ داران کی تقرری
تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرِ اول الحاج شفیع محمد قریشی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
قیام پاکستان کے بعد حضرت جی مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف سے حاجی عبد الوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تشکیل پاکستان کے لیے کی گئی تھی دوتین سال بعد جب پاکستان میں دعوت کے کا کام کو استحکام مل گیا تو پرانے ساتھیوں کی مشاورت سے الحاج محمد شفیع قریشی صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو چار دسمبر 1950 کو پاکستان میں تبلیغی جماعت کا امیر بنایا گیا اور رائے ونڈ لاہور کو تبلیغی جماعت کا مرکز بنایا گیا۔ محمد شفیع قریشی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ متحدہ ہندوستان میں 1904میں پیدا ہوئے قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز زکریا مسجد راولپنڈی سے متصل رہائش اختیار کرلی۔ آپ اکیس سال تک امیر رھنے کے بعد 19 دسمبر 1971 کو پشاور میں ایک سہ روزہ تبلیغی اجتماع کے دوران انتقال فرماگئے اس وقت ان کی عمر67 برس تھی۔
تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرِ دوم الحاج محمد بشیر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
مولانا محمداحسان الحق ر رائے ونڈ کے والد اور حضرت جی مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے قریبی ساتھی الحاج محمد بشیر رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو محمد شفیع قریشی صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بعد تبلیغی جماعت پاکستان کا امیر نامزد کیا گیا آپ اپنی وفات 9 جون 1992 تک تبلیغی جماعت پاکستان کے امیر رہے۔
تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرِ سوم حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
الحاج محمد بشیر صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات کے بعد حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو تبلیغی جماعت پاکستان کا تیسرا امیر مقرر کیا گیا۔ حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا تعلق پنجاب کے ضلع کرنال کے گاؤں راؤ گمتھلہ سے تھا آپ نے انبالہ سے میٹرک کرنے کے بعد اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا جہاں سے پہلے ایف ایس سی پری میڈیکل اور اس کے بعد بی اے کیا ۔ آپ یکم جنوری 1944 کو تبلیغی مرکز نظام الدین تشریف لے گئے اور پورے چھ ماہ مولانا محمد الیاس ؒرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی صحبت میں گزارے اور اس چھ ماہ کی صحبت نے آپ کی زندگی پر وہ نقوش ثبت کیے کہ آپ نے اپنی پوری زندگی اس کام کے لیے وقف کردی۔1954میں سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ میں شرکت کے لیے آمد کے موقع پر جب حضرت جی مولانا محمد یوسف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پاکستان میں دعوت تبلیغ کی محنت کے لیے موت پر بیعت لی تو سب سے پہلے حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کھڑے ہوئے اور عہد کیا کہ اس کے بعد وہ دعوت والی محنت کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کریں گے۔ 18 نومبر 2018 میں حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ رحلت فرماگئے حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کاجنازہ پاکستانی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا رائے ونڈ کے چاروں اطراف تیس چالیس کلومیٹر تک گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں اور ہر شخص کی خواہش تھی کہ کسی طرح حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے جنازے میں شرکت کی سعادت نصیب ہوجائے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کے جنازے میں پندرہ بیس لاکھ لوگوں نے شرکت کی جبکہ پانچ چھ لاکھ افراد ٹریفک میں پھنسے ہونے کی وجہ سے جنازے میں شرکت سے محرو م رہ گئے۔
مولانا ضیاء الحق صاحب نے ایک مرتبہ حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے عرض کی کہ ہندوستان والے ہم سے پوچھتے ہیں کہ اگر حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو کچھ ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟ ہم نے عرض کی کہ ہماری ترتیب یہ ہے کہ حاجی صاحب نہ ہوں تو مولانا نذرالرحمان صاحب فیصلے فرماتے ہیں اور اگر وہ بھی موجود نہ ہوں تو مولانا احمد بٹلہ صاحب مشورے کو لیکر چلتے ہیں اور اگر وہ بھی موجود نہ ہوں تو مولانا خورشید صاحب امور مشورہ کو لیکر چلتے ہیں۔ اس پر حاجی عبدالوہاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ یوں ہی چلتے رہو۔ حاجی صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہ فیصلہ شورٰی کے ارکان کو سنایا گیا تو سب اس پر متفق ہوگئے۔
تبلیغی جماعت پاکستان کے امیرِ چہارم مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
حاجی عبدالوھاب صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے انتقال کے بعد اُن کی وصیت کے مطابق جماعت کی باگ ڈور استاذِ محترم مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو سونپ دی گئی اس طرح مولانا نذرالرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو چوتھا آمیر منتخب کر لیا گیا جو عصر حاضر میں داخلی و خارجی فتنوں کے سد باب اور جماعت کے کام کو انتہائی حکمت اور بصیرت کے ساتھ چلانے کے پیش نظر بجا طور پر اس عظیم مگر نازک ترین منصب کے اہل ہیں۔ 1971ء میں تبلیغ میں ایک سال لگانے کے بعد مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بطورِ مقیم و مدرس مدرسہ عربیہ رائے ونڈ مرکز میں تقرر ہوگیا تھا مولانانذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شروع شروع میں کچھ عرصہ شعبہٴ حفظ میں اپنی خدمات انجام دیں اور پھر اس کے بعد دیگر علوم و فنون کی مختلف کتابیں پڑھانی شروع کردیں۔ مدرسہ عربیہ رائے ونڈ مرکز میں دورہٴ حدیث شروع ہونے سے پہلے ”تفسیر جلالین“ اور مشکوٰة المصابیح“ آپ کے زیر تدریس تھیں۔ 1999ء میں رائے ونڈ میں باقاعدہ دورہٴ حدیث شروع ہوا تو آپ کے حصہ میں ”صحیح مسلم“ ” جامع ترمذی“ اور ”شمائل ترمذی“ آئیں۔ آپ ایک قابل استاذ، کہنہ مشق مدرس اور علم میں بلند مقام کی حامل شخصیت ہے۔2014ء میں استاذِ محترم مولانا جمشید علی صاحب رحمة اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی وفات کے بعد آپ کے حصے میں ”صحیح بخاری جلد اول آئی، جو آپ تاہنوز پڑھارہے ہیں اور اس طرح آپ شیخ الحدیث جیسے عظیم الشان بلند مقام پر بھی فائز ہیں۔ مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ رائے ونڈ مرکز کی گوناگوں مصروفیات، ذاتی اعذار اور پیرانہ سالی کے باوجود انتہائی اہتمام، جاں فشانی اور لگن سے درس دیتے ہیں اور اس دوران بیماری، مشقت اور تکلیف نام کی کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے۔
مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو اللہ تعالیٰ نے علم و فضل ، تقویٰ و طہارت اور خشیت و للہیت میں سے وافر حصہ عطا فرما رکھا ہے۔ استاذِ محترم مولانا عبد الرحمن خان صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی علمی بات سمجھ میں نہیں آتی تو مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ہی سمجھ میں آجاتی ہے۔ آپ” ترکِ مالا یعنی“( لایعنی باتوں ) سے بچنے کی خوب ترغیب دیتے ہیں۔ آپ کی طبیعت اسراف اور فضول خرچی سے اس قدر مکدر ہوتی ہے کہ اسراف فی المال تو درکنار اسراف فی الکلام بھی آپ کے لئے سخت ناگوار بلکہ اذیت ناک ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ مولانا نذر الرحمن صاحب حفظہ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو صحت و تندرستی عطاء فرمائے، ان کی زندگی میں برکت عطاء فرمائے، ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے اور ان سے پوری دُنیا میں دین کی محنت کا خوب کام لے۔ اللہ پاک ان کو صحت و تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین